“کیا آپ سورج پر پیٹنٹ کر سکتے ہیں؟”
یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک پیغام تھا۔
1955 میں جب امریکی سائنس دان جوناس سالک (Jonas Salk) نے پولیو کے خلاف مؤثر ویکسین تیار کی تو پوری دنیا خوشی سے جھوم اٹھی۔ اس زمانے میں پولیو ایک ایسا خوفناک مرض تھا جو ہر سال ہزاروں بچوں کو ہمیشہ کے لیے معذور کر دیتا تھا۔ والدین اپنے بچوں کو گھروں سے باہر بھیجتے ہوئے خوفزدہ رہتے تھے، کیونکہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ اگلا شکار کون ہوگا۔
جب ویکسین کامیاب ہوئی تو ایک صحافی نے ڈاکٹر جوناس سالک سے سوال کیا:
“اس ویکسین کا پیٹنٹ کس کے پاس ہے؟”
ڈاکٹر سالک نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:
“لوگوں کے پاس… کیا آپ سورج پر بھی پیٹنٹ کر سکتے ہیں؟”
یہ جواب تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔
اگر وہ چاہتے تو اس ویکسین کا پیٹنٹ اپنے نام کروا سکتے تھے۔ بہت سے ماہرین کا اندازہ ہے کہ ایسا کرنے سے وہ آج کے حساب سے اربوں ڈالر کما سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے دولت کے بجائے انسانیت کو منتخب کیا۔ ان کا مقصد دولت اکٹھی کرنا نہیں، بلکہ دنیا بھر کے بچوں کو ایک ایسی بیماری سے بچانا تھا جس نے لاکھوں خاندانوں کی خوشیاں چھین لی تھیں۔
اسی فیصلے کی وجہ سے پولیو ویکسین تیزی سے دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچی۔ کروڑوں بچوں کو یہ ویکسین ملی، بے شمار زندگیاں بچیں اور لاکھوں بچے ہمیشہ کی معذوری سے محفوظ رہے۔ آج دنیا کے بیشتر حصوں سے پولیو تقریباً ختم ہو چکا ہے، اگرچہ چند ممالک میں اس کے مکمل خاتمے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔
ڈاکٹر جوناس سالک کا نام صرف ایک سائنس دان کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے جس نے یہ ثابت کیا کہ علم کی سب سے بڑی خوبصورتی اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ انسانیت کی خدمت بن جائے۔
اسلام بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
“جس نے ایک جان کو بچایا، گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔”
(سورۃ المائدہ: 32)
اگرچہ اس آیت کا اصل سیاق ایک مخصوص شرعی حکم سے متعلق ہے، لیکن جان بچانے کی عظمت کا یہ اصول پوری انسانیت کے لیے ایک عظیم اخلاقی پیغام ہے۔آج کے دور میں جہاں ہر چیز کو منافع کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، وہاں جوناس سالک کی کہانی ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
کیا ہر کامیابی کا مقصد صرف دولت ہونا چاہیے؟ یا پھر کچھ لوگ واقعی ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی انسانوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھنے کو سمجھتے ہیں؟شاید اسی لیے بعض لوگ تاریخ کی کتابوں میں صرف کامیاب نہیں، بلکہ عظیم لکھے جاتے ہیں۔
کیونکہ کچھ لوگ دولت کماتے ہیں… اور کچھ لوگ دعائیں۔ اگرچہ یہ شخص غیر مسلم تھا مگر ایسے لوگوں کیلئے اللہ پاک نے کیا اجر رکھا ہے ؟ ایسا سوال اکثر ذہن میں آتا ہے مگر کوئی جواب نہیں مل سکا .