پاکستانی سیاست میں بعض کردار اقتدار کے اصل وارث نہیں ہوتے، لیکن اقتدار کی سب سے بھاری قیمت انہی کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ ان کی سیاسی زندگی کا بڑا حصہ اپنے فیصلوں سے زیادہ اپنے خاندان کی سیاسی حکمت عملی کے نتائج بھگتنے میں گزرتا ہے۔ آصف علی زرداری اور حمزہ شہباز دو مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں، مگر ان کی سیاسی زندگی میں ایک حیران کن مماثلت دکھائی دیتی ہے۔
آصف علی زرداری ایک بااثر سندھی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، مگر قومی سیاست میں ان کی اصل شناخت محترمہ بے نظیر بھٹو سے شادی کے بعد بنی۔ اس کے بعد وہ صرف ایک سیاسی رہنما کے شوہر نہیں رہے بلکہ پاکستان کی طاقت کی سیاست کا ایک اہم کردار بن گئے۔ مختلف ادوار میں یہ تاثر عام رہا کہ جب بھی بے نظیر بھٹو پر سیاسی دباؤ بڑھانا مقصود ہوتا تو اس کا رخ آصف علی زرداری کی طرف بھی مڑ جاتا تھا۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی انہیں مختلف نوعیت کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اصل آزمائش بے نظیر بھٹو کی دونوں منتخب حکومتوں کے خاتمے کے بعد شروع ہوئی۔ جب بھی ان کی حکومت برطرف ہوئی، آصف علی زرداری گرفتار ہو گئے۔ بے نظیر بھٹو کبھی جلاوطنی میں ہوتیں تو زرداری پاکستان کی جیلوں میں ہوتے۔ ان پر کرپشن، سرے محل، ایس جی ایس، اے آر وائی، اسٹڈ فارم اور دیگر مقدمات قائم کیے گئے۔ “مسٹر ٹین پرسنٹ” کا سیاسی بیانیہ بھی اسی دور کی پیداوار تھا، جبکہ مخالفین نے یہاں تک الزام لگایا کہ سرکاری خرچ پر گھوڑوں کو مربہ کھلایا جاتا رہا۔ وقت کے ساتھ ان میں سے متعدد مقدمات ختم ہوئے، کئی میں عدالتوں نے انہیں ریلیف دیا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی برس جیلوں، عدالتوں اور طویل قانونی جنگ میں گزارے۔
مسلم لیگ (ن) کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ کردار حمزہ شہباز کے حصے میں آتا دکھائی دیتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب نواز شریف خاندان جدہ معاہدے کے تحت ملک سے باہر گیا تو حمزہ شہباز پاکستان میں رہے۔ سیاسی حلقوں میں اس وقت یہ تاثر موجود تھا کہ ان کی موجودگی ایک طرح کی سیاسی ضمانت تھی اور اگر معاہدے کے حوالے سے کوئی پیچیدگی پیدا ہوتی تو اس کا فوری دباؤ پاکستان میں موجود خاندان کے فرد پر آ سکتا تھا-
بعد کے برسوں میں بھی جب مسلم لیگ (ن) اور ریاستی اداروں کے درمیان کشیدگی بڑھی تو حمزہ شہباز متعدد مقدمات، نیب تحقیقات اور گرفتاریوں کا سامنا کرتے رہے۔ رمضان شوگر ملز کیس، منی لانڈرنگ کیس اور آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمات میں وہ کئی ماہ جیل میں رہے۔ مسلم لیگ (ن) نے ان کارروائیوں کو سیاسی انتقام قرار دیا، جبکہ ریاستی اداروں کا مؤقف ہمیشہ یہ رہا کہ کارروائیاں قانون کے مطابق کی جا رہی ہیں۔ بعد ازاں مختلف مقدمات میں انہیں ضمانت اور عدالتی ریلیف بھی ملا۔
یہ کہنا شاید مبالغہ نہ ہو کہ آصف علی زرداری اور حمزہ شہباز اپنی اپنی جماعتوں میں ایسے کردار رہے جنہوں نے اکثر اپنے قائدین سے زیادہ ان کی سیاست کی قیمت ادا کی۔ ایک پر ہاتھ ڈال کر بے نظیر بھٹو تک سیاسی پیغام پہنچانے کی کوشش سمجھی جاتی رہی، جبکہ دوسرے کی گرفتاریوں کو نواز شریف خاندان پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا۔ یہ تاثر درست تھا یا نہیں، اس پر رائے مختلف ہو سکتی ہے، لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ بیانیہ مسلسل موجود رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں شخصیات بالآخر اپنی اپنی جماعتوں میں مرکزی حیثیت اختیار کر گئیں۔ آصف علی زرداری بعد ازاں صدرِ پاکستان بنے، جبکہ حمزہ شہباز پنجاب کے وزیراعلیٰ کے منصب تک تو پہنچے لیکن تہ۔نہ سکے اور جب رہنے کا مقام۔آیا تو ڈرائیونگ سیٹ پر کوئی اور تھا۔ گویا جن لوگوں نے برسوں سیاسی دباؤ، مقدمات اور قید و بند کا سامنا کیا، ان میں سے ایک اقتدار کے اعلیٰ ایوان تک پہنچا مگر دوسرا اپنا مقام نہ پا سکا
یہ محض دو افراد کی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک مستقل رجحان کی عکاسی ہے، جہاں اصل سیاسی قیادت تک دباؤ پہنچانے کے لیے اکثر اس کے قریب ترین افراد ریاستی کارروائیوں کی زد میں آتے رہے۔ اس روایت پر اختلاف کیا جا سکتا ہے، اس کی توجیہات بھی پیش کی جا سکتی ہیں، مگر اس کے وجود سے انکار کرنا مشکل ہے۔
شاید اسی لیے پاکستان کی سیاست کا یہ باب ایک سوال چھوڑ جاتا ہے: کیا ہمارے ہاں احتساب ہمیشہ صرف قانون کی بنیاد پر ہوتا رہا، یا بعض اوقات قانون بھی سیاسی طاقت کی کشمکش کا ایک ہتھیار بن گیا؟ اور اگر ایسا تھا تو پھر تاریخ آصف علی زرداری اور حمزہ شہباز کو صرف دو سیاست دانوں کے طور پر نہیں، بلکہ اپنی اپنی جماعتوں کے “سیاسی یرغمال” کے طور پر بھی یاد رکھے گی۔