رفیع صحرائی

سیلاب اور مون سون آنے سے پہلے جاگنے والی پنجاب حکومت تحریر: رفیع صحرائی

مون سون کی ابتدا ہو چکی ہے۔ ہمارے ہاں ہر سال جولائی، اگست میں سیلاب آنا بھی معمول کی بات ہے۔ قدرتی آفات کبھی بتا کر نہیں آتیں۔ بارش کی ایک بوند رحمت ہوتی ہے، لیکن جب یہی بوندیں حد سے بڑھ جائیں تو زحمت بن جاتی ہیں۔ دریاؤں میں طغیانی، پہاڑوں سے اترنے والی رودکوہی، شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ اور موسلا دھار بارشیں چند گھنٹوں میں برسوں کی محنت برباد کر سکتی ہیں۔ ہم ہر سال ہی دیکھتے ہیں کہ انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں، مویشی بہہ جاتے ہیں، فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں، گھر پانی میں ڈوب جاتے ہیں اور سڑکیں، پل اور مواصلاتی نظام متاثر ہوتے ہیں۔
اس حوالے سے پنجاب حکومت کی جانب سے رواں مون سون سیزن سے پہلے کی جانے والی تیاری اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی مسلسل نگرانی ایک مثبت اور قابلِ تحسین پیش رفت ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت نے بارشوں اور ممکنہ سیلاب کا انتظار نہیں کیا بلکہ وقت سے پہلے ہی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ گویا حکومت نے یہ پیغام دیا ہے کہ اچھا انتظام وہ نہیں جو آفت آنے کے بعد حرکت میں آئے، بلکہ بہترین انتظام وہ ہے جو آفت آنے سے پہلے اس کے ممکنہ خطرات کو بھانپ لے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام انسانی اور مکینیکل وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے واسا، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، لوکل گورنمنٹ، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مکمل اشتراکِ کار پر زور دیا ہے۔ ان کی جانب سے ہر ضلع میں 24 گھنٹے فعال فلڈ کنٹرول رومز قائم رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فیصلہ سازی اور امدادی سرگرمیوں میں تاخیر نہ ہو۔
پنجاب میں پہلی مرتبہ 41 اضلاع میں واسا کے قیام اور وہاں ایک ہزار ڈی واٹرنگ سیٹ، سکر مشینوں اور دیگر ضروری آلات کی فراہمی یقیناً ایک اہم پیش رفت ہے۔ صوبے بھر میں لاکھوں ٹن ڈی سلٹنگ، ہزاروں کلومیٹر سیوریج لائنوں، لاکھوں مین ہولز اور سینکڑوں کلومیٹر ڈرینز کی صفائی بھی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر حکومتیں وقت سے پہلے تیاری کر لیں تو بارش کے پانی کو شہری زندگی کے لیے عذاب بننے سے بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔
گجرات اس کی ایک اچھی مثال ہے۔ جہاں ماضی میں بارش کے بعد پانی کئی کئی دن کھڑا رہتا تھا، وہاں اس مرتبہ چند گھنٹوں میں نکاسی آب ہونا ایک مثبت تبدیلی ہے۔ یہ صرف مشینوں کی تعداد کا نتیجہ نہیں بلکہ پیشگی منصوبہ بندی، انتظامیہ کی فعالیت اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطے کا ثمر ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا اپنی ٹیم کی کارکردگی کو سراہنا بھی قابلِ تحسین ہے، کیونکہ اچھی کارکردگی کی حوصلہ افزائی انتظامی مشینری کو مزید بہتر کام کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
تاہم بارش کا پانی صرف سڑکوں اور گلیوں میں جمع نہیں ہوتا، بعض اوقات یہ انسانی غفلت کے نتیجے میں جان لیوا بھی بن جاتا ہے۔ بارش کے دوران بجلی کے کھمبوں سے لٹکتے تاروں اور کرنٹ لگنے سے شہریوں کی اموات ایک انتہائی افسوسناک حقیقت ہے جس کا مشاہدہ ہم اکثر کرتے رہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کی ہدایت اس لیے بھی اہم ہے کہ انسانی جان سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو چاہیے کہ مون سون سے پہلے اپنے پورے نظام کا سیفٹی آڈٹ کریں، خطرناک تاروں کو درست کریں اور ایسے تمام مقامات کی نشاندہی کریں جہاں بارش کے دوران شہریوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
اسی طرح مین ہولز، گٹر، کھلے گڑھے اور خستہ حال عمارتیں بھی بارش کے موسم میں موت کے کنویں بن سکتی ہیں۔ ان تمام مقامات کو محفوظ بنانا، بوسیدہ عمارتوں کا جائزہ لینا اور خطرناک عمارتوں کو خالی کرانے کا فیصلہ پنجاب حکومت کے بروقت اور ضروری اقدامات ہیں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بارش اور سیلاب کے دنوں میں بچوں کو ندی نالوں، دریاؤں، ڈیموں، بیراجوں اور دیگر خطرناک مقامات پر جانے سے روکیں۔ حکومت کی طرف سے آگاہی مہم چلانا اور عوام کا اس پر عمل کرنا مل کر ہی قیمتی جانیں بچا سکتا ہے۔
قدرتی آفت کے بعد دوسرا بڑا خطرہ بیماریوں کا ہوتا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ سیلابی پانی کے ساتھ سانپوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، آلودہ پانی سے ہیضہ، ٹائیفائڈ، ڈائریا اور دیگر بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔ اس لیے سانپ کے کاٹے کی ادویات کی دستیابی اور ’’کلینک آن ویل‘‘ جیسی طبی سہولتوں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچانے کی ہدایت ان کا ایک بروقت فیصلہ ہے۔ سیلاب سے نمٹنے کی حکمت عملی میں صحت کا شعبہ بھی اتنا ہی اہم ہونا چاہیے جتنا کہ ریسکیو اور نکاسی آب کا نظام اہم ہے۔
گزشتہ سال کے سیلاب اور بارشوں کو بھی ہمیں نہیں بھولنا چاہیے۔ تباہی بہت وسیع تھی، نقصانات بے پناہ تھے، لیکن ایک خوش آئند پہلو یہ تھا کہ پاکستان نے ماضی کی طرح عالمی برادری کے سامنے امداد کے لیے کشکول نہیں پھیلایا بلکہ اپنے وسائل سے متاثرین کی مدد کی تھی۔ پنجاب حکومت نے بھی متاثرین کو مالی امداد فراہم کی اور اس مشکل گھڑی میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف، صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی کا متاثرہ علاقوں میں موجود رہنا عوام کے لیے حوصلے کا باعث بنا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مصیبت کے وقت حکمرانوں کی موجودگی صرف تصویروں اور بیانات کا معاملہ نہیں ہوتی۔ ایک پریشان حال خاندان کے لیے یہ احساس کہ حکومت اس کے دکھ میں شریک ہے، بذاتِ خود ایک بڑی امید ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا مشکل وقت میں عوام کے درمیان موجود رہنا اور انتظامیہ کو متحرک رکھنا اسی اعتبار سے قابلِ تحسین ہے۔
پنجاب حکومت کو چاہیے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیموں کی تعمیر کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔ پہاڑی علاقوں سے آنے والا پانی اگر بے قابو ہو کر آبادیوں کو تباہ کرنے کے بجائے چھوٹے ڈیموں، چیک ڈیموں اور واٹر ریزروائرز میں محفوظ کر لیا جائے تو یہی پانی تباہی کے بجائے زراعت، صنعت اور پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہمیں یہ سوچ بھی بدلنا ہوگی کہ بارش کا پانی ایک مسئلہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پانی مسئلہ نہیں، پانی کو محفوظ نہ کرنا مسئلہ ہے۔
پاکستان پانی کے بحران کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ بڑے شہروں میں آبادی بڑھ رہی ہے، ٹیوب ویل زیادہ گہرے ہوتے جا رہے ہیں اور بارش کا قیمتی پانی نالوں کے ذریعے بہہ کر ضائع ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال آنے والی نسلوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اس مسئلے کا ایک مؤثر حل یہ ہے کہ ہر شہر، قصبے اور گاؤں میں بلدیاتی اداروں کے ذریعے بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرنے کے لیے ری چارج ویلز اور مناسب مقامات پر کنویں تعمیر کیے جائیں۔ پارکس، گرین بیلٹس، اسکولوں، سرکاری عمارتوں اور دیگر مقامات پر رین واٹر ہارویسٹنگ کے منصوبے شروع کیے جائیں۔ اگر آج بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور زیرِ زمین آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنے کا عمل شروع کر دیا جائے تو ہم آنے والی نسلوں کو پانی کے ایک بڑے بحران سے بچا سکتے ہیں۔
اسی طرح سیلابی گزرگاہوں اور قدرتی نالوں پر تجاوزات کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ شہروں کی بے ہنگم توسیع نے قدرتی آبی راستوں کو محدود کر دیا ہے۔ پانی جب اپنی قدرتی گزرگاہ سے محروم ہوتا ہے تو وہ انسانی آبادیوں کا رخ کرتا ہے۔ اس لیے نئی ہاؤسنگ اسکیموں، سڑکوں اور دیگر تعمیرات کی منظوری دیتے وقت قدرتی نکاسی آب اور موسمیاتی خطرات کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔
پنجاب حکومت کی موجودہ پیشگی تیاری اس حوالے سے ایک اچھی ابتدا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور ان کی ٹیم نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر حکومت آفت سے پہلے جاگ جائے تو آفت کے بعد ہونے والی تباہی کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پیشگی منصوبہ بندی کو ایک مستقل ادارہ جاتی نظام بنایا جائے جو حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہ ہو۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی یہ خوبی لائقِ تحسین ہے کہ وہ مشکل وقت میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔ قیادت کا اصل امتحان خوش حالی کے دنوں میں نہیں، بحران کے وقت ہوتا ہے۔ جب بارش ہو، سیلاب آئے، سڑکیں بند ہوں، لوگ گھروں میں محصور ہوں اور عوام خوفزدہ ہوں، اس وقت جو قیادت عوام کے درمیان موجود ہو، انتظامیہ کو متحرک رکھے اور خود صورتحال کی نگرانی کرے، وہ یقیناً عوام کے اعتماد کو مضبوط کرتی ہے۔
پنجاب حکومت نے اس مرتبہ سیلاب اور بارشوں سے پہلے جو اقدامات کیے ہیں، ان کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ تنقید جمہوریت کا حسن ہے، لیکن جہاں کوئی حکومت اچھا کام کرے وہاں کھلے دل سے اعتراف بھی ہونا چاہیے۔ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
پنجاب حکومت کی موجودہ پیشگی منصوبہ بندی امید کی ایک روشن کرن ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس روشنی کو مستقل حکمتِ عملی میں تبدیل کیا جائے۔ کیونکہ بہترین حکومت وہ نہیں جو سیلاب کے بعد متاثرین کو تلاش کرے، بلکہ بہترین حکومت وہ ہے جو سیلاب آنے سے پہلے اپنے عوام کو محفوظ کر لے۔