افتخارعلی بٹ

“ماں کا پلّو ” محبت، تحفظ اور قربانی کی لازوال علامت تحریر:افتخارعلی بٹ

اس جدید دور میں جہاں ہر چیز بدل رہی ہے، انسان کے رہن سہن، اقدار اور رشتوں کی گرمجوشی بھی پہلے جیسی نہیں رہی۔ لیکن کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کی گرد میں بھی کبھی مدھم نہیں پڑتیں۔ انہی انمول یادوں میں ایک یاد ماں کے پلّو کی بھی ہے۔ وہ پلّو جو محض کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں تھا بلکہ محبت، شفقت، تحفظ، دعا، ایثار اور بے لوث قربانی کی ایک مکمل داستان تھا۔ماں کا پلّو ہر بچے کی پہلی پناہ گاہ ہوا کرتا تھا۔ بچہ جب ڈرتا تو ماں کے پلّو کے پیچھے چھپ جاتا، جب روتا تو اسی پلّو سے اس کے آنسو پونچھے جاتے، جب گرمی سے پسینہ آتا تو یہی پلّو ٹھنڈی ہوا کا احساس دلاتا، اور جب سردی ستاتی تو یہی پلّو لحاف بن کر اپنے وجود میں سمیٹ لیتا۔ بارش برستی تو یہی پلّو چھتری بن جاتا اور دھوپ تپتی تو یہی پلّو سایہ بن کر بچے کو ڈھانپ لیتا۔گھر کے کاموں میں بھی ماں کا پلّو اس کا سب سے بڑا ساتھی ہوتا تھا۔ اسی سے وہ چولہے سے گرم برتن اتارتی، گھر کی صفائی کرتی، بچوں کے ہاتھ اور چہرے صاف کرتی، اور کبھی آنکھ میں گرد چلی جاتی تو اپنے پلّو کو محبت سے گرم کرکے آنکھ پر رکھ دیتی۔ حیرت ہوتی ہے کہ اس معمولی سے کپڑے میں آخر ایسی کون سی تاثیر تھی کہ بچے کا درد لمحوں میں کم ہو جاتا تھا۔ شاید یہ تاثیر پلّو میں نہیں، بلکہ ماں کی بے لوث محبت میں تھی۔ماں کے پلّو کی گرہ بھی ایک عجیب خزانہ ہوا کرتی تھی۔ کبھی اس میں چند سکے بندھے ہوتے، کبھی گھر کی کوئی ضروری چیز، اور کبھی بچوں کے لیے ٹافی یا کوئی چھوٹا سا تحفہ۔ بچے اس گرہ کو کسی بینک سے زیادہ قیمتی سمجھتے تھے، کیونکہ اس میں صرف پیسے نہیں بلکہ ماں کی محبت بندھی ہوتی تھی۔وقت نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ آج بچوں کے ہاتھوں میں مہنگے موبائل فون ہیں مگر ماں کا پلّو نہیں۔جدید سہولتیں ہیں مگر وہ سکون نہیں جو ماں کی گود اور اس کے پلّو کے سائے میں ملا کرتا تھا۔ آج گھروں میں آسائشیں بڑھ گئی ہیں، مگر رشتوں کی وہ مٹھاس کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ شاید اسی لیے نئی نسل ماں کے پلّو کی اہمیت کو پوری طرح محسوس نہیں کر سکتی، کیونکہ انہوں نے وہ دور دیکھا ہی نہیں جب ماں کا پلّو ہی بچے کی دنیا ہوا کرتا تھا۔درحقیقت ماں کا پلّو ایک تہذیب، ایک ثقافت اور ایک نسل کی ایسی یادگار ہے جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حقیقی محبت کسی دولت، آسائش یا ظاہری شان و شوکت کی محتاج نہیں ہوتی۔ محبت تو وہ ہوتی ہے جو ماں اپنے بچے پر بے غرض نچھاور کرتی ہے، اور جس کا سب سے خوبصورت استعارہ اس کا پلّو ہے۔آج اگر ہماری مائیں ہمارے درمیان موجود ہیں تو ان کی خدمت، عزت اور قدر کرنا ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے، اور اگر وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں تو ان کے لیے دعا، ایصالِ ثواب اور ان کی دی ہوئی تربیت پر عمل ہی ان کے ساتھ حقیقی وفاداری ہے۔ماں کا پلّو شاید آج ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا ہو، مگر اس کی خوشبو، اس کی ٹھنڈک، اس کا تحفظ اور اس کی محبت ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔ دنیا کی ہر نعمت اپنی جگہ، مگر ماں کے پلّو جیسا سکون اور تحفظ آج بھی کسی اور چیز میں نہیں مل سکتا۔ماں کے قدموں تلے جنت ہے، اور ماں کا پلّو اس جنت کا پہلا سایہ ہے۔