حرمِ کعبہ میں لاکھوں آنکھیں روزانہ حجرِ اسود کا دیدار کرتی ہیں، مگر حال ہی میں ایک انتہائی ہائی ریزولوشن تصویر نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو حیران کر دیا۔ تقریباً 49,000 میگا پکسل (گیگا پکسل درجے کی) انتہائی باریک تفصیل والی تصویر بنانے کے لیے ہزاروں تصاویر مختلف زاویوں سے لی گئیں اور ان کو جوڑنے میں کافی وقت لگا۔ جب یہ تصویر مکمل ہوئی تو اس نے ایک ایسی حقیقت واضح کر دی جسے عام آنکھ سے دیکھنا تقریباً ناممکن تھا۔
اس حیرت انگیز تصویر میں واضح ہوا کہ جس سیاہ پتھر کو ہم حجرِ اسود کے نام سے دیکھتے ہیں، وہ دراصل ایک مکمل پتھر نہیں بلکہ سات اصل ٹکڑوں پر مشتمل ہے۔ یہ ساتوں ٹکڑے ایک مضبوط فریم اور خاص مادّے کے ذریعے اپنی جگہ محفوظ کیے گئے ہیں تاکہ صدیوں سے محفوظ اس مقدس امانت کو مزید نقصان نہ پہنچے۔یہ منظر بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن تھا، لیکن تاریخ جاننے والے اس حقیقت سے پہلے ہی واقف تھے۔
حجرِ اسود کی اصل تاریخ
اسلامی روایات کے مطابق حجرِ اسود جنت کا پتھر ہے جسے حضرت جبرائیلؑ حضرت ابراہیمؑ کے پاس لائے تھے تاکہ وہ خانۂ کعبہ کی تعمیر کے دوران اسے اس کے مخصوص مقام پر نصب کریں۔ نبی کریم ﷺ نے بعثت سے پہلے قریش کے درمیان ہونے والے مشہور اختلاف کو اپنی حکمت سے حل کرتے ہوئے اسی حجرِ اسود کو اپنے مبارک ہاتھوں سے اس کی جگہ نصب فرمایا۔صدیوں تک یہ مقدس پتھر اپنی جگہ موجود رہا، لیکن تاریخ نے ایک ایسا المناک موڑ بھی دیکھا جس نے اسے ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
حجرِ اسود کی چوری
سن 930ء (317 ہجری) میں قرامطہ نامی ایک باغی گروہ نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا۔ انہوں نے مسجد الحرام میں شدید قتل و غارت کی، بے شمار حجاج کو شہید کیا اور حجرِ اسود کو اس کی جگہ سے اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔
تقریباً 22 سال تک حجرِ اسود مکہ سے دور رہا۔ اس دوران مسلمانوں کے دل غم سے بھرے رہے اور پوری امت اس مقدس امانت کی واپسی کی منتظر رہی۔ بالآخر طویل عرصے کے بعد حجرِ اسود واپس لایا گیا، لیکن وہ اپنی پہلی حالت میں نہیں تھا۔
صرف سات اصل ٹکڑے
تاریخی روایات کے مطابق واپسی کے وقت حجرِ اسود کئی حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ آج جو اصل حصے موجود ہیں، ان کی تعداد سات بتائی جاتی ہے۔ انہی اصل ٹکڑوں کو انتہائی احتیاط کے ساتھ ایک مضبوط مرکب (binding material) میں محفوظ کیا گیا تاکہ وہ مزید ٹوٹنے سے بچ سکیں۔ باہر سے نظر آنے والا سیاہ حصہ دراصل انہی اصل ٹکڑوں کا مجموعہ ہے جو ایک حفاظتی ساخت کے اندر نصب ہیں۔یہ کہنا درست نہیں کہ پورا نظر آنے والا حصہ ایک ہی سالم پتھر ہے؛ بلکہ اصل مقدس اجزاء یہی چند محفوظ ٹکڑے ہیں۔
چاندی کا فریم کیوں لگایا گیا؟
حجرِ اسود کے گرد موجود چاندی کا فریم صرف خوبصورتی کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کا بنیادی مقصد ان قیمتی ٹکڑوں کو مضبوطی سے محفوظ رکھنا ہے۔ تاریخ میں مختلف ادوار میں اس فریم کی مرمت اور تجدید کی جاتی رہی تاکہ زائرین کے بوسہ دینے اور لمس کرنے سے ہونے والے دباؤ کے باوجود پتھر محفوظ رہے۔
49,000 میگا پکسل تصویر میں کیا نظر آیا؟
اس انتہائی باریک تصویر نے پتھر کی سطح پر موجود دراڑیں، قدرتی ساخت، صدیوں کے نشانات اور سات الگ الگ اصل ٹکڑوں کی حدود کو غیر معمولی وضاحت کے ساتھ نمایاں کیا۔ ایسی تفصیل عام کیمرے یا انسانی آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔یہ تصویر سائنسی ٹیکنالوجی کا کمال ضرور ہے، لیکن اس نے کسی نئی مذہبی حقیقت کو دریافت نہیں کیا بلکہ تاریخ میں درج معلومات کو ایک نئے زاویے سے دنیا کے سامنے پیش کیا۔
ایمان کا مرکز پتھر نہیں، اطاعت ہے
حجرِ اسود مسلمانوں کے لیے بے حد مقدس ہے، مگر اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ:
“میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔”یہ الفاظ اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ حجرِ اسود کی تعظیم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی وجہ سے ہے، نہ کہ پتھر میں کسی ذاتی قوت کے اعتقاد کی بنا پر۔