انجینئر بخت سید یوسفزئی - قلمِ حق

ایران کی دھمکی، برطانیہ بھی الرٹ تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ کو انتہائی نازک اور خطرناک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ مسلسل فوجی کارروائیوں، سخت بیانات اور جوابی حملوں نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی برادری کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
امریکی فوج نے مسلسل تیرہویں رات بھی ایران کے جنوبی علاقوں میں فضائی حملے کیے۔ امریکی حکام کے مطابق ان حملوں کا ہدف ایرانی فوج کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نظام اور دیگر اہم فوجی تنصیبات تھیں۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں مستقبل میں ممکنہ خطرات کو روکنے اور اپنے فوجیوں کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہیں۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران سے منسلک بعض گروہوں کی سرگرمیوں میں حالیہ دنوں اضافہ دیکھا گیا، جس کے باعث پیشگی دفاعی اقدامات ضروری ہو گئے۔ امریکی حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد عام شہریوں کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ صرف ان فوجی اہداف کو تباہ کرنا تھا جنہیں امریکہ اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے ان امریکی حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور اپنی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی جارحیت کو خاموشی سے برداشت نہیں کرے گی اور اپنے قومی دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے اعلان کیا کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں اردن اور شمالی کویت میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور ان کا مقصد امریکہ کو یہ پیغام دینا تھا کہ ایران کسی بھی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگرچہ ایران کے اس دعوے کی تمام تفصیلات آزاد ذرائع سے مکمل طور پر تصدیق نہیں ہو سکیں، تاہم اس اعلان کے بعد پورے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال مزید سخت کر دی گئی ہے۔ امریکی اور اتحادی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ حساس فوجی تنصیبات کی نگرانی میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی قیادت نے مزید خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو ان تمام فضائی اڈوں کو ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے جہاں سے امریکی افواج اپنے آپریشنز انجام دیتی ہیں۔ اس بیان نے خطے کے متعدد ممالک میں تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ ایران نے بالخصوص ان فضائی اڈوں کا ذکر کیا ہے جو برطانیہ سمیت مختلف اتحادی ممالک میں امریکی فوجی تعاون کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس بیان کے بعد یورپی ممالک نے بھی اپنی دفاعی تیاریوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ اپنی قومی سلامتی اور فوجی تنصیبات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق برطانوی افواج ہر ممکن خطرے کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور صورتحال پر مسلسل گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ برطانوی حکام نے مزید واضح کیا کہ برطانیہ کشیدگی میں اضافے کا خواہاں نہیں، تاہم اگر اس کے فوجی اڈوں، اہلکاروں یا قومی مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو مناسب دفاعی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے مختلف سکیورٹی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، کیونکہ امریکہ اور ایران دونوں ایک دوسرے پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں کسی بھی غلط فیصلے یا غیر متوقع واقعے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر فوجی تصادم شروع ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو صرف امریکہ اور ایران ہی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ اس صورت میں پورے خطے میں سیاسی عدم استحکام، انسانی بحران اور معاشی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکی فوج نے خطے میں موجود اپنے اہم فوجی اڈوں پر دفاعی انتظامات مزید مضبوط کر دیے ہیں۔ جدید فضائی دفاعی نظام، نگرانی کے آلات اور اضافی فوجی دستے تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کا فوری اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔ دوسری جانب ایران بھی اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔ مختلف فوجی تنصیبات پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے جبکہ میزائل اور ڈرون یونٹس کو بھی مکمل الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور کئی دیگر عالمی طاقتوں نے دونوں ممالک سے فوری تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی مذاکرات کی طرف واپس آنے کی اپیل کی ہے۔ عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ اس سے مزید تباہی اور انسانی نقصان جنم لیتا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی اس کشیدگی کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کے باعث محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں جبکہ توانائی کی عالمی منڈیوں میں بھی بے چینی دیکھی جا رہی ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ عالمی تیل کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران صرف فوجی نوعیت کا نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں کئی برسوں پر محیط سیاسی اختلافات، پابندیاں، علاقائی اثرورسوخ کی جنگ اور باہمی عدم اعتماد بھی شامل ہیں، جنہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو یہ تنازع مزید ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، جس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سلامتی، تجارت اور توانائی کے نظام کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ خطے کے عوام اس کشیدگی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ہر نئے حملے اور ہر نئے بیان کے بعد عام شہریوں میں خوف، بے یقینی اور مستقبل کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ امن کی امیدیں بھی کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔
فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور کی جنگوں میں ڈرونز، میزائلوں، سائبر حملوں اور فضائی طاقت کا استعمال روایتی جنگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے، اور موجودہ تنازع اس بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملی کی واضح مثال بن رہا ہے۔امریکہ اور ایران دونوں اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ امریکہ اپنے فوجیوں اور اتحادی ممالک کے دفاع کو اولین ترجیح قرار دے رہا ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرزمین، خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا آنے والے دنوں میں سفارتی رابطوں کے ذریعے اس بحران کو کم کیا جا سکے گا یا فوجی کارروائیوں کا یہ سلسلہ مزید شدت اختیار کر کے پورے خطے کو ایک بڑے تصادم کی طرف دھکیل دے گا۔موجودہ صورتحال ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جنگ کا آغاز چند لمحوں میں ہو سکتا ہے، مگر اس کے تباہ کن اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی رہنما مذاکرات، تحمل اور سفارت کاری کو ہی اس خطرناک بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر اور پائیدار راستہ قرار دے رہے ہیں۔