پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کوئی نئی بات نہیں، مگر گزشتہ کچھ عرصے سے یہ بحث ایک مرتبہ پھر قومی سطح پر شدت اختیار کر چکی ہے۔ اس مرتبہ معاملہ محض سیاسی نعروں، علاقائی مطالبات یا انتخابی وعدوں تک محدود دکھائی نہیں دیتا بلکہ اسے بہتر طرزِ حکمرانی، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور عوام کو ریاستی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانے کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ 5 ستمبر کو لاہور کی یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں ہونے والے ’’نیشنل پالیسی ڈائیلاگ‘‘ نے اس بحث کو ایک سنجیدہ فکری پلیٹ فارم فراہم کیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہنماؤں، پارلیمنٹیرینز، صحافیوں، ماہرین اور پالیسی سازوں نے پاکستان کے انتظامی ڈھانچے، اختیارات کی تقسیم اور گڈ گورننس پر اظہار خیال کیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر ایک اہم بات کہی کہ نظام کو ’’ری سیٹ‘‘ کرنے کا مطلب نظام کو توڑنا نہیں بلکہ اس میں موجود خرابیوں کو درست کرنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی آبادی اور انتظامی ضروریات اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کے ذریعے ہر شہری کو تعلیم، صحت، صاف پانی اور انصاف جیسی بنیادی سہولیات مؤثر انداز میں فراہم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ کسی فرد، حکومت یا سیاسی جماعت کی خواہش پر نہیں بلکہ عوام کی مرضی اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔یہ بات اپنی جگہ بہت اہم ہے کہ نئے صوبے بنانا بذاتِ خود کوئی جادو کی چھڑی نہیں۔ اگر موجودہ نظام کی خامیاں نئے صوبوں میں بھی منتقل کر دی جائیں، اگر اختیارات پھر چند بڑے شہروں تک محدود رہیں، اگر بلدیاتی اداروں کو وسائل اور اختیار نہ ملے اور اگر میرٹ، قانون کی حکمرانی اور شفافیت کو یقینی نہ بنایا جائے تو صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے عام آدمی کی زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔
اسی لیے نیشنل پالیسی ڈائیلاگ میں کئی مقررین نے نئے صوبوں کے ساتھ ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے چھوٹے انتظامی یونٹس اور بااختیار مقامی حکومتوں کی حمایت کی جبکہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک احمد خان نے گورننس کی بہتری کے لیے سول سروس اصلاحات اور منتخب نمائندوں کو بااختیار بنانے کو بنیادی ضرورت قرار دیا۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر نئے صوبے بنانے کے فائدے کیا ہو سکتے ہیں؟ سب سے بڑا فائدہ انتظامی رسائی کا ہو سکتا ہے۔ آج بھی پاکستان کے بڑے صوبوں کی آبادی کئی ممالک سے زیادہ ہے۔ ایک صوبائی دارالحکومت سے سینکڑوں میل دور بیٹھے شہری کے لیے یہ توقع رکھنا کہ اس کے مسائل فوری طور پر صوبائی سطح پر حل ہو جائیں گے، عملی طور پر مشکل ہے۔ چھوٹے انتظامی یونٹس کی صورت میں حکومت، بیوروکریسی اور عوام کے درمیان فاصلہ کم ہو سکتا ہے۔
دوسرا بڑا فائدہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو سکتا ہے۔ بڑے صوبوں میں اکثر یہ شکایت سامنے آتی ہے کہ دور دراز علاقوں کو ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع میں ان کا جائز حصہ نہیں مل رہا۔ اگر انتظامی یونٹ نسبتاً چھوٹا ہو تو مقامی ضروریات کے مطابق بجٹ سازی اور ترقیاتی ترجیحات طے کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ تیسرا فائدہ عوامی نمائندگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایک چھوٹے صوبے یا مضبوط انتظامی یونٹ میں مقامی قیادت کے لیے اپنے علاقے کے مسائل اجاگر کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ حکمرانوں اور عوام کے درمیان رابطہ بڑھتا ہے اور سیاسی نمائندوں پر بھی کارکردگی دکھانے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ چوتھا فائدہ معاشی سرگرمیوں کا فروغ ہو سکتا ہے۔ اگر کسی علاقے کو اپنی مقامی معیشت، زراعت، صنعت، سیاحت یا تجارت کے مطابق پالیسیاں بنانے کا زیادہ اختیار ملے تو وہاں سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی بھی نئے صوبوں کو انتظامی نظام مضبوط کرنے، عوام کو اقتدار میں شریک کرنے اور معیشت و زراعت کی ترقی کا ذریعہ قرار دے چکے ہیں۔
پانچواں اور شاید سب سے اہم فائدہ حکومت کو عوام کے قریب لانا ہے۔ دنیا بھر میں گورننس کا بنیادی اصول یہی ہے کہ فیصلے جہاں تک ممکن ہو، عوام کے قریب کیے جائیں۔ اگر ایک شہری کو معمولی سرکاری کام کے لیے سینکڑوں کلومیٹر دور صوبائی دارالحکومت کا رخ کرنا پڑے تو یہ مرکزیت کی علامت ہے، اچھی حکمرانی کی نہیں۔ تاہم اس بحث کا دوسرا رخ بھی ہے۔ نئے صوبوں کے قیام پر سب سے بڑا اعتراض اخراجات کا ہے۔ نئے صوبے کا مطلب نئی اسمبلی، سیکریٹریٹ، محکمے، افسر شاہی اور دیگر انتظامی ڈھانچے بھی ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ ایک نئے صوبے کے قیام اور ابتدائی انتظامی ڈھانچے پر بھاری اخراجات آسکتے ہیں۔ لہٰذا یہ فیصلہ جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ مکمل معاشی اور انتظامی مطالعے کے بعد ہونا چاہیے۔ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’’کتنے صوبے؟‘‘ بلکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ’’کتنے مؤثر انتظامی یونٹس؟‘‘
نیشنل پالیسی ڈائیلاگ میں ایک دلچسپ نکتہ یہ بھی سامنے آیا کہ بعض مقررین موجودہ ڈویژنوں کو صوبائی حیثیت دینے کے حق میں ہیں۔ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے بھی موجودہ ڈویژنوں کو صوبائی درجہ دینے کی تجویز کی حمایت کی، تاکہ انتظامی ڈھانچہ زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔ مخدوم سید احمد محمود نے بھی چھوٹے انتظامی یونٹس کے ساتھ مضبوط صوبائی مالیاتی کمیشن کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وسائل اضلاع تک منصفانہ انداز میں پہنچ سکیں۔ ان کا یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ اچھی حکمرانی صرف اچھا سیاسی نعرہ نہیں بلکہ وژن، میرٹ اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کا نام ہے۔ سینئر صحافی حامد میر نے اس بحث میں ایک ضروری احتیاط کی طرف توجہ دلائی۔ ان کے مطابق صرف نئے صوبے بنا دینا پاکستان کے تمام انتظامی مسائل کا حل نہیں۔ قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی، انتخابی اصلاحات اور مضبوط بلدیاتی نظام بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ ان کا یہ مؤقف دراصل پوری بحث کا مرکزی نکتہ بن سکتا ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صوبوں کی تشکیل لسانی، نسلی یا علاقائی تعصب کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ اگر نئے صوبے ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کی سیاست پیدا کریں تو یہ تقسیم ملک کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ لیکن اگر انتظامی حدود اس بنیاد پر بنائی جائیں کہ عوام کو بہتر تعلیم، صحت، انصاف، روزگار اور بنیادی سہولیات مل سکیں تو یہی تقسیم دراصل بہتر حکمرانی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ پاکستان کو اس وقت جذباتی نقشوں سے زیادہ قابلِ عمل انتظامی ماڈل کی ضرورت ہے۔ ہمیں ماہرینِ معیشت، آئینی ماہرین، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، کاروباری طبقے، صحافیوں اور عام شہریوں کو اس بحث میں شامل کرنا چاہیے۔ ہر مجوزہ صوبے کے لیے آبادی، رقبہ، آمدن، اخراجات، وسائل، انتظامی استعداد اور عوامی رائے کا باقاعدہ جائزہ ہونا چاہیےاور سب سے بڑھ کر فیصلہ آئین کے مطابق ہونا چاہیے۔ نئے صوبوں کا قیام محض انتظامی حکم سے نہیں ہو سکتا؛ آئینی تقاضے، متعلقہ اسمبلیوں کی منظوری اور سیاسی اتفاقِ رائے اس عمل کا لازمی حصہ ہیں۔
اصل میں نئے صوبوں کی بحث ہمیں ایک بڑے سوال کے سامنے کھڑا کرتی ہے: کیا ہمارا موجودہ انتظامی ڈھانچہ آنے والے پاکستان کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہے؟ اگر جواب ’’ہاں‘‘ ہے تو پھر ہمیں ثابت کرنا ہوگا کہ موجودہ نظام عام آدمی کو اس کی دہلیز پر انصاف، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کر سکتا ہے۔ اگر جواب ’’نہیں‘‘ ہے تو پھر ہمیں اصلاحات سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کو صوبوں کی تعداد سے زیادہ اچھی حکمرانی کی ضرورت ہے۔ نئے صوبے اس منزل تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہو سکتے ہیں، خود منزل نہیں۔ اس لیے اس وقت ضرورت کسی صوبے کو توڑنے یا کسی نئے صوبے کا نعرہ لگانے سے زیادہ ایک سنجیدہ قومی مکالمے کی ہے۔ عوام کو بتایا جائے کہ نئے صوبوں کے فائدے کیا ہیں، نقصانات کیا ہیں، اخراجات کتنے ہوں گے اور اختیارات کس سطح تک منتقل کیے جائیں گے۔ پھر فیصلہ عوام کی رائے، آئین کی حدود اور قومی اتفاقِ رائے کے مطابق کیا جائے۔
محسن نقوی نے نیشنل پالیسی ڈائیلاگ میں جو بنیادی بات کہی، وہ شاید اس پوری بحث کا بہترین خلاصہ ہے: فیصلہ کسی ایک فرد یا سیاسی جماعت کی مرضی سے نہیں، عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ نئے صوبے بنیں یا نہ بنیں، ایک بات طے ہے: پاکستان کو اب ایسا نظام ضرور چاہیے جس میں حکومت عوام سے دور نہ ہو، وسائل چند مراکز میں محدود نہ رہیں اور ریاست کا ہر شہری یہ محسوس کرے کہ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور یا کوئٹہ میں بیٹھنے والی حکومت دراصل اس کی اپنی حکومت ہے۔ یہی حقیقی devolution ہے، یہی اچھی حکمرانی ہے، اور شاید یہی نئے صوبوں کی پوری بحث کا اصل مقصد بھی ہونا چاہیے۔