فیصل جنجوعہ

تعلیم کے خلاف پروپیگنڈا: قوم کے مستقبل سے خطرناک کھیل از قلم: فیصل جنجوعہ

کسی بھی قوم کو کمزور کرنا ہو تو اس کے تعلیمی اداروں پر حملہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ اس کے نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ خیال بٹھا دینا کافی ہوتا ہے کہ “تعلیم کی کوئی اہمیت نہیں، ڈگری بیکار ہے اور کامیابی صرف پیسہ کمانے کا نام ہے۔” افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہی زہر آج سوشل میڈیا اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ہماری نوجوان نسل میں تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے۔ چند غیر معمولی مثالوں کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ تعلیم کے بغیر بھی ہر شخص کامیاب ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی مثالیں استثنا ہوتی ہیں، اصول نہیں۔ کوئی بھی سنجیدہ معاشرہ اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل چند استثنائی کہانیوں پر نہیں بناتا بلکہ مضبوط تعلیمی بنیادوں پر استوار کرتا ہے۔
تعلیم صرف ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔ یہ انسان کو سوچنے، سوال کرنے، تحقیق کرنے، اختلاف کو برداشت کرنے، مسائل کا تجزیہ کرنے اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ یہی اوصاف ایک عام فرد کو ذمہ دار شہری، باکردار انسان اور مؤثر رہنما بناتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں اصلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ رٹا سسٹم، فرسودہ نصاب اور مارکیٹ سے غیر متعلقہ تعلیم نوجوانوں کو مایوس کرتی ہے۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تعلیم بے فائدہ ہو گئی ہے۔ اگر علاج کمزور ہو تو بیماری کا علاج بہتر کیا جاتا ہے، مریض کو علاج چھوڑنے کا مشورہ نہیں دیا جاتا۔ دنیا اس وقت مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیٹا سائنس، بایوٹیکنالوجی، فنانس اور جدید تحقیق کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ مستقبل انہی اقوام کا ہے جو اپنے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم، تحقیق، تخلیقی سوچ اور مسلسل سیکھنے کی عادت سے آراستہ کریں گی۔ صرف وقتی مہارت یا محدود تجربہ انسان کو بدلتی ہوئی دنیا میں زیادہ دیر تک کامیاب نہیں رکھ سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کو ہنر، ٹیکنالوجی اور عملی زندگی سے جوڑا جائے۔ نوجوانوں کو یہ بتایا جائے کہ تعلیم اور ہنر ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ تعلیم ذہن کو وسعت دیتی ہے اور ہنر ہاتھوں کو طاقت؛ دونوں مل کر ہی پائیدار ترقی کی بنیاد بنتے ہیں۔ آج اگر ہم نے اپنی نئی نسل کو تعلیم سے بدظن ہونے دیا تو اس کا نقصان صرف ایک فرد نہیں بلکہ پوری قوم اٹھائے گی۔ اس لیے والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، میڈیا اور حکومت سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کریں اور ایسا نظام تشکیل دیں جو نوجوانوں کو صرف ڈگری نہیں بلکہ علم، کردار، مہارت اور مستقبل کی قیادت کے لیے تیار کرے۔ قومیں تعلیم چھوڑ کر نہیں، تعلیم کو بہتر بنا کر ترقی کرتی ہیں۔ مستقبل ان کا ہے جو سیکھنے کا سفر کبھی نہیں روکتے۔ تعلیم ہی ترقی ہے، تعلیم ہی آزادی ہے، اور تعلیم ہی ایک مضبوط قوم کی اصل شناخت ہے۔