جھوٹا مقدمہ

ملتان پولیس کا انوکھا کارنامہ… ایک بہت بڑے مجرم گینگسٹر کو ہتھکڑیوں میں جکڑ دیا

تھانہ بستی ملوک پولیس سات سالہ بچے اورنگزیب کو ہتھکڑیاں لگا کر کچہری لے آئی،
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے ہتھکڑیاں لگے ایک بچہ ساتھ ایک پولیس اہلکار اور بچے کے ساتھ اس کی والدہ ضلع کچہری کے ایک بینچ پر بیٹھے ہیں۔
بچے کی والدہ کا مؤقف ہے کہ بیٹا تیسری جماعت کا طالب علم ہے، ہمسایوں سے جھگڑے کے بعد جھوٹا مقدمہ درج کرایا گیا، اور ماں کہہ رہی ہیں کا بچے نے رات کا کچھ نہیں کھایا ابھی اس کو کھانا کھلا رہی ہوں۔
ویسے مقدمہ جھوٹا ہو یا سچا اس طرح سے بچے کو ہتھکڑیوں میں جکڑنا، کم سن بچوں کے قانونی حقوق کی خلاف ورزی اور پولیس کے قانونی طریقۂ کار پر سوالیہ نشان ہے؟
کوئی قانون کا ماہر اس پر روشنی ڈالے کیا کسی کم عمر بچے کو ایسے ہتھکڑیاں لگائی جا سکتی ہے؟