لیجنڈ گلوکار عطاءاللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی ضلع میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل کے گاؤں ہمبڑانوالہ میں پیدا ہوئے ۔عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی گلوکاری کے شروع شروع میں مین بازار عیسیٰ خیل میں الصدف نامی جنرل سٹور چلایا کرتے تھے ۔عطاءاللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی سے پہلے عطاء محمد سنارا گلوکار ہوا کرتے تھے۔عطاءاللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی سارا دن اپنے سٹور پر مصروف رہتے اور رات کو گاؤں میں ایک گھر کے چوبارہ پر چند دوستوں کے ساتھ ہارمونیم پر شغل میلا کیا کرتے تھے۔
عطاءاللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنا ہارمونیم اپنے ایک دوست کے ہاں رکھا ہوا تھا کیونکہ گھر میں ان کے والد صاحب احمد خان عیسیٰ خیلوی عطاءاللّٰہ خان کو ہارمونیم رکھنے کی اجازت نہ دیتے تھے ۔عطاءاللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی اس وقت ہڈیوں کا ڈھانچہ ہوا کرتے تھے ۔ اکثر کہا جاتا کہ عطاءاللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کے والد صاحب جب عمرہ پر گئے تھے تو واپسی پر عطاءاللّٰہ خان نے ان کے سفر کا پوچھا تو وہ کہہ رہے تھے سارے رستے میں ہی تم گنگناتے گئے ہو حالانکہ اج کل ایسی بات ہوتی تو والدین فخر کرتے ۔
عطاءاللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کے والد کو موسیقی سے سخت نفرت تھی اور اسی نفرت کی بنا پر عطاءاللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کو والد صاحب کئی دفعہ گھر سے نکال چکے تھے لیکن ان کا موسیقی سے عشق اس حد تک تھا کے وہ گھر چھوڑ دیتے لیکن گانا اور ہارمونیم نہ چھوڑتے۔ عطاءاللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے بہت برے دن دیکھے تھے در بدر دھکے کھائے لیکن جب رب تعالیٰ نے عروج بخشا تو وہی عطاءاللّٰہ عیسیٰ خیلوی جسے گھر سے نکال دیا گیا تھا اس کو رہنے کیلے لوگ کوٹھیاں بنگلے دیتے اور عطاءاللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کی ایک جھلک دیکھنے کو ترستے ۔ عطاءاللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کو رب نے ایسی آواز سے نوازا ہے کے ان کا ایک گانا 10 بار بھی سنا جائے تو انسان تنگ نہیں پڑتا۔
باقاعدہ گائیکی کا آغاز اکتوبر 1978 کو رحمت گراموفون ھاؤس فیصل آباد میں ایک ساتھ چار البمز ریکارڈ کروا کر کیا۔جنہوں نے لالہ کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا ۔ عطاء اللہ خان کا اصل کمال یہ ہے کہ انہوں نے صرف سرائیکی ہی نہیں بلکہ سات زبانوں میں گایا جن میں پنجابی، اردو اور پشتو کے علاوہ ھیں ۔ ہر زبان میں ان کی ادائیگی اور انداز ایسا ہوتا جیسے وہ اسی زبان کے فطری گلوکار ہیں۔ ان کے کئی مشہور گیت جیسے “وے بول سانول”، “اٹھاں والے ٹر جانڑ گے”، ” دل لگایا تھا دل لگی کے لیے”، “ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا ” اور “قمیص تیڈی کالی ” شامل ہیں۔ ان کے گانوں میں محبت کی سچائی، جدائی کا کرب، دیہات کی سادہ زندگی اور انسانی جذبات کی عکاسی اتنے خوبصورت انداز میں ملتی ہے کہ سننے والا اپنے دل کو ان میں شامل محسوس کرتا ہے۔
حکومت پاکستان نے بھی ان کی خدمات کو تسلیم کیا۔ 1991ء میں انہیں “ستارۂ امتیاز” دیا گیا۔ یہ اعزاز ان کے فن کی عظمت اور ان کی عوامی مقبولیت کا اعتراف تھا۔ مگر ان کے لیے سب سے بڑا انعام ان کے چاہنے والوں کی بے پناہ محبت تھی۔ عطاء اللہ خان اپنی ذاتی زندگی میں نہایت سادہ اور عاجز انسان ہیں۔ وہ دیہاتی مزاج کے ساتھ اپنی جڑوں سے جڑے رہے اور ہمیشہ اپنی ثقافت کو فخر کے ساتھ پیش کیا۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے چاہنے والے صرف پاکستان تک محدود نہیں رہے۔ بھارت، افغانستان، مشرق وسطیٰ اور مغربی ممالک میں بھی ان کے گانے سننے والوں کے دلوں کو چھو گئے۔ تارکینِ وطن کے لیے ان کی آواز اپنی مٹی اور رشتوں کی یاد تازہ کر دیتی ہے۔ ان کی شہرت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے ایک ہی سال 1994 میں اتنی زیادہ آڈیو کیسٹس ریلیز کیں کہ ان کا نام “گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ” میں درج ہوا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام ان کی گائیکی کو کس قدر پسند کرتے تھے۔
عطاءاللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے عیسیٰ خیل کے ہزاروں ایسے جوان جو بیروزگار تھے ان کو بیرون ملک ملازمتیں دلوائی اور ہزاروں غریب گھروں کی امداد کرتے ہیں ان کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اتنا نام کمانے کے باوجود اتنا پیسہ ہونے کے باوجود عیسیٰ خیلوی نے کبھی اپنے اوپر فخر نی کیا اور نہ ہی کبھی فخر تکبر والی بات کی عطاءاللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کے مداح کروڑوں میں ہیں معروف انڈین گلوکارہ لتا منگیشکر کی طرف سے عطاءاللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کو ہارمونیم کا تحفہ بھی بھیجا گیا تھا عطاءاللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کے گانے لاکھوں دکھی دلوں کا درمان ہیں۔