پاکستان کالمسٹ ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری سجاد مشتاق مہر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حالیہ جنگی صورتحال نے پوری دنیا کو شدید بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، اس تنازع میں امریکہ اور اسرائیل کے کردار پر دنیا بھر میں مختلف حلقوں کی جانب سے سخت تنقید اور سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ اس کشیدگی کا سب سے زیادہ نقصان مسلم ممالک اور ان کے عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگیں کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات معیشت، تجارت، امن، انسانی جانوں اور علاقائی استحکام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ مسلم ممالک میں بے یقینی، مہنگائی، سرمایہ کاری میں کمی اور انسانی بحران جیسے مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
صدر پاکستان کالمسٹ ایسوسی ایشن چوہدری سجاد مشتاق مہر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امتِ مسلمہ کو اب ہوش کے ناخن لینے کی اشد ضرورت ہے۔ باہمی اختلافات، گروہی سیاست اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اتحاد، یکجہتی اور مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مسلم دنیا اپنے اجتماعی مفادات کا مؤثر انداز میں دفاع کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ مسلم ممالک سفارتی سطح پر مضبوط کردار ادا کریں، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو فروغ دیں اور ایسے فیصلے کریں جو خطے میں امن، انصاف اور استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہوں۔ طاقت کے بجائے مذاکرات اور انصاف پر مبنی حل ہی پائیدار امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ دوہرے معیار سے گریز کرتے ہوئے انسانی جانوں کے تحفظ، بین الاقوامی قوانین کے احترام اور تنازعات کے منصفانہ حل کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے تو انصاف کو ہر قوم کے لیے یکساں بنیاد پر یقینی بنانا ہوگا، کیونکہ یہی عالمی امن اور استحکام کا واحد راستہ ہے۔