Manzar Nama

خطے میں بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال , امریکہ تنہائی کا شکار-تحریر: منظور ملک

خطے میں بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کو دیکھتے ہوئے امریکہ تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ اتحادیوں کیساتھ تعلقات بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے اگر یہ کوشش نہیں کرتا تو چائنہ کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ امریکہ کو انخلا پر مجبور کر رہا ہے۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ وہ اگر جیو پولیٹیکل شفٹنگ کو تسلیم کرتا ہے اس کے نتیجے میں اس کا سیکیورٹی بلاک ٹوٹ جاتا ہے تو نیا آنے والا اتحاد اسی کے اثرورسوخ میں قائم رہے۔ اس لئے وہ چاہتا ہے کہ سیکیورٹی بلاک اور ملٹری ٹیکنالوجی کا انحصار اس پر کیا جائے۔ امریکہ نے پاکستان ایئر فورس کے F-16طیاروں کے لئے 686 ملین ڈالر کے اپ گریڈیشن پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔ اس میں جدید ایویونکس، Secure Communications system اور 2040ء تک کے لئے لاجسٹک سپورٹ شامل ہے۔ اگر امریکہ کو اس نئے بننے والے اتحاد کی ضرورت نہ ہوتی تو امریکہ اس پیکج کی منظوری نہ دیتا اور ترکیہ و سعودی عرب کو F-35 طیاروں کی آفر بھی نہ کرواتا۔ پاکستان کے فائٹرز جیٹ طیاروں کی منظوری جیو پولیٹیکل حقائق سے جڑی ہوئی ہے۔اس کو بالکل بھی اگنور نہیں کیا جاسکتا پاکستان اس وقت اپنے 80 فیصد سے زائد ہتھیار و ٹیکنالوجی چائنہ سے حاصل کر رہا ہے اور اس کی بنیاد پر آگے بڑھ رہا ہے اس سے خطے میں امریکی اثر و رسوخ تیزی سے کم ہو رہا تھا۔ اگر امریکا اس اپ گریڈیشن کی منظوری نہ دیتا تو پاکستان اپنے F-16 طیاروں کو مرحلہ وار ریٹائر کر کے چین سے مزید J-10 CE جنگی طیارے خریدنے پر مجبور ہوتا۔جیو پولیٹکس پرائم کی رپورٹس کے مطابق پاکستان چین کے جدید ترین 5th جنریشن، J-35اسٹیلتھ فائٹرز اور HQ-19 ایئر ڈیفنس سسٹمز حاصل کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔ لیکن چائنہ پاکستان کو نہیں دے گا۔ کیونکہ اس سے خطے کا توازن بدل جائے گا۔ جو کہ چائنہ کیلئے بڑی مشکلات کھڑی کر دے گا۔ اور چائنہ یہ والی مصیبت کسی صورت اپنے گلے میں نہیں لٹکائے گا۔ پاکستان کو بھی اس چیز کا علم ہے اس وجہ سے ایف 16 کی آپ گریڈیشن کیطرف گئے ہیں۔ امریکہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ ابھرتا ہوا ممکنہ طور پر پاکستان، ترکیہ ، مصر ، سعودی عرب، قطر اور کویت کا سنی نیٹو (Sunni NATO) سیکیورٹی بلاک ملٹری ٹیکنالوجی کے لئے امریکا پر ہی انحصار کرے اور اس کے اتحادی رہیں۔ یہ پیکج صرف پاکستان کو نہیں مل رہا بلکہ ترکیہ کو بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے، امریکا ترکیہ کو F-35 طیاروں کی ترغیب دے کر اور پابندیاں ختم کرنے کا وعدہ کر کے روس سے خریدا ہوا S-400 ائیر ڈیفنس سسٹمز سے دستبردار کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور نئے ابھرتے ہوئے سنی نیٹو اتحاد میں یہ دونوں ممالک ملٹری پاور رکھتے ہیں ان کا اثرورسوخ ان ممالک پر ہوگا اور ان پر امریکہ رکھنا چاہتا ہے۔ تاکہ چائنہ اور روس کو اس خطے میں آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ جیو پولیٹیکل شفٹنگ آنے پر بھی امریکہ کا یہاں اثرورسوخ قائم رہے۔
اس نئی شفٹنگ سے پہلے اور سنی نیٹو اتحاد کا اعلان کرنے سے پہلے مسلم ممالک میں پراکسیز کو ختم کرنا ضروری ہوگا۔ اس وجہ سے کوشش کی جا رہی ہے کہ یمن، سوڈان،لیبیا، عراق اور لبنان میں پراکسیز کو ختم کیا جائے۔ اور شام کیطرح ایک مستحکم و طاقت ور حکومت کو لایا جائے افغانستان میں افغان سٹوڈنٹس رجیم کے پاس اچھا موقع ہے کہ وہ پراکسیز کیخلاف کارروائی کریں اور اپنی گرفت کو مستحکم کر کے اچھی حکومت بنائیں۔ نہیں تو باری ان بھی آ جائے گی۔ یمن میں صورتحال کشیدگی کی بڑھ رہی ہے۔ سنی اتحاد والے تمام ممالک سعودی عرب کیساتھ کھڑے ہوگئے ہیں کیونکہ ان کا یہ مشترکہ مشن ہے کہ مسلم ممالک میں پراکسیز کا کھیل ختم کیا جائے اور مسلم ممالک کے امیج کو درست کیا جائے۔ شام میں رجیم چینج کے وقت بھی سنی اتحاد والے ممالک ایک پیج پر تھے اور تمام ممالک شام میں بننے والی حکومت کو سٹیبیلٹی کیطرف لیکر گئے ہیں۔ یمن میں پراکسیز کیخلاف کارروائی کرنے کے بعد وہاں بھی یہی کام سر انجام دیا جائے گا۔ امریکہ اس وجہ سے پراکسیز کو ختم کرنے کیلئے سپورٹ فراہم کر رہا ہے تاکہ نئے بننے والے اتحاد میں اس کا اثرورسوخ قائم رہے چائنہ کی جیو پولیٹیکل تھیوری کو شکست دی جائے۔