ویسے تو یہاں کوئی دودھ کا دھلا نہیں، پنجاب میں پی ایم ایس افسران کو فیلڈ پوسٹنگز سے دور کر دیا گیا ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پی ایم ایس افسران پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے زیادہ کرپٹ ہوتے ہیں۔ لیکن پرتگال میں 26 ارب ڈوبنے کے حوالے سے جن افسران کی جانب اشارہ کیا جا رہا ہے اس میں پولیس سروس سر فہرست جبکہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس بھی ساتھ ساتھ ہے تاہم صوبائی سروس کے کسی افسر کی طرف اشارہ نہیں جا رہا ۔
صحافی فیصل ادریس بٹ نے مزمل سہروردی کے ساتھ وی لاگ میں بتایا ہے کہ علی ورک نامی پاکستانی شہری نے مبینہ طور پر بڑے بابوؤں کے ساتھ سرمایہ کاری کے نام پر 26 ارب روپے کا فراڈ کیا ہے۔ اس معاملے پر گزشتہ برس وفاقی وزیر خواجہ آصف نے بھی بات کی تھی کہ بیوروکریٹس کی پرتگال میں سرمایہ کاری ہے۔اب پھر یہ خبر دی گئی ہے کہ وہ انویسٹمنٹ ڈوب چکی ہے اور بابوؤں کے ساتھ فراڈ ہو گیا ہے۔ویسے اشاروں سے واضح ہو رہا ہے کہ کون کون سے افسران کی سرمایہ کاری ڈوبی ہے-
پنجاب کے انتظامی سربراہ، سابق پولیس سربراہ، ایک پی ایس پی جو حمزہ شہباز کے قریب ہیں، پولیس سروس کے افسر جن کے پاس دو اہم عہدے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ بابوؤں نے کون سی صنعتیں کھڑی کر رکھیں تھیں جن سے پیسہ نکال کر پرتگال میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی۔ اگر الزام غلط ہے تو تحقیقات ہونی چاہیں۔۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ تمام بابو گریڈ 21 اور 22 کے ہیں۔ خبر دینی تھی۔۔ ویسے سانوں کی۔ جب سب رلے ہوں تو کون کس سے پوچھے گا۔