ملتان میں پولیس کی مبینہ غفلت جس میں ایک پنچایت کے دوران فائرنگ کر کے لکی نامی نوجوان کو قتل کر دیا گیا۔ لواحقین نے نعش سڑک پر رکھ کر شدید احتجاج کیا،جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح وائرل ہو گئی۔
مقتول نوجوان لکی کی بہن کے مطابق ملزمان نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی اور ایک دن پہلے سارے اکٹھے ہو کر پنچایت لے کر آئے۔ پنچایت کے بہانے ملزمان مقتول کو گھر سے نکال کر روڈ پر لے گئے، جہاں انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے نوجوان کو ہلاک کر دیا۔
لواحقین کا سب سے سنگین الزام یہ تھا کہ جب سڑک پر یہ پورا ہنگامہ اور فائرنگ ہو رہی تھی تو وہاں پولیس اہلکار موجود تھے۔ بہن نے روتے ہوئے دہائی دی کہ پولیس والوں کے سامنے میرے بھائی کو گولیاں لگیں وہ سب دیکھ رہے تھے لیکن انہوں نے ملزمان کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا.
جب شدید صدمے سے دوچار خاندان انصاف کے حصول اور مقدمے کے لیے تھانے پہنچا تو وہاں موجود پولیس افسران اور اہلکاروں کا رویہ انتہائی غیر انسانی تھا۔ مقتولہ کی بہن کے مطابق پولیس نے ان کی فریاد سننے اور کاروائی کرنے کے بجائے ان کی موبائل فون سے ویڈیوز بنانا شروع کر دیں اور ان کی بے بسی اور رونے پر ہنستے رہے۔ پولیس کے اس رویے اور انصاف نہ ملنے پر مایوس ہو کر لواحقین نے مقتول کی لاش کو ملتان کے ایک اہم چوک پر رکھ کر روڈ بلاک کر دی۔ مقتول کی بہن روتے ہوئے یہ دلخراش مطالبہ دہرایا کہ جس نے میرے بھائی کو مارا ہے اس کی نعش بھی یہاں لا کر رکھو ہمیں صرف انصاف چاہیے۔