یہ حقیقت ہے کہ ملک میں بجلی کی کمی نہیں، بجلی تو ضرورت سے زائد ہے۔ یہ دراصل نظام کی نااہلی ہے جو عوام کو اندھیروں میں دھکیل رہی ہے۔
گرمی اور حبس کے اس موسم میں شہروں سے دیہات تک اچانک شروع ہونے والی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کو ایک بار پھر عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔ دن کو کاروبار، صنعت اور روزگار متاثر ہوتے ہیں اور رات کو جب بچے، بزرگ اور بیمار افراد گہری نیند میں ہوتے ہیں تو اچانک بجلی چلی جاتی ہے۔ پنکھے اور اے سی بند ہوتے ہی گھروں میں حبس پھیل جاتا ہے اور چند لمحوں میں سکون اذیت میں بدل جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ملک میں بجلی کی پیداواری صلاحیت طلب سے زیادہ ہے تو پھر یہ لوڈشیڈنگ کیوں؟
اصل مسئلہ شاید بجلی کی پیداوار کا نہیں بلکہ اسے صارفین تک پہنچانے کے نظام کا ہے۔ آڈیٹر جنرل کی سالانہ رپورٹ میں سامنے آنے والے انکشافات نے بجلی کے شعبے کی ناقص منصوبہ بندی اور انتظامی کمزوریوں پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹرانسمیشن لائنوں کو مکمل استعداد کے مطابق استعمال نہ کرنے سے صارفین پر 86 ارب 45 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔ رپورٹ میں پیداواری صلاحیت موجود ہونے کے باوجود سستی بجلی صارفین تک نہ پہنچنے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض ٹرانسمیشن لائنوں کی ترسیلی صلاحیت 4 ہزار میگاواٹ تک ہے، مگر انہیں تقریباً 47 فیصد صلاحیت پر چلایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ٹرانسمیشن نظام کی خامیوں کے باعث کیپیسٹی پیمنٹ کا سالانہ حجم تقریباً 1900 ارب روپے تک پہنچنے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو پھر یہ محض بجلی کا بحران نہیں بلکہ قومی وسائل کے ناقص استعمال اور ناقص منصوبہ بندی کا بحران بھی ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ ہم نے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تو بڑھا لی لیکن اسے صارفین تک پہنچانے کے لیے ترسیلی نظام کو اسی رفتار سے مضبوط نہیں کیا۔ بوسیدہ ٹرانسمیشن لائنیں، اوورلوڈ ٹرانسفارمرز اور کم استعداد والے گرڈ اسٹیشنز پورے نظام کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ جب نظام پر بوجھ بڑھتا ہے تو اس کا آسان حل لوڈشیڈنگ کی صورت میں نکال لیا جاتا ہے۔ یعنی نظام کی خرابی بھی عوام برداشت کریں، بجلی کی مہنگائی بھی عوام برداشت کریں، مختلف ٹیکسز اور سرچارجز بھی عوام ادا کریں، کیپیسٹی پیمنٹس کا بوجھ بھی عوام اٹھائیں اور آخر میں بجلی کی عدم فراہمی کی سزا بھی عوام بھگتیں۔ یہ کیسا نظام ہے؟
بجلی کے صارفین ہر ماہ بھاری بھرکم بل ادا کرتے ہیں۔ ان بلوں میں بجلی کی اصل قیمت کے علاوہ مختلف ٹیکسز، سرچارجز اور دیگر مدات شامل ہوتی ہیں۔ اگر صارف بل ادا نہ کرے تو اس کا کنکشن کاٹنے میں کوئی تاخیر نہیں کی جاتی، لیکن اگر بجلی فراہم کرنے والا ادارہ گھنٹوں بجلی بند رکھے تو صارف کس سے پوچھے کہ اس کی ادا کردہ رقم کے بدلے اسے پوری بجلی کیوں نہیں دی جا رہی؟
بوسیدہ تاروں کو تبدیل کرنا، ٹرانسمیشن لائنوں کو اپ گریڈ کرنا، نئے گرڈ اسٹیشنز تعمیر کرنا اور اوورلوڈ ٹرانسفارمرز کی استعداد بڑھانا کس کی ذمہ داری ہے؟ یقیناً عوام کا کام نہیں ہے۔ یہ حکومت اور بجلی کے متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ عوام نے اپنا حصہ ادا کر دیا، اب اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔
سب سے افسوسناک امر یہ ہے کہ بجلی چوری اور لائن لاسز کا بوجھ بھی بالآخر ایماندار صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ جو شہری باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں، انہیں چوروں اور نادہندگان کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔ بجلی چوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی اور تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کا شفاف احتساب وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بجلی کے بھاری بلوں اور غیر یقینی فراہمی سے تنگ آ کر عوام تیزی سے سولر انرجی کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ صارفین کی سولر پر تیزی سے منتقلی حکومت کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ لوگ متبادل تلاش کر رہے ہیں کیونکہ وہ مہنگی اور غیر یقینی بجلی کے نظام سے تنگ آ چکے ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ کبھی لینڈ لائن فون کے کنکشن کے لیے لوگ برسوں انتظار کرتے تھے، لیکن موبائل فون کی آمد نے پورا منظرنامہ بدل دیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ لینڈ لائن کی ضرورت ہی کم ہو گئی ہے۔ بجلی کے شعبے میں بھی اگر عوام کو مسلسل مہنگی بجلی، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بھاری بلوں کا سامنا رہا تو وہ بھی اپنے لیے متبادل تلاش کر لیں گے۔
وہ دن زیادہ دور نہیں جب بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو صارفین کی تلاش میں جانا پڑے اور صارف جواب دے:
“شکریہ! اب ہمیں آپ کی بجلی کی ضرورت نہیں، ہم اپنی بجلی خود پیدا کرتے ہیں۔”
یہ صورتحال کسی ایک ادارے کے لیے نہیں بلکہ پورے توانائی نظام کے لیے خطرناک ہوگی۔ اس سے پہلے کہ یہ نوبت آئے، حکومت کو بجلی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ پرانی ٹرانسمیشن لائنوں کی فوری تبدیلی، گرڈ اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن، اوورلوڈ ٹرانسفارمرز کی تبدیلی، بجلی کے ترسیلی نقصانات میں کمی، بجلی چوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کا آزادانہ آڈٹ اور صارفین پر غیر ضروری مالی بوجھ کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
ساتھ ہی حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ اگر کسی تکنیکی مجبوری کے باعث بجلی بند کرنا ضروری ہو تو صارفین کو پیشگی اطلاع دی جائے۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کسی بھی مہذب نظام کی علامت نہیں۔ اس سے لوگوں کے کاروبار متاثر ہوتے ہیں۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے انکشافات کو محض ایک سرکاری رپورٹ سمجھ کر فائلوں میں دفن نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت کو فوری طور پر تحقیقات کرانی چاہئیں کہ جب بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود تھی تو اسے صارفین تک پہنچانے کے لیے ترسیلی نظام کیوں نہ بنایا گیا؟ اربوں روپے کا اضافی بوجھ صارفین پر کیوں پڑا؟ کیپیسٹی پیمنٹس میں مسلسل اضافہ کیوں ہوا؟ اور بجلی کے نظام کی کمزوریوں کا ذمہ دار کون ہے؟
عوام کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ بجلی موجود ہے۔ انہیں بجلی ملنی بھی چاہیے۔ یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، عملی اقدامات کا ہے۔ پاکستان کو مزید بجلی گھر بنانے کے ساتھ ساتھ اپنی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کا بنیادی ڈھانچہ بھی جدید بنانا ہوگا۔ حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ بجلی آج عیاشی نہیں، زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ ایک طالب علم کی تعلیم، ایک مزدور کا روزگار، ایک مریض کی زندگی، ایک صنعت کی پیداوار اور ایک گھر کا سکون بجلی سے جڑا ہوا ہے۔ عوام ہر ماہ بل ادا کرکے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ اب حکومت اور بجلی کے اداروں کو بھی اپنا فرض ادا کرنا ہوگا۔ عوام صرف بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے نہیں، بجلی استعمال کرنے کے لیے ہیں۔
اگر بجلی موجود ہے تو لوڈشیڈنگ ختم کی جائے۔ اگر بجلی نہیں پہنچ رہی تو ترسیلی نظام بہتر بنایا جائے۔ اور اگر نظام کی خرابی کی سزا عوام کو دی جاتی رہی تو یاد رکھنا چاہیے کہ عوام کے پاس بھی متبادل موجود ہیں۔