ڈولفن فورس

کیا پنجاب میں سٹریٹ کرائم کو روکنے والی “ڈولفن فورس” بند ہو رہی ہے؟

پنجاب پولیس شہروں میں امن و امان برقرار رکھنے والی مشہور اور عوام دوست ‘ڈولفن فورس’ کو مرحلہ وار ختم کرنے اور اس کے اہلکاروں کو روایتی ڈسٹرکٹ پولیس میں ضم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ آئی جی پنجاب کی جانب سے اس حوالے سے ایک تفصیلی تجویز وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھیج دی گئی ہے۔ 500cc ہیوی بائیکس کے اسپیئر پارٹس اور فنڈز کی کمی کی وجہ سے لاہور میں 600 میں سے تقریباً 400 بائیکس خراب کھڑی ہیں۔ فنڈز نہ ہونے کے باعث پیٹرول کے کروڑوں روپے کے واجبات زیر التوا ہیں، جس سے روزمرہ کا گشت متاثر ہو رہا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ ان تربیت یافتہ جوانوں کو تھانوں میں تعینات کر کے روایتی پولیسنگ کو مضبوط کیا جائے۔

2017 میں قائم ہونے والی اس فورس کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ یہ تنگ گلیوں اور رش والے بازاروں میں فوری پہنچ کر سٹریٹ کرائم پر قابو پاتی تھی۔ اگر یہ فورس بند ہوئی، تو گلیوں اور بازاروں میں ڈکیتی اور چھینا جھپٹی کی وارداتوں میں اضافے کا شدید خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ابھی تک اس کا کوئی آفیشل نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا، معاملہ صرف ایک تجویز کی حد تک زیر غور ہے۔