اگر میں آج رات دنیا سے چلی جاؤں تو میرے بیٹے کے پاس شاید میرے کفن کے لیے بھی پیسے نہ ہوں۔
لاہور کی ایک بزرگ خاتون نے اپنی بے بسی بیان کرتے ہوئے ایسا جملہ کہا جس نے ہر سننے والے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ان کی آنکھوں میں نمی، اور لہجے میں چھپی بے بسی نے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت سامنے رکھ دی۔
ماں جی نے بتایا کہ میں نے صبح کا ناشتہ کیاہوا ہے اور اب شام کے تقریباً چھ بجنے والے ہیں لیکن میرے پاس کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے گھر کا 66 ہزار روپے کا بجلی کا بل آیا، جو مالی مشکلات کے باعث ادا نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں بجلی کاٹ دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ ماہ سے ہمارا گھر بجلی کے بغیر ہے۔ شدید گرمی اور حبس میں زندگی گزارنا انتہائی مشکل ہو چکا ۔ گھر کے اندر ناقابلِ برداشت گرمی ہے، اس لیے اکثر باہر بیٹھنا پڑتا ہے، مگر لوگوں کے سامنے اپنی مجبوری پر شرمندگی بھی محسوس ہوتی ہے۔
ماں جی کی درد بھری گفتگو نے نہ صرف ان کی ذاتی مشکلات کو اجاگر کیا بلکہ بڑھتی مہنگائی، غربت اور بنیادی سہولیات سے محروم ہزاروں خاندانوں کی خاموش اذیت کو بھی نمایاں کر دیا۔