لامین یامال (Lamine Yamal)

جب سپین کی پوری ٹیم جشن منا رہی تھی، ایک مسلمان فٹبالر نے خدا کا شکر ادا کرکے ورلڈ کپ کے ساتھ دل بھی جیت لیے

فٹ بال کے میدان میں ورلڈ کپ جیتنا ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے۔ جب آخری سیٹی بجتی ہے تو پورا اسٹیڈیم خوشی سے گونج اٹھتا ہے، کھلاڑی ایک دوسرے سے لپٹ جاتے ہیں، ٹرافی فضا میں بلند ہوتی ہے اور دنیا بھر کے کروڑوں مداح جشن مناتے ہیں۔ لیکن اسی شور، خوشی اور کامیابی کے درمیان ایک منظر ایسا بھی تھا جس نے لاکھوں دلوں کو چھو لیا۔اور پوری دنیا کے غیر مسلموں کو حیران کردیا .
جب پوری ٹیم فتح کے نشے میں سرشار تھی، ایک نوجوان مسلمان چیمپئن اپنے پروردگار کو نہ بھولا۔ وہ گھٹنوں کے بل جھک گیا اور اپنے رب کا شکر ادا کرنے لگا۔یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی صرف ٹرافی اٹھانے میں نہیں بلکہ کامیابی کے لمحے میں بھی اپنے رب کو یاد رکھنے میں ہے۔یہ نوجوان کھلاڑی لامین یامال (Lamine Yamal) ہے، جس نے اپنی کم عمری کے باوجود نہ صرف دنیا کو اپنے کھیل سے حیران کیا بلکہ اپنے ایمان اور عاجزی سے بھی بے شمار لوگوں کے دل جیت لیے۔

لامین یامال کی پیدائش 13 جولائی 2007 کو اسپین کے شہر ایسپلگیس دے یوبریگات میں ہوئی۔ ان کے والد مراکش سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ والدہ کا تعلق استوائی گنی (Equatorial Guinea) سے ہے۔ اسلامی ماحول میں پرورش پانے والے لامین اپنے مسلمان ہونے پر فخر کرتے ہیں اور متعدد مواقع پر اپنے مذہبی تشخص کو کھل کر ظاہر کر چکے ہیں۔

غربت اور محدود وسائل کے باوجود ان کے والدین نے ان کے خوابوں کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ بچپن ہی میں ان کی غیر معمولی صلاحیتوں نے انہیں دنیا کے مشہور کلب بارسلونا کی لا ماسیا اکیڈمی تک پہنچا دیا، جہاں سے بے شمار عظیم فٹ بالر نکلے ہیں۔ کم عمری میں ہی انہوں نے اسپین کی قومی ٹیم میں جگہ بنائی اور اپنی رفتار، ڈربلنگ، اعتماد اور غیر معمولی وژن کی وجہ سے دنیا کے بہترین نوجوان فٹ بالرز میں شمار ہونے لگے۔

ان کی کہانی صرف ایک باصلاحیت کھلاڑی کی نہیں بلکہ ایک ایسے نوجوان کی بھی ہے جس نے شہرت، دولت اور کامیابی کے باوجود عاجزی کو نہیں چھوڑا۔اصل سبق یہ ہے کہ کامیابی کے ہر لمحے میں انسان اپنے رب کا شکر گزار رہے، کیونکہ عزت، طاقت، صلاحیت اور کامیابی سب اسی کی عطا ہیں۔یہی ایک سچے مسلمان کی پہچان ہے کہ جب دنیا اس کی تعریف کر رہی ہو، تب بھی اس کی زبان پر سب سے پہلے اپنے رب کا شکر ہو۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:

“اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔”
(سورۃ ابراہیم، آیت 7)

شاید یہی وجہ ہے کہ حقیقی چیمپئن وہ نہیں جو صرف میدان جیتے، بلکہ وہ ہے جو کامیابی کے بعد بھی اپنے رب کے سامنے جھکنا جانتا ہو۔