برصغیر پاک وہند کی دینی اور مذہبی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے اگرچہ محمد بن قاسم کی برصغیر سندھ آمد سے اشاعت اسلام کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا تاہم بھرپور طریقے سے اسلام کی تبلیغ و تعلیم اولیاء کرام صوفیاء عظام کی یہاں تشریف آوری سے شروع ہوئی۔ ان بوریا نشینوں نے متاثر کن حکمت عملی کے تحت اسلام کی دعوت اخلاقی، روحانی اور انسانی بنیادوں پر پیش کی جس کے باعث لاکھوں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ کفرستان ہند میں توحید ورسالت کے دلنواز پر سوز نغمے گونجنے لگے۔یہ بزرگان دین اپنے اعلیٰ کردار و عمل میں اس قدر عظیم المرتبت تھے کہ ہندو اور غیر مسلم اُن کی زیارت کرتے ہی کلمہ طیّبہ پڑھ کر حلقہ اسلام میں داخل ہو جاتے تھے جس کی وجہ سے پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان کے اس خطہ برصغیر میں اسلام کا بول بالا ہوا اور ان ہی بزرگان دین کے نفوس قدسیہ خاندان کے چشم و چراغ ولی کامل حضرت پیر سید نیک عالم شاہ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کا اسم گرامی صوفیاء کاملین کی صف میں سورج کی طرح چمکتا دمکتا رہے گا۔آپ 08-09-1337 ہجری میں قدیم میرپور شہر کے نواحی مشہور گاؤں گوڑھا سیداں میں حضرت دیوان علی شاہ کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید امیر علی شاہ قاسم شاہ کے بیٹے تھے جو پھلڑے سیداں جہلم سے آکر یہاں میرپور آباد ہوئے تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام موسیٰ کاظم کے توسط سے سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا ملتا ہے اور کاظمی سادات ہیں۔ حضرت پیر سید نیک عالم شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے بزرگوں سے حاصل کی اور مزید تعلیم کے لیے ضلع چکوال کے ایک عظیم روحانی اور دینی درسگاہ چلے گئے۔ تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے 35 علوم کی تعلیم حاصل کی جبکہ آپؒکے اپنے ہاتھوں سے لکھے حوالوں سے پتا چلتا ہے کہ آپ چودہ علوم پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ نے زندگی کی صرف چالیس بہاریں دیکھی ہیں اس قلیل عرصے میں وہ کام کیے جن کے لیے صدیاں درکار ہوتی ہیں۔ اوائل عمری میں تحصیل علم کے دوران ہی آپ پر حقیقت، معرفت اور تصوف کے دریچے کھلنا شروع ہو گئے اور اس سفر پر چلتے ہوئے دہلی جا پہنچے جہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی نسل سے تعلق رکھنے والا سلسلہ نقشبندیہ کی ممتاز عالی القدر شخصیت شیخ ابو الخیر فاروق کے ہاں حاضری دی وہ حضرت شاہ یعنی(پیر سید نیک عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے علم ودانش اور زہد سے بہت متاثر ہوئے اور تعلق اس حد تک بڑھ گیا کہ حضرت ابو الخیر فاروق نے اپنی بیٹی کی شادی آپ سے کرنے اور اپنا جانشین خلیفہ مقرر کرنے کی بشارت دی- حضرت ابو الخیر نے آپ کو مانسہرہ حاجی محمد کے ہاں بھیجا- حضرت خلیفہ حاجی محمد حضرت ابو الخیر کے والد صاحب کے خلیفہ جانشین تھے۔انھوں نے حضرت پیر سید نیک عالم شاہ رحمتہ اللہ علیہ کو خرقہ خلافت اور دستار فضیلت عطا فرمائی- اس کے بعد شاہ صاحب نے حج بیت اللہ کے لیے حرمین شریفین کا پیدل سفر طے کیا- حج کے بعد مقامات مقدسہ کی زیارت کی اور ایک سال حجاز مقدس میں قیام کے بعد دوسرا حج ادا کرنے کے بعد واپس تشریف لائے- حجاز مقدس قیام کے دوران آپ نے مقتدر صوفیائے کرام اور مشائخ عظام سے ملاقاتیں کیں جن میں حاجی امداد اللہ مکی کا خصوصی ذکر ملتا ہے اور بعد میں خط وکتابت کا سلسلہ بھی جاری رہا- رومی کشمیر حضرت میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ سے اشعار کی زبان میں آپ کی خط وکتابت بہت مشہور ہوئی بلکہ ایسی تاریخی خط وکتابت کو عاشقان طریقت نے سنبھال رکھا ہے- پاکستان و آزاد کشمیر بلکہ یورپ کے خطیب و علمائے کرام اپنی تقاریر میں حضرت پیر سید نیک عالم شاہؒ اور میاں محمد بخش ؒ کے مابین خط وکتابت کے اشعار خوش الحانی سے پڑھ کر سامعین پر وجد طاری کر دیتے ہیں۔کچھ مقامی و عالمی علمائے کرام بالخصوص یادگار اسلاف حضرت پیر مولانا بشیر مصطفوی رحمتہ اللہ پیر سید نیک عالم شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے دعائیہ اشعار اکثر پڑھتے رہتے تھے-حضرت میاں محمد بخش ؒ کو جب پیر سید نیک عالم شاہ ؒ کا عریضہ ملتا تو آپ کھڑے ہوجاتے آنکھوں سے لگا کر چومتے اس سے دونوں صوفی بزرگان سے تعلق اور مقام کا انداز ہوتا ہے- حضرت میاں محمد بخش ؒ نے حضرت پیر سید نیک عالم شاہؒ کی بیماری کے دوران تیمارداری میں تحریر فرمایا
صابراں کم نہ بولنا جی ڈبہ موتیاں دا ویڑے ڈھولناں کی
آپے سوہنڑہ والڑے فکر لائے ذکر انہاں دا کسے پھولناں کی
جد یار نے سیس تے بھاڑ دیتا خبردار پھولئے کی فیر ڈولناں کی
جوٹھا جام امام دا پی کے رہو مست محمد بولناں کی
جواب میں پیر سید نیک عالم شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ رومی کشمیر میاں محمد بخش ؒکو لکھتے ہیں کہ
صابراں ول نہ عاشقاں دے چھاننی وچ پانی ٹھراوناں
کی ہوئے سیس تے بوجھ اٹھا لیے بے سراں نوں پہاڑ چکاوناں کی
اے پر تیغ سموم دیاں زخماں نوں زہر چپ گول پلاوناں کی
جوٹا جام امام دا پی کے عالم نوں مست بناواں کی
حضرت پیر سید نیک عالم شاہ ؒ کے عرس کے موقع پر عالمی مبلغ اسلام پیر محمد عیتق الرحمن سجادہ نشین دربار عالیہ ڈھانگری شریف/فیض پور شریف نے دوران خطاب ایک تاریخی واقعہ سنایا کہ قبلہ شاہ صاحب سلطان اعوان شریف اور حضرت میاں محمد بخش ؒ کے بھائی میاں محمد بہاول بخش نے کچھ بزرگان دین کی موجودگی میں جب نماز کا وقت آیا تو حضرت قاضی صاحب نے پوچھا آج امامت کون کروائے گا-
میاں بہاول بخش ؒ نے فرمایا امامت پیر سید نیک عالم شاہ ؒ کروائیں گے کیونکہ امامت مصلی سادات ہی کا ورثہ ہے اس نماز کے بعد قاضی صاحب نے واپس جانا تھا لیکن قبلہ شاہ صاحب کی امامت میں نماز کا ایسا سرور آیا کہ پانچ نمازیں ادا کرنے کے بعد دوسرے روز واپس تشریف لے گئے-
حضرت پیر سید نیک عالم شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا وصال 23 ربیع الاول 1319ھ کو قدیم میرپورکے نواحی گاؤں گوڑھا سیداں آزاد کشمیر میں ہوا- اس شہر کی جگہ ڈیم کاپانی کھڑا کرنے کا پروگرام بنایا گیا تو سید مراد علی شاہ ؒنے حضرت پیر سید نیک عالم شاہ رحمتہ اللہ علیہ اورحضرت سید شاہ رکن عالم کے جسد خاکی 28 جون 1967 بمطابق 19 ربیع الاول 1377ہجری نئی آبادی سنگوٹ نیو میرپور آزاد کشمیر میں دفن کیے- آپ کا جسد خاکی بالکل صحیح سلامت تھا اور خوشبو کے ہُلّے آرہے تھے۔ آپ کا دوبارہ نماز جنازہ صاحبزادہ حضرت پیر محمد فاضل رحمتہ اللہ علیہ سجادہ نشین دربار عالیہ ڈھانگری شریف (فیض پور شریف) نے پڑھایا۔
حضرت خواجہ محمد حیات خلیفہ مجاز حضرت قاضی سلطان عالم کے سجادہ نشین حضرت قاضی صادق صاحب نے پیر سید نیک عالم شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا عالی شان مزار تعمیر کروایا اور ساتھ ہی ایک خوبصورت مسجد بھی تعمیر کروائی۔ دربار عالیہ پیر سید نیک عالم شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے سجادہ نشین پیر سید مراد علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ انتہائی شفیق، مہربان، مخلص، عاجز و انکساری کا نمونہ تھے- پیر سید مراد علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ 9 اپریل 2006 ء اس دارفانی سے عالم بقاء کی طرف گامزن ہوئے۔ اب ان کے صاحبزادے سید ساجد حسین شاہ گدی نشین ہیں۔ ان کی دستار بندی پیر محمد عتیق الرحمن نے اپنے دست مبارک سے کی – خانوادہ پیر سید محمد نیک عالم شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی مریدین و عقیدت مند پر امید رکھتے ہیں کہ سجادہ نشین اپنے والد صاحب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عرس کا تسلسل جاری رکھیں گے- دربار عالیہ کے سجادہ نشین سید ساجد حسین شاہ ہر سال برطانیہ سے بطور خاص عرس تقریبات کے انتظامات کے سلسلہ میں میرپور تشریف لاتے ہیں۔ دربار شریف کے قرب وجوار میں بسنے والے شہریوں اور عقیدت مندوں نے روحانی عظمت کے اس مینار سے عقیدت رکھتے ہوئے مہمان نوازی میں کوئی کمی نہیں آنے دیتے۔ہر سال 23 ربیع الاوّل سالانہ عرس کے موقع پر مہمانوں کی تواضع میں کوئی فرق نہیں آنے دیتے۔ عقیدت مندوں کو فیوض و برکات حاصل کرنے کے لیے گدی سے اپنی نسبت قائم رکھنی چاہیے- آپ کا دربار اقدس شہر کے ایک کونے منگلا جھیل کے کنارے سنگوٹ میں واقع ہے لیکن دربار عالیہ پر حاضری کے لیے عقیدت مندان کی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ جلد کے امراض کے لوگ یہاں سے تیل استعمال کرکے صحت یاب ہورہے ہیں – تلاوت قرآن خوانی کا سلسلہ بھرپور انداز میں جاری و ساری رہتا ہے-لوگ دوردراز علاقوں سے سفر کر کے نماز جمعہ بھی آپ کی نسبت سے پڑھنے کے لئے آتے ہیں اور فیوض برکات حاصل کرتے ہے اور حضرث پیر سید نیک عالم شاہ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی درجات بلندی کے لیے دعائیں کرتے ہیں – دعاگو ہوں کہ اللہ کریم ہم سب کو ان کے فیوض و برکات نصیب فرمائے اوران کے نقش قدم پر چل کر سیرتِ طیبہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین