سیدہ نزہت ایوب کاظمی

حسد انسانیت کا دشمن تحریر: سیدہ نزہت ایوب کاظمی، اسلام آباد

اردو ادب اور پنجابی کی مایہء ناز شخصیت محترم یعقوب فردوسی کے نام سے کِسے واقفیت نہ ہوگی۔آپ کی تحریروں میں خاص کر تصوّف، فقر،عاجزی اور خدمتِ خلق کا رنگ چھلکتا ہے۔محترم کی اب تک 166 کُتب شائع ہو چکی ہیں۔آپ کے بارے میں ڈاکٹر ہارون الرشید تبسّم کہتے ہیں عسرِ حاضر میں نورانی، رومانی،ایقانی اور ایمانی طرزِ فکر رکھنے والے شعرائے کرام میں محمد یعقوب فردوسی اپنا مُنفرد مقام رکھتے ہیں۔عزیز بلگامی ہندوستان والوں نے بھی قریب قریب یہی کچھ لکھا۔خاص طور پر دنیائے ادب میں حمد و نعت اور منقبت پر آپ کی کتاب “کُن فیکون” دورِ حاضر کا عظیم کارنامہ مانا جا رہا ہے۔آپ کی تحاریر پڑھنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔واقعی یہ درست بات ہے فردوسی صاحب دوسروں کو بہت عزت سے نوازتے ہیں۔گُزرے بزرگوں کے اقوال کے مُطابق عزت دار بندہ ہی دوسروں کو عزت دیتا ہے، مگر جب کوئی عزت دار اپنی عزت گٹھا کرکسی کو عزت دے تب سمجھ لینا چاہئے وہ بندہ تصوّف کی اصل تک رسائی پانے میں کامران ہو نے لگا ہے۔ میں محترم کی ادبی سرگرمیوں یا تحریروں پرلکھنے کو فی الحال موقوف رکھتے ہوئے،صرف اُن دو تحریروں کا ذکر کروں گی جنہوں نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ کوئی قلم کار انسان تو انسان جانوروں کے معاملے میں بھی اتنا حساس ہو سکتا ہے؟
میں نے ہفتہ، دس دن آپ کی تحریریں “آزمائش” اور پھر “ماں بھی مر گئی” کو بارہا پڑھا۔یہ تحریریں، جانوروں سے آپ کی اُنسیت ایک واضع ثبوت تھی۔اِن سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ مُصنف جانوروں کی دلی کیفیت غم و خوشی کو اپنی روح پر محسوس کرتا ہے۔اِن تحاریر میں لفظ کم اور سسکیاں زیادہ تھیں۔ محترم قاری، مصنف جب اپنی تحاریر میں بناوٹ یا ادبی تصنع کے بجائے خالص احساسات کو پروئے،تبھی ہر سطر قاری کے دِل پر دستک دیتی ہے۔”آزمائش” اور “پھر ماں مَر گئی”، انسان اور دیگر مخلوقات کے درمیان موجودمحبت،ممتا اور جدائی کے اس رشتے کو اُجاگر کرتی نظر آئی، جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔اِن میں مصنف نے نہایت سادہ مگر پُر اثر اسلوب میں یہ حقیقت آشکار کی،کہ دکھ،کرب یا غم کی کوئی زبان نہیں ہوتی۔اِن دو تحریروں میں محض واقعات کو قلم بند نہیں کیا گیا تھا بلکہ اِن میں زندگی،محبت،فراق اور تنہائی کاایسا نوحہ تھا جو دِل کی گہرائیوں میں اُتر کراِنسان کو اپنی بے حِسی پر غور کرنے کی دعوت دے۔جی ہاں بے حِسی۔محترم قاری ایک قلم کار ہمیشہ وہ ہی کچھ کاغذ پر رقم کرتا ہے جو وہ روح پر سہہ رہا ہوتا ہے۔یہ صرف حضرت ہی کے بارے میں نہیں بلکہ اصل لکھاری ہوتا ہی حساس ہے وہ دوسروں کے غموں کا اُتنا ہی کرب محسوس کرے گا جِتنا اپنے۔ اے میرے محترم باادب قاری میرا یہ کالم کسی ادبی ایڈیشن کا حِصّہ نہیں ورنہ ہم سیر حاصل گفتگو کرتے۔میں نے تو آج ایک کرب کی داستان کو آپ کیساتھ بانٹنا چاہ رہی ہوں۔ اِسلام ہر ذی روح پر رحم کا درس دیتا ہے۔محترم قاری، مزیدبرآں محمد یعقوب فردوسی کہتے ہیں کہ گزشتہ برس ان کے کم و بیش دو سو پچاس جانوروں کو زہریلی خوراک ڈال کر مار دیا گیا۔آخر کیوں،یہ سب ماسوائے بےحسی ، حسد،جُرم یا ظُلم کے کچھ نہیں۔ ایسے واقعات اکثر سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ گزشتہ برس ہی کسی سے سننے کو ملا کہ کسی کسان کی پکی گندم کی فصل کو آگ لگا دی گئی۔ محترم قاری،اِنسانی تاریخ کا ایک پُردرد المیہ رہا کہ اُس شے یا نعمت سے حسد کرنا جسے خالقِ کائنات کی طرف سے کسی انسان کو نوازی گئی ہو۔ حالانکہ قُرآن تو بندے سے کہتا ہے کہ یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے،یہ دنیا کھیل تماشا ہے،یہ اِک دھوکہ ہے، حدیثِ پینمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہمیں اللہ کی تقسیم پر راضی رہنے کا درس ملتا ہے۔ مولائے کائنات علی ابنِ ابی طالب علیہ سلام فرماتے ہیں کہ دنیا بَن بَن کر تیرے سامنے آئے گی،اِس کی طراری سے بڑی ہشیار ی سے بچنا۔رسول اللہ ؐ نے حسد کے بارے میں فرمایا کہ حسد نیکیوں کو یوں کھا لیتا ہے جیسے سوکھی لکڑیوں کو آگ۔ ہم غیر مسلم کی بات نہیں کرتے مگر جب ایک مسلمان حسد کی آگ میں جل کر اپنی آخرت اور کسی دوسرے کی زندگی برباد کرتا ہے تو یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔یعنی اُسے ذرا بھی خوف نہیں آیا کہ دعوا تو کرے وہ محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُمتی ہونے کا پر پیارے آقا ؐ ہی کے حُکم کے خلاف چلے۔عذابِ الہٰی کا خوف تو بندے کو ہونا ہی چاہئے پر شَرم بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے۔ حسد جیسے طوق کو گلے کا ہار بناتے،ایک مسلمان کو اپنے نبی ؐ سے کیا لاج نہ آئے گی۔اِنسان تو مسجودِ ملائک تھا،کہاں اُس کا میعار اور کہاں ……،مگر اِبنِ آدم کے کیا کہنے اِس زمین پر پہلا قتل بھی تو حسد کے بناپہ ہوا، ابھی تو بندوں کی بہتات بھی نہیں ہوئی تھی۔زمین پر ابھی صرف آدم ؑ و حَوّا اور اُن کے دو بیٹوں کا معاملا ہی توطے پا رہا تھا پھر حسد کدھر سے آگیا۔ہابیل کو ملی اللہ کی طرف سے نعمت قابیل کو نہیں بھائی اور وہ حسد جیسی لعنت میں گِرفتار ہو گیا۔اِبنِ آدم حسد کی اساس کو بہت جلد بھول گیا۔وہ بھول گیا کہ کِس طرح ابلیس خُدا کی بارگاہ سے راند ہ گیا۔ہاں ابلیس نے حسد ہی تو کیا تھا۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے،تُم اُن لوگوں سے کیوں حسد کرتے ہو جنہیں میں نے اپنے فضل سے عطا فرمایاہے۔ صد افسوس “پاک” کے معاشرتی ڈھانچے کے خدو خال کے کیا کہنے۔یہاں بندے تو بندے،جانور وں تک کو حسد کی آگ میں جھُلسا دیا جاتا ہے۔ حسد میں کھیت کھلیان کو آگ لگا دی جاتی ہے۔جبکہ اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ “ہم نے زمین کو زینت بخشی اور تم سے اِس کے بابت سوال کیا جائے گا.”
کھیتیوں سے بھلا کسے بیر ہو گا۔اللہ کے قرآن میں ایسے فسادیوں کی وضاحت فرمائی گئی جو کھیتیوں کو اجاڑ دیتا ہے،اور جس کا فتنہ خشکی اور تَری میں پھیلا ہوا ہے۔قرآن نسخہء کیمیا ہے۔ انسانی جسم ایک مشنری جسکا کتابچہ قرآن،جس کے کل پُرزوں کو سمجھنے کے لئے،برتنے کے لئے قُرآن کو سمجھ کر پڑھنا بے حد ضروری۔ محترم قاری، اگر ہمارے معاشرے میں حسد بڑھ رہا ہے تو ہمیں اپنے دینی اور اخلاقی رویوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہئے۔اگر ایسا ہے تو یہ لمحہء فکریہ ہے۔دین اسلام کا تقاضا تو یہ ہے، اپنے کردار و افکار ایسے بنا لئے جائیں کہ غیر مُسلم اِسلام سے متاثر ہو کر اس کی طرف راغب ہوں۔دعا ہے کہ رب العالمین بوسیلہ پنجتن پاک علیہ سلام کے ہر قدم ہر سانس ہماری رہنمائی فرمائے۔آمین ثم آمین