دنیا تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکی ہے۔ ہماری جیب میں موجود موبائل فون سے لے کر بینک اکاؤنٹ، شناختی کارڈ، سم، آن لائن خریداری اور سرکاری ریکارڈ تک، ہماری زندگی کا تقریباً ہر اہم پہلو کسی نہ کسی ڈیجیٹل نظام سے جڑ چکا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس رفتار سے ہم ڈیجیٹل دنیا کو اپنا رہے ہیں، کیا اسی رفتار سے اپنے شہریوں کے ڈیٹا کی حفاظت بھی کر رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب فی الحال تو نفی میں مل رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سامنے آنے والے انکشافات نے اس سوال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی کارروائی کے دوران تقریباً 6 لاکھ شہریوں کا فنگر پرنٹ اور بائیومیٹرک ڈیٹا برآمد ہوا، جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق گزشتہ ڈھائی برس میں 18.2 ملین غیر قانونی سمیں بلاک کی گئی ہیں۔ یہ اعداد صرف اعداد نہیں بلکہ ایک ایسے خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں جو عام شہری کی جیب، بینک اکاؤنٹ، شناخت اور حتیٰ کہ قومی سلامتی تک پہنچ سکتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر لاکھوں پاکستانیوں کا بائیومیٹرک ڈیٹا جرائم پیشہ عناصر تک پہنچ گیا تو یہ ڈیٹا ان کے ہاتھ لگا کیسے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ فنگر پرنٹ محض پاس ورڈ نہیں جسے تبدیل کیا جا سکے۔ اگر کسی کا پاس ورڈ چوری ہو جائے تو وہ نیا پاس ورڈ بنا سکتا ہے، لیکن انگلیوں کے نشانات، چہرے اور آنکھوں کی شناخت تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بائیومیٹرک ڈیٹا کا تحفظ عام معلومات سے کہیں زیادہ حساس معاملہ ہے۔ ہمارے ہاں شناختی کارڈ، سم، بینک اکاؤنٹ اور مختلف سرکاری و نجی خدمات کے حصول کے لیے بائیومیٹرک تصدیق معمول بن چکی ہے۔ لیکن اگر اسی نظام سے متعلق معلومات غیر مجاز ہاتھوں میں پہنچ جائیں تو مجرم جعلی سموں، جعلی اکاؤنٹس، مالی فراڈ اور شناختی جعل سازی جیسے جرائم کے لیے اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنے کی ضرورت ہے: صرف غیر قانونی سمیں بند کرنا مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ اگر آج ایک کروڑ 82 لاکھ سمیں بلاک ہوئی ہیں لیکن کل نئے جعلی شناختی ریکارڈ اور نئی سمیں سامنے آ جاتی ہیں تو ہم مسئلے کی جڑ تک نہیں پہنچ سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیٹا چوری کے پورے نظام کو توڑا جائے۔
نادرا، بینکوں، موبائل کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور دیگر حساس اداروں کے ڈیٹا بیس میں شہریوں کی انتہائی اہم معلومات موجود ہیں۔ اس لیے ہر ادارے کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ شہریوں کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے جدید ترین حفاظتی انتظامات رکھتا ہے۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ہمارا نظام محفوظ ہے؛ باقاعدہ آزادانہ سیکیورٹی آڈٹ، penetration testing، رسائی کے ریکارڈ اور ملازمین کی سرگرمیوں کی نگرانی بھی ضروری ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سائبر جرائم پیشہ افراد ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ انسانی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کسی ادارے کا ملازم، فرنچائز کا اہلکار یا ریٹیلر اگر چند ہزار روپے کے لالچ میں حساس معلومات کسی دوسرے شخص کو فراہم کر دے تو جدید ترین فائر وال بھی شہری کو تحفظ نہیں دے سکتا۔ اس لیے اندرونی خطرے یعنی insider threat کو بھی سائبر سیکیورٹی پالیسی کا مرکزی حصہ بنانا ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ روایتی فنگر پرنٹ تصدیق کو واحد حفاظتی دیوار سمجھنے کی روش ترک کی جائے۔ فنگر پرنٹ کے ساتھ liveness detection، facial recognition، iris verification، device binding اور multi-factor authentication جیسے اضافی حفاظتی مراحل اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ نادرا خود اپنی ڈیجیٹل خدمات میں facial recognition اور liveness verification جیسی ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے، جو اس سمت میں پیش رفت کی مثال ہے۔
تاہم یہاں ایک اور احتیاط بھی ضروری ہے۔ نئی ٹیکنالوجی مسئلے کا حل ضرور بن سکتی ہے لیکن اگر اس کا ڈیٹا بھی مناسب قانونی اور تکنیکی تحفظ کے بغیر محفوظ کیا جائے تو مسئلہ ختم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ یعنی فنگر پرنٹ سے چہرے کی شناخت کی طرف منتقلی اسی وقت فائدہ مند ہوگی جب پورا ڈیٹا گورننس نظام مضبوط ہو۔
اس معاملے کا ایک انتہائی اہم پہلو قانون سازی ہے۔ پاکستان میں ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے جامع قانون کی ضرورت ایک عرصے سے محسوس کی جا رہی ہے۔ 2026 کے قانونی جائزے بھی اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک میں ابھی ایک مکمل اور مؤثر نافذ شدہ جامع ڈیٹا پروٹیکشن فریم ورک کی کمی ہے۔ ہمیں ایسا قانون درکار ہے جس میں صرف ہیکر کو سزا دینے کی بات نہ ہو بلکہ اس ادارے کی ذمہ داری بھی طے ہو جو شہری کا ڈیٹا محفوظ رکھنے میں ناکام رہے۔ اگر کسی ادارے کی غفلت سے لاکھوں شہریوں کا حساس ڈیٹا چوری ہو جائے تو محض ایک پریس ریلیز جاری کرکے معاملہ ختم نہیں ہونا چاہیے۔ ذمہ داری، جرمانہ، متاثرہ شہری کو اطلاع، نقصان کا ازالہ اور ضروری صورت میں معاوضے کا واضح نظام ہونا چاہیے۔ اسی طرح سائبر کرائم کی شکایات کے نظام کو بھی عام شہری کے لیے آسان بنانا ہوگا۔ ایک ریٹائرڈ شخص، طالب علم، مزدور یا چھوٹا کاروباری شخص اگر آن لائن فراڈ کا شکار ہو جائے تو اسے یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ایک ایسی مشینری کے سامنے کھڑا ہے جہاں اس کی شکایت صرف اس وقت سنی جائے گی جب اس کا تعلق کسی بااثر شخصیت سے ہو۔ سائبر جرم میں امیر اور غریب، معروف اور غیر معروف، سرکاری اور نجی شہری کی کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ سائبر جرائم کے مقدمات میں تفتیش، گرفتاری اور عدالتی کارروائی کا قابلِ اعتماد ریکارڈ عوام کے سامنے آئے۔ بڑے گینگ پکڑے جانے کی خبریں تو اکثر سامنے آتی ہیں، لیکن عوام یہ جاننے کے حق دار ہیں کہ مقدمات کا نتیجہ کیا نکلا، کتنے ملزمان کو سزا ہوئی اور شہریوں کے نقصان کا ازالہ کیسے کیا گیا۔ ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگی کہ ڈیٹا اب محض معلومات نہیں بلکہ طاقت، معیشت اور قومی سلامتی کا اثاثہ ہے۔ جس ملک کے شہریوں کا شناختی اور مالیاتی ڈیٹا محفوظ نہیں، وہاں ڈیجیٹل معیشت بھی محفوظ نہیں رہ سکتی۔
حکومت کو چاہیے کہ نادرا، PTA، بینکوں، موبائل کمپنیوں اور دیگر حساس اداروں کے لیے ایک مربوط قومی ڈیٹا سیکیورٹی پالیسی تشکیل دے، آزادانہ سیکیورٹی آڈٹ لازمی کرے، حساس ڈیٹا تک رسائی کو کم سے کم سطح تک محدود کرے، ملازمین اور فرنچائزز کی سخت نگرانی کرے اور شہریوں کے ڈیٹا کے غیر قانونی استعمال پر بلاامتیاز کارروائی یقینی بنائے کیونکہ آج کسی شہری کا فنگر پرنٹ چوری ہونا صرف اس شہری کا مسئلہ نہیں۔ کل یہی ڈیٹا جعلی سم، جعلی اکاؤنٹ، مالی فراڈ یا کسی بڑے جرم میں استعمال ہو سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی اب صرف کمپیوٹر کا مسئلہ نہیں رہی؛ یہ شہری کی عزت، اس کی جمع پونجی، اس کی شناخت اور بالآخر قومی سلامتی کا سوال بن چکی ہے۔ اگر ہم نے آج اس سوال کا سنجیدہ جواب نہ دیا تو آنے والے کل میں شاید ہمارے پاس شکایت کرنے کے لیے وقت تو ہوگا، مگر اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے محفوظ ڈیٹا نہیں ہوگا۔