انجینئر بخت سید یوسفزئی - قلمِ حق

ڈارک ویب: پوشیدہ دنیا کے خطرناک راز تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق

انٹرنیٹ آج ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ تعلیم، کاروبار، بینکاری، خریداری، سرکاری خدمات اور سماجی رابطوں سے لے کر تفریح تک تقریباً ہر کام آن لائن انجام دیا جا رہا ہے۔ لیکن جس طرح حقیقی دنیا میں محفوظ اور خطرناک دونوں طرح کی جگہیں موجود ہوتی ہیں، اسی طرح انٹرنیٹ کی دنیا میں بھی مختلف سطحیں ہیں جن کے بارے میں عام صارفین کو مکمل معلومات نہیں ہوتیں۔ ان میں سرفیس ویب، ڈیپ ویب اور ڈارک ویب شامل ہیں، جنہیں سمجھنا ہر انٹرنیٹ صارف کے لیے ضروری ہے۔
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گوگل پر جو کچھ نظر آتا ہے، وہی پورا انٹرنیٹ ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سرچ انجن صرف ان ویب صفحات کو دکھاتے ہیں جو عوام کے لیے کھلے ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ کا ایک بہت بڑا حصہ ایسا بھی ہے جو سرچ انجنوں میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ ایک نہایت چھوٹا مگر حساس حصہ ایسا بھی ہے جہاں رسائی خصوصی طریقوں سے حاصل کی جاتی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں جرائم پیشہ عناصر بھی سرگرم ہو سکتے ہیں۔
سب سے پہلے سرفیس ویب کو سمجھنا ضروری ہے۔ سرفیس ویب ان تمام ویب سائٹس پر مشتمل ہوتا ہے جو عام سرچ انجنوں جیسے گوگل، بنگ یا یاہو کے ذریعے آسانی سے دیکھی جا سکتی ہیں۔ خبروں کی ویب سائٹس، تعلیمی اداروں کے صفحات، آن لائن شاپنگ، سوشل میڈیا اور سرکاری معلومات اسی حصے کا حصہ ہیں۔ عام صارفین روزانہ اسی سطح پر انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔
اس کے بعد ڈیپ ویب آتا ہے، جسے اکثر لوگ غلطی سے خطرناک سمجھ لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈیپ ویب کا زیادہ تر حصہ مکمل طور پر قانونی اور محفوظ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ کی ای میل، آن لائن بینک اکاؤنٹ، ہسپتال کا ریکارڈ، یونیورسٹی کے پورٹل، نجی کمپنیوں کے ڈیٹا بیس اور پاس ورڈ سے محفوظ ویب صفحات سب ڈیپ ویب کا حصہ ہیں۔ یہ معلومات سرچ انجن میں نظر نہیں آتیں کیونکہ ان کا مقصد صرف متعلقہ صارفین کو رسائی دینا ہوتا ہے۔
ڈارک ویب اس کے بعد آتا ہے، جو انٹرنیٹ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے لیکن اس تک عام براؤزر کے ذریعے رسائی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اس کے لیے خصوصی سافٹ ویئر اور مخصوص نیٹ ورک استعمال کیے جاتے ہیں۔ ڈارک ویب کو مکمل طور پر غیر قانونی کہنا درست نہیں، کیونکہ بعض صحافی، انسانی حقوق کے کارکن اور ایسے افراد جو سخت سنسرشپ والے ممالک میں رہتے ہیں، اپنی شناخت محفوظ رکھنے کے لیے بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اس کے کچھ حصے مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ڈارک ویب کا نام سنتے ہی لوگوں کے ذہن میں خوف پیدا ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں شناخت چھپانے کی سہولت بعض افراد کو غیر قانونی کاموں کی طرف بھی راغب کرتی ہے۔ اسی ماحول کا فائدہ اٹھا کر دھوکہ باز معصوم لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں اور مالی یا ذاتی نقصان پہنچاتے ہیں۔
بہت سے لوگ تجسس کی وجہ سے ڈارک ویب تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا یا ویڈیوز میں اس کے بارے میں سن کر سمجھتے ہیں کہ یہاں کوئی خفیہ دنیا موجود ہے جہاں ہر چیز آسانی سے مل جاتی ہے۔ یہی تجسس بعض اوقات ان کے لیے بڑی مشکلات پیدا کر دیتا ہے کیونکہ وہ دھوکہ باز ویب سائٹس یا مجرموں کے رابطے میں آ جاتے ہیں۔
کئی افراد کو جعلی آن لائن ملازمتوں کے ذریعے بھی پھنسایا جاتا ہے۔ انہیں زیادہ تنخواہ، گھر بیٹھے کام اور فوری ادائیگی کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ بعد میں رجسٹریشن فیس، سیکیورٹی ڈپازٹ یا شناختی دستاویزات مانگ کر ان سے رقم اور ذاتی معلومات حاصل کر لی جاتی ہیں، جبکہ اصل میں ایسی کوئی نوکری موجود ہی نہیں ہوتی۔
اسی طرح کچھ ویب سائٹس غیر قانونی خدمات کے نام پر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ بعض لوگ سستی اشیاء، خفیہ معلومات یا شارٹ کٹ کے لالچ میں ایسی جگہوں کا رخ کرتے ہیں، مگر اکثر صورتوں میں انہیں صرف دھوکہ، مالی نقصان یا قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ڈارک ویب سے متعلق ایک عام فراڈ جعلی ہیکنگ سروسز کا بھی ہے۔ انٹرنیٹ پر ایسے لوگ خود کو ماہر ہیکر ظاہر کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کسی کا فون، ای میل یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک کر سکتے ہیں۔ حقیقت میں ان میں سے زیادہ تر افراد صرف لوگوں سے رقم وصول کرتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں، یا الٹا ان ہی کے کمپیوٹر اور اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مالویئر بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ مالویئر ایسے نقصان دہ پروگرام ہوتے ہیں جو کمپیوٹر یا موبائل میں داخل ہو کر معلومات چوری کر سکتے ہیں، فائلیں خراب کر سکتے ہیں یا صارف کی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ یہ اکثر جعلی سافٹ ویئر، مشکوک لنکس یا غیر قانونی ڈاؤن لوڈز کے ذریعے پھیلائے جاتے ہیں۔
رینسم ویئر مالویئر کی ایک خطرناک قسم ہے۔ یہ صارف کی تمام فائلوں کو خفیہ کر دیتا ہے اور پھر انہیں واپس کھولنے کے لیے تاوان طلب کیا جاتا ہے۔ کئی افراد اور ادارے اپنی قیمتی معلومات کھو بیٹھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس مناسب بیک اپ موجود نہیں ہوتا۔
اسپائی ویئر بھی خاموشی سے نقصان پہنچانے والا سافٹ ویئر ہے۔ یہ صارف کی معلومات، پاس ورڈز، بینکاری کی تفصیلات اور دیگر حساس ڈیٹا خفیہ طور پر جمع کرتا رہتا ہے۔ متاثرہ شخص کو اکثر اس وقت تک علم نہیں ہوتا جب تک اس کے اکاؤنٹس یا مالی وسائل کو نقصان نہ پہنچ جائے۔
بلیک میلنگ اور آن لائن بھتہ خوری بھی تیزی سے بڑھتے ہوئے جرائم میں شامل ہیں۔ مجرم جعلی دوستی، رومانوی تعلقات یا سوشل میڈیا رابطوں کے ذریعے لوگوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں، پھر ذاتی تصاویر، ویڈیوز یا معلومات حاصل کر کے انہیں لیک کرنے کی دھمکی دیتے ہیں اور رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔
بعض اوقات متاثرہ افراد خوف کی وجہ سے مجرموں کی بات مان لیتے ہیں، مگر اس سے مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔ زیادہ تر صورتوں میں ایک بار رقم دینے کے بعد مزید مطالبات شروع ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ایسے معاملات میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کرنا زیادہ مؤثر اور محفوظ طریقہ ہوتا ہے۔
بچوں اور نوجوانوں کو بھی سائبر جرائم پیشہ افراد خاص طور پر نشانہ بناتے ہیں۔ آن لائن گیمز، چیٹنگ ایپس اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان سے دوستی کی جاتی ہے، پھر انہیں مختلف بہانوں سے ذاتی معلومات یا تصاویر شیئر کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ والدین کو اس حوالے سے اپنے بچوں کی مناسب رہنمائی کرنا ضروری ہے۔
خاندان کے ہر فرد کو مضبوط پاس ورڈ استعمال کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ ایک ہی پاس ورڈ کو مختلف ویب سائٹس پر استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور جہاں ممکن ہو دو مرحلہ جاتی تصدیق (Two-Factor Authentication) کو فعال رکھنا چاہیے تاکہ اکاؤنٹس زیادہ محفوظ رہیں۔
غیر معروف ویب سائٹس سے سافٹ ویئر، فلمیں، گیمز یا دیگر فائلیں ڈاؤن لوڈ کرنا بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسی فائلوں میں نقصان دہ پروگرام چھپے ہو سکتے ہیں جو صارف کو معلوم ہوئے بغیر اس کے کمپیوٹر یا موبائل کا کنٹرول حاصل کر لیں۔
آن لائن بینکاری کرتے وقت بھی خصوصی احتیاط ضروری ہے۔ کبھی بھی ای میل، فون کال یا پیغام کے ذریعے موصول ہونے والے مشکوک لنکس پر کلک نہ کریں اور نہ ہی اپنے بینک کی معلومات کسی نامعلوم شخص کو فراہم کریں۔ معتبر ادارے عام طور پر اس طرح حساس معلومات طلب نہیں کرتے۔
سائبر سیکیورٹی صرف ماہرین کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر صارف کی ذمہ داری ہے۔ وقتاً فوقتاً سسٹم اور ایپلی کیشنز کو اپ ڈیٹ رکھنا، اینٹی وائرس استعمال کرنا، بیک اپ محفوظ رکھنا اور مشکوک سرگرمیوں پر فوری ردعمل دینا بڑے نقصانات سے بچا سکتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انٹرنیٹ بذاتِ خود خطرناک نہیں بلکہ اس کا غلط استعمال خطرات پیدا کرتا ہے۔ اگر صارف درست معلومات، احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ انٹرنیٹ استعمال کرے تو وہ اس کے بے شمار فوائد سے محفوظ انداز میں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
آج کے دور میں سائبر آگاہی اتنی ہی ضروری ہے جتنی حقیقی دنیا میں ٹریفک قوانین یا ذاتی حفاظت کی تعلیم۔ والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، سرکاری اداروں اور میڈیا کو مل کر عوام میں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ ہر آن لائن پیشکش، ہر لنک اور ہر پیغام قابلِ اعتماد نہیں ہوتا۔
یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ آن لائن حفاظت کا آغاز علم اور احتیاط سے ہوتا ہے۔ سرفیس ویب، ڈیپ ویب اور ڈارک ویب کے درمیان فرق کو سمجھنا، سائبر مجرموں کے عام ہتھکنڈوں سے آگاہ رہنا اور ذاتی معلومات، پاس ورڈز، بینکاری کی تفصیلات اور اپنے خاندان کی پرائیویسی کی حفاظت کرنا ہی محفوظ ڈیجیٹل زندگی کی بنیاد ہے۔ آج کی تھوڑی سی احتیاط مستقبل کے بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے۔