امریکی بحریہ گزشتہ کئی دہائیوں سے انتہائی حساس فوجی فرائض کے لیے ڈولفنز کو تربیت دیتی آ رہی ہے۔ بظاہر معصوم اور دوستانہ نظر آنے والی یہ ڈولفنز درحقیقت جدید جنگی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں، اور ان کی صلاحیتوں نے دنیا بھر کے دفاعی ماہرین کو حیران کر رکھا ہے۔ امریکی بحریہ کا میرین میمل پروگرام انیس سو انسٹھ میں شروع کیا گیا۔ ابتدا میں سائنس دان یہ جاننا چاہتے تھے کہ ڈولفنز کی رفتار، قوتِ برداشت اور قدرتی سونار نظام کس حد تک غیر معمولی ہے، لیکن جلد ہی یہ تحقیق ایک ایسے فوجی منصوبے میں تبدیل ہو گئی جس کا مقصد سمندر کے اندر بارودی سرنگوں، خطرناک اشیا اور دشمن کے غوطہ خوروں کا سراغ لگانا تھا۔ ڈولفنز کی سب سے بڑی طاقت ان کا قدرتی بایو سونار ہے۔ جہاں جدید ترین مشینیں گدلے پانی، سمندری شور یا کم روشنی میں ناکام ہو سکتی ہیں، وہاں ڈولفن اپنی قدرتی صلاحیت سے پانی کے اندر موجود اشیا کی نشاندہی کر لیتی ہے۔ اسی لیے امریکی بحریہ آج بھی انہیں بندرگاہوں، آبدوزی اڈوں اور حساس سمندری علاقوں کی حفاظت کے لیے استعمال کرتی ہے۔ یہ تربیت یافتہ ڈولفنز دشمن کے غوطہ خوروں، سمندر میں نصب بارودی سرنگوں، کھوئے ہوئے فوجی آلات اور دیگر زیرِ آب خطرات کا پتا لگاتی ہیں۔ وہ مطلوبہ مقام پر ایک مخصوص نشان چھوڑ دیتی ہیں تاکہ بعد میں انسانی ٹیم یا روبوٹ وہاں کارروائی کر سکے۔ امریکی بحریہ کے مطابق ان جانوروں کو حملہ آور ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ ان کا بنیادی کردار تلاش، نشاندہی اور نگرانی ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں اس پروگرام پر سخت رازداری برقرار رکھی گئی، جس کی وجہ سے طرح طرح کی کہانیاں اور افواہیں گردش کرتی رہیں۔ بعض لوگوں نے دعویٰ کیا کہ ڈولفنز کو دشمن کو ہلاک کرنے کی تربیت دی جاتی ہے، لیکن امریکی بحریہ اس دعوے کی تردید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ پروگرام کا مقصد صرف دفاعی اور حفاظتی مشن انجام دینا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت، جدید روبوٹس اور خودکار زیرِ آب گاڑیوں کی ترقی کے باوجود امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ بعض حالات میں ڈولفنز کی قدرتی صلاحیتیں اب بھی جدید ٹیکنالوجی سے بہتر ثابت ہوتی ہیں، خاص طور پر ایسے سمندری ماحول میں جہاں پانی گدلا ہو یا قدرتی رکاوٹیں زیادہ ہوں۔