اسرائیل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک چھوڑ کر جانے والے (ہجرت کرنے والے) افراد کی تعداد وہاں نئے آنے والوں سے بھی زیادہ ہو گئی ہے! ماہرین نے اسے اسرائیلی معاشرے میں بڑھتے ہوئے شدید عدم تحفظ اور حکومتی کارکردگی پر ملکی عوام کے کمزور ہوتے اعتماد کا واضح اور بڑا اشارہ قرار دیا ہے۔
نیشنل انشورنس انسٹی ٹیوٹ اور اسرائیلی میڈیا (چینل 12 نیوز) کے سنسنی خیز اعداد و شمار کے مطابق حالیہ برسوں کے دوران 82 ہزار سے زائد افراد کا نام اسرائیل کے قانونی رہائشیوں کی فہرست سے مستقل طور پر خارج کر دیا گیا ہے، کیونکہ یہ لوگ 5 سال سے زائد عرصے سے بیرونِ ملک مقیم ہیں یا اپنی رہائش ختم کر چکے ہیں۔ معروف مالیاتی اخبار ‘گلوبز’ کے مطابق، غیر ملکی پاسپورٹ اور شہریت کے لیے درخواستیں دینے کے لحاظ سے اسرائیل دنیا بھر میں 8ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔
ہجرت کی بنیادی اور ہلا دینے والی وجوہات میں ماہرینِ سماجیات کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں، یرغمالیوں کے بحران اور مسلسل جاری جنگ نے اسرائیلی عوام میں عدم تحفظ کا احساس غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔ تقریباً 5 لاکھ اسرائیلی یورپی پاسپورٹ رکھتے ہیں، جبکہ اتنی ہی تعداد امریکی یا روسی شہریت رکھتی ہے یا اس کی اہل ہے۔ تقریباً 18 فیصد اسرائیلی جرمنی منتقل ہو چکے ہیں، کیونکہ جرمن قوانین کے تحت ہولوکاسٹ کے متاثرین کی اولاد کو شہریت آسانی سے ملتی ہے۔ ہائی ٹیک شعبے سے وابستہ اور لبرل طبقے کے افراد عالمی سطح پر اسرائیل کی بڑھتی تنہائی اور نیتن یاہو کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے ملک چھوڑ رہے ہیں۔