جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے اینکرپرسن کے جسمانی ریمانڈ پر تحریری حکم جاری کیا- اینکر پرسن ریحان طارق کی طرف سے میاں دائود ایڈووکیٹ پیش ہوئے-قانونی طور پر ایف آئی آر کے متن سے کوئی جرم ثابت نہیں ہوتا، پھر بھی جسمانی ریمانڈ کی حمایت کرتے ہیں- ہم سائبر کرائم ایجنسی کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی خود حمایت کرتے ہیں- ہم رضا کارانہ طور پر سائبر کرائم ایجنسی کو تفتیش کرنے دینا چاہتے ہیں- ہماری بس اتنی استدعا ہے کہ تفتیشی افسر ملزم کا پہلا بیان نیک نیتی سے ہو بہو درج کرے- سائبر کرائم ایجنسی کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ سوال پوچھنا تحقیر کے ذمرے میں آتا ہے- تفتیش افسر کو حکم دیں کہ اگر مناسب سمجھے توکسی معروف عالم سے بھی رہنمائی لے لے- مقدمے کا اندراج ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے- ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196کے تحت وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد ایسے جرائم کا مقدمہ درج ہو سکتا ہے- ایک معلم سے پوچھا گیا جو سوال ملزم سے منسوب کیا جا رہا ہے، وہ قانون کی کسی تعریف کے تحت جرم نہیں ہے- سائبر کرائم ایجنسی سے دبائو کے تحت پوڈ کاسٹ کی گفتگو کا پس منظر حذف کر کے 10سکینڈ کے کلپ کر مقدمہ درج کر دیا- ملزم کیخلاف چار دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ جرم ایک دفعہ کا بھی نہیں بنتا- جو سوال اینکر پرسن سے منسوب کیا گیا ہے، وہ سوال ایف آئی آر کا حصہ بھی نہیں ہے- اینکر پرسن ریحان طارق سے جو سوشل میڈیا اکائونٹس منسوب کئے جا رہے ہیں، وہ ملزم کے ہیں ہی نہیں- ملزم کے وکیل نے رضاکارانہ پہلا جسمانی ریمانڈ دینے کی حمایت کی ہے-تفتیشی افسر ملزم ریحان طارق کا پہلا بیان قانون کے مطابق ہو بہو درج کرے- اگر تفتیشی افسر مناسب سمجھے تو قانون کے مطابق کسی معروف عالم دین سے بھی رہنمائی لے- ملزم کو اس کے اہل خانہ کے ساتھ قانون کے مطابق ملاقات کی بھی اجازت ہوگی- ملزم کو 14جولائی کو دوبارہ عدالت کے روبرو پیش کیا جائے-