ایم فاروق انجم بھٹہ

جرمانوں کا نظام یا عوام پر یکطرفہ بوجھ؟ ریاستی ذمہ داریوں کا سوال، تحریر: ایم فاروق انجم بھٹہ

پاکستان میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ہیلمٹ نہ پہننے ، غلط پارکنگ، ون وے کی خلاف ورزی، بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے، ٹریفک سگنل توڑنے، ممنوعہ راستے میں داخل ہونے اور غیر معیاری پلاسٹک ہیلمٹ پہننے پر ہزاروں روپے جرمانہ لیا جاتا ہے۔ قانون کی پاسداری ہر مہذب معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے، اور شہریوں پر لازم ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف شہری ہی اپنی ذمہ داریوں کے پابند ہیں یا ریاست اور متعلقہ اداروں پر بھی کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں؟
بدقسمتی سے ہمارے ہاں قانون کا اطلاق اکثر یکطرفہ دکھائی دیتا ہے۔ عوام سے تو جرمانے وصول کیے جاتے ہیں، مگر جب ریاستی اداروں کی غفلت اور نااہلی سے مسائل جنم لیتے ہیں تو کسی کے خلاف کوئی کارروائی نظر نہیں آتی۔ شہروں اور دیہات کی بیشتر سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ جگہ جگہ گڑھے اور کھڈے موجود ہیں جو حادثات کا سبب بنتے ہیں، مگر ان کی بروقت مرمت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی موٹر سائیکل سوار ان گڑھوں کی وجہ سے گر کر زخمی ہو جائے تو اس نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا کسی متعلقہ افسر یا ادارے سے کبھی جواب طلبی کی جاتی ہے؟
اسی طرح بیشتر گلیوں اور سڑکوں پر سیوریج کا پانی کھڑا رہنا معمول بن چکا ہے۔ بارش کے بعد کئی کئی دن پانی نہیں نکلتا، جس سے شہریوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوتی ہے اور مختلف بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ مین ہولز کے ڈھکن غائب ہونا بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ روزانہ موٹر سائیکل سوار، پیدل چلنے والے اور معصوم بچے ان کھلے مین ہولز کا شکار بنتے ہیں، مگر کسی متعلقہ ادارے کو اس کی ذمہ داری قبول کرتے نہیں دیکھا جاتا۔
سرکاری ہسپتالوں کی حالت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ عام شہری ٹیکس ادا کرتے ہیں، مگر جب علاج کے لیے ہسپتال پہنچتے ہیں تو اکثر ضروری ادویات دستیاب نہیں ہوتیں۔ مریضوں کو بازار سے مہنگی دوائیں خریدنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عوام اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے تو کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ بنیادی طبی سہولیات مہیا کرے؟
ٹریفک سگنلز کی خرابی بھی کئی حادثات کا سبب بنتی ہے۔ بعض مقامات پر سگنلز ہفتوں خراب رہتے ہیں، مگر ان کی بروقت مرمت نہیں کی جاتی۔ اسی طرح سڑکوں کی کھدائی کے بعد انہیں مہینوں تک ادھورا چھوڑ دیا جاتا ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فٹ پاتھوں پر تجاوزات قائم ہیں، سڑکوں پر سیاسی بینرز اور فلیکس آویزاں کیے جاتے ہیں، کچرا کنڈیاں ابل رہی ہوتی ہیں اور رات کے وقت کئی علاقوں میں اسٹریٹ لائٹس بند ہونے کی وجہ سے حادثات اور جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان تمام مسائل کا ذمہ دار آخر کون ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ شہریوں کے حقوق اور فرائض ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ عوام کو قانون کی پابندی ضرور کرنی چاہیے، لیکن ریاست بھی آئین اور قانون کے مطابق عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی پابند ہے۔ اگر حکومت صرف جرمانے وصول کرنے کو اپنی ذمہ داری سمجھے اور عوام کو محفوظ سڑکیں، صاف ماحول، مؤثر نکاسی آب، معیاری صحت اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم نہ کرے تو عوام میں احساسِ محرومی پیدا ہونا فطری بات ہے۔
پاکستان کو وجود میں آئے تقریباً اناسی برس ہو چکے ہیں، لیکن آج بھی ہر مون سون میں بڑے شہر اور قصبے پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ ہر سال سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے، اربوں روپے کے نقصانات ہوتے ہیں، قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور پھر وقتی بیانات کے بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج تک ایسا جامع اور دیرپا نظام قائم نہیں کیا جا سکا جو بارش اور سیلابی پانی کی مؤثر نکاسی کو یقینی بنا سکے۔
اکثر علاقوں میں سیوریج لائنوں کے لیے چھ، آٹھ، دس یا بارہ انچ قطر کے پائپ استعمال کیے جاتے ہیں، جو معمول کی بارش میں بھی پانی کا دباؤ برداشت نہیں کر پاتے۔ جب موسلادھار بارش ہوتی ہے تو یہی ناکافی منصوبہ بندی پورے شہر کو تالاب میں تبدیل کر دیتی ہے۔ مسئلہ صرف پائپوں کے سائز کا نہیں بلکہ منصوبہ بندی، نگرانی اور دیکھ بھال کا بھی ہے۔ اگر نکاسی آب کے نظام کی باقاعدہ صفائی، توسیع اور مرمت کی جائے تو بہت سے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔
پاکستان کا ہر شہری کسی نہ کسی شکل میں ٹیکس ادا کرتا ہے۔ چاہے وہ امیر ہو یا غریب، روزمرہ استعمال کی بیشتر اشیاء پر مختلف اقسام کے ٹیکس شامل ہوتے ہیں۔ بجلی، گیس، پیٹرول، موبائل فون، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی پر عوام سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ جب عوام اپنا مالی فرض ادا کر رہی ہے تو اسے اس کے بدلے معیاری سڑکیں، مؤثر سیوریج، صاف ماحول، بہتر صحت، محفوظ ٹریفک نظام اور بنیادی شہری سہولیات بھی ملنی چاہئیں۔
بدقسمتی سے اکثر ترقیاتی منصوبوں میں ناقص میٹریل استعمال ہونے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ نئی تعمیر ہونے والی سڑکیں چند ماہ بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں، نالیاں بند پڑی رہتی ہیں اور سیم نالوں کی صفائی نہ ہونے کے باعث پانی کی نکاسی رک جاتی ہے۔ کئی شہری خود بھی کچرا نالوں میں پھینک کر مسائل میں اضافہ کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ اداروں کی نگرانی اور صفائی کے نظام میں بھی واضح کمزوریاں موجود ہیں۔ اگر مؤثر چیک اینڈ بیلنس، شفافیت اور احتساب کا نظام قائم ہو تو نہ صرف سرکاری وسائل کا ضیاع روکا جا سکتا ہے بلکہ عوام کو بہتر سہولیات بھی فراہم کی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف حکومت کو قصوروار ٹھہرا کر تمام مسائل حل نہیں ہوں گے۔ عوام پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کرے، ہیلمٹ استعمال کرے، صفائی کا خیال رکھے، نالوں میں کچرا نہ پھینکے، تجاوزات سے اجتناب کرے اور قومی املاک کی حفاظت کرے۔ ترقی یافتہ معاشرے حکومت اور عوام دونوں کی مشترکہ ذمہ داریوں سے وجود میں آتے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور شہریوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط کیا جائے۔ عوام سے وصول کیے جانے والے ٹیکسوں کو دیانت داری کے ساتھ عوامی فلاح پر خرچ کیا جائے، نکاسی آب کے جدید نظام قائم کیے جائیں، سڑکوں کی معیاری تعمیر کو یقینی بنایا جائے، کرپشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور متعلقہ اداروں کو ان کی کارکردگی کا جواب دہ بنایا جائے۔ دوسری طرف شہری بھی قانون کی مکمل پابندی کریں، صفائی اور نظم و ضبط کا خیال رکھیں اور اپنے فرائض کو ذمہ داری سے ادا کریں۔
ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان صرف جرمانوں سے نہیں بلکہ انصاف، دیانت دار حکمرانی، مؤثر منصوبہ بندی اور باہمی ذمہ داری کے احساس سے تعمیر ہوگا۔ جب عوام کو یہ یقین ہوگا کہ ان کے ٹیکس انہی کی فلاح پر خرچ ہو رہے ہیں، ادارے اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھا رہے ہیں اور احتساب سب کے لیے یکساں ہے، تب ہی ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد بحال ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک محفوظ، منظم، ترقی یافتہ اور عوام دوست ریاست بنا سکتا ہے۔