امریکہ

موت بچوں کو امریکہ سے پاکستان کھینچ لائی ، بچوں کے قتل کا درد ناک واقعہ

یہ بچی اور اس کے تین اور بہن بھائی امریکہ میں سکون کی زندگی بسر کر رہے تھے ایک بد نصیب باپ ناصر ڈوگر صاحب جو زندہ بچ گئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بچے پاکستان آنے کے لئے بے چین تھے مگر انہیں کیا علم تھا کہ یہاں ہر وقت موت رقص کرتی ہے اور بچوں کے سروں پر سائے کی طرح منڈلاتی ہے
پوری فیملی امریکہ میں رہ رہی تھی اچھے کھاتے پیتے تھے لاکھوں روپے کی جیولری ان کے پاس تھی لیکن کس نے اس پوری فیملی کو کھانے میں زہر دے دیا لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں یہ دلخراش واقعہ سامنے آیا جہاں حال ہی میں بیرون ملک سے پاکستان منتقل ہونے والی فیملی کے چار افراد پراسرار حالات میں گھر میں مردہ پائے گئے
یہ بد نصیب فیملی تقریباً 15 دن قبل ہی امریکہ سے پاکستان آئی تھی اور انہوں نے یہاں رہائش اختیار کی تھی واقعے کے وقت فیملی کے سربراہ ناصر ڈوگر گھر سے باہر تھے جبکہ ان کی اہلیہ اور تینوں بچے (جن میں ایک 16 سالہ بیٹا، دوسرا بیٹا اور بیٹی شامل ہیں) گھر پر موجود تھے
اہلِ محلہ کے مطابق گھر سے غیر معمولی آوازیں آنے پر پولیس کو اطلاع دی گئی ریسکیو اور پولیس ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو تینوں بچے گھر کے اندر جاں بحق ہو چکے تھے جبکہ خاتون تشویشناک حالت میں تھی انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم وہ بھی راستے میں دم توڑ گئی
شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اموات کھانے میں کسی زہریلی چیز کے شامل ہونے کے باعث ہوئیں تاہم اصل وجوہات پوسٹ مارٹم اور فارنزک رپورٹ کے بعد ہی سامنے آ سکیں گی
پولیس نے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور فیملی کے سربراہ کو شاملِ تفتیش کر کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔ واقعے کے بعد جاں بحق ہونے والے افراد کے قریبی رشتہ دار بھی موقع پر پہنچ گئے
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ واقع میں گھریلو افراد کے ملوث ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے اور اسی وجہ سے والد کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے مزید کاروائی میں معلوم ہوا ہے کہ رمضان کے مہینے میں اس گھر میں ایک شخص کچھ دن رہ کر گیا ہے اس کی بھی تلاش جاری ہے
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ فیملی کے افراد موبائل فون کے ڈیٹے تک رسائی میں تعاون نہیں کر رہے جس کی وجہ سے دشواری ہو رہی ہے-