ٹیلی نار

ٹیلی نار ہیڈ آفس کی نام پلیٹ اتار دی گئی ، پاکستان میں ایک دور کا اختتام

ٹیلی نار پاکستان کا سفر اپریل 2004 میں شروع ہوا، جب ناروے کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ٹیلی نار گروپ نے پاکستان میں جی ایس ایم موبائل سروس کا لائسنس 291 ملین ڈالر میں حاصل کیا۔ 15 مارچ 2005 کو اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی سے باقاعدہ کمرشل سروسز شروع کی گئیں، جبکہ چند ہی دن بعد لاہور، فیصل آباد، حیدرآباد اور کراچی تا حیدرآباد ہائی وے تک نیٹ ورک کو وسعت دے دی گئی۔
2006 میں نوجوانوں کے لیے ڈی جوس متعارف کرایا گیا۔ 2009 میں ٹیلی نار پاکستان اور تعمیر مائیکروفنانس بینک نے مشترکہ طور پر ایزی پیسہ شروع کیا، جسے پاکستان کی پہلی برانچ لیس موبائل منی ٹرانسفر سروس قرار دیا جاتا ہے۔ ایزی پیسہ نے رقم بھیجنے، بل ادا کرنے اور مالیاتی خدمات تک رسائی کا طریقہ بدل دیا، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جن کے پاس روایتی بینک اکاؤنٹ موجود نہیں تھا۔
یہ کہنا تکنیکی طور پر درست نہیں کہ ٹیلی نار نے ان تمام ٹیکنالوجیز کو خود “ایجاد” کیا، البتہ کمپنی نے پاکستان میں متعدد ڈیجیٹل خدمات کو پہلی مرتبہ یا بڑے پیمانے پر متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان میں ایزی پیسہ، موبائل زرعی معلومات، محفوظ انٹرنیٹ آگاہی، معذور افراد کے لیے اوپن مائنڈ پروگرام، بچوں کی ڈیجیٹل برتھ رجسٹریشن، خواتین کسانوں کے لیے خوشحال آنگن، نوجوان کاروباروں کے لیے ٹیلی نار ویلاسٹی اور دور دراز علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ کی توسیع شامل ہیں۔
2014 میں ٹیلی نار نے پاکستان میں 3G سروسز شروع کیں۔ 2015 میں کنیکٹڈ ڈیوائس منصوبے کے ذریعے انٹرنیٹ آف تھنگز پر کام کیا، جبکہ خوشحال زمیندار کے ذریعے کسانوں کو مقامی موسم، فصلوں، مویشیوں، منڈی اور زرعی مشوروں کی معلومات فراہم کی گئیں۔ 2016 میں پاکستانی اسٹارٹ اپس کے لیے ٹیلی نار ویلاسٹی پروگرام شروع ہوا اور 2017 میں یونیسیف اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ڈیجیٹل برتھ رجسٹریشن منصوبے کو آگے بڑھایا گیا۔
ٹیلی نار کے سرکاری تاریخی ریکارڈ کے مطابق کمپنی 2019 میں پاکستان میں VoLTE فعال کرنے والی پہلی موبائل آپریٹر بنی، گلگت بلتستان میں 4G سروس شروع کی اور پاکستان کا پہلا Narrowband Internet of Things یعنی NB-IoT نیٹ ورک متعارف کرایا۔ بعد میں ہنزہ جیسے دور دراز علاقوں تک 4G پہنچایا اور پاکستان کا تیز ترین 5G ٹرائل کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔
اپنے عروج پر ٹیلی نار پاکستان نے کروڑوں صارفین کو موبائل اور ڈیجیٹل خدمات فراہم کیں۔ کمپنی کے مطابق اس کا نیٹ ورک ملک کی 80 فیصد سے زائد آبادی تک پہنچا اور اس کے صارفین کی تعداد 42 ملین سے زیادہ رہی۔ ٹیلی نار نے شہری علاقوں کے ساتھ دیہی، پہاڑی اور کم سہولیات والے علاقوں میں بھی رابطے اور مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا۔
دسمبر 2023 میں PTCL نے ٹیلی نار پاکستان اور اورین ٹاورز کے 100 فیصد حصص خریدنے کا معاہدہ کیا، جس میں ٹیلی نار پاکستان کی انٹرپرائز ویلیو 108 ارب روپے مقرر کی گئی۔ تمام قانونی اور ریگولیٹری مراحل مکمل ہونے کے بعد 31 دسمبر 2025 کو ٹیلی نار گروپ نے ٹیلی نار پاکستان کی فروخت باضابطہ طور پر مکمل کردی۔
جولائی 2026 میں ٹیلی نار پاکستان کو پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ یعنی PTML، آپریٹنگ بطور Ufone 5G میں باضابطہ طور پر ضم کردیا گیا۔ اس انضمام کے بعد ٹیلی نار پاکستان کی الگ قانونی شناخت ختم ہوگئی اور اس کے نیٹ ورک، انفراسٹرکچر، صارفین اور آپریشنز نئے مشترکہ ادارے کا حصہ بن گئے۔
آج ہیڈ آفس سے ٹیلی نار کی نام پلیٹ اتارنے کا یہ منظر صرف ایک بورڈ ہٹانے کا منظر نہیں، بلکہ پاکستان کی ٹیلی کام تاریخ کے ایک بڑے باب کے اختتام کی علامت ہے۔ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں ٹیلی نار نے لاکھوں لوگوں کو پہلی موبائل کال، پہلا انٹرنیٹ کنکشن، رقم کی پہلی ڈیجیٹل منتقلی اور دنیا سے رابطے کی بے شمار یادیں دیں۔