Mango

آم گاہ سے آرام گاہ تک۔۔۔ تحریر رانا خالد قمر

جب بھی آم کا سیزن آتا ہے یار دوست اپنے ملتانی سجن متروں کو ٹیگ کرکے ایسی پوسٹیں لگاتے ہیں جس میں ان سے آم کے تحفے کی فرمائش کی جاتی ہے ۔ ملتان سے باہر خاص طور پر لاہور اور اسلام آباد میں بیٹھے دوست اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ملتان آم کی دھرتی ہے ان کی سوچ میں کسی حد تک صداقت بھی ہے کہ جب آپ بذریعہ ریل گاڑی خانیوال پہنچتے ہیں تو آم کے باغات آپ کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں یہ سلسلہ ملتان کے نواحی قصبے قادر پور راں تک پھیل جاتا ہے پھر ملتان سے آگے شجاع آباد تک باغات ہی باغات دکھائی دیتے ہیں تو لوگ ان سب کو ملتان کے “کھاتے” میں ڈال دیتے ہیں اور دوستوں سے آم کی پیٹیوں کی فرمائش شروع کردیتے ہیں ۔۔۔ حقیقت تھوڑی تلخ ہے اس لئے برداشت اور قبول کریں کہ ملتان میں اب آم کے باغات نہیں رہے ضلع ملتان کے آم ضلع خانیوال ۔ضلع مظفر گڑھ یہاں تک کہ ضلع لودھراں سے بھی کم ہوچکے ہیں اور جو تھوڑے بہت بچ گئے ہیں وہ آم ملتان کے “عام” انسان کی پہنچ سے بھی دور ہیں ۔۔۔
کیونکہ ملتان کی دھرتی اب آم گاہ نہیں رہی آم کی آخری آرام گاہ بن چکی ہے اس لئے بہتر ہے کہ آپ دوستوں سے فرمائش چھوڑ کر اسے اس کے اصلی نام سرزمین اولیاء سے ہی لکھیں اور پکاریں ۔