صاف پانی کی فراہمی

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صاف پانی کی فراہمی کے لئے مسلسل پانچواں اجلاس

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے مسلسل پانچواں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پنجاب کے مختلف اضلاع میں پینے کے صاف پانی کی دستیابی، واٹر سپلائی پائپ لائن منصوبوں اور واٹر فلٹریشن پلانٹس کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ حکام اور تمام متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران چکوال، راولپنڈی، راجن پور، فیصل آباد، مری اور اٹک میں جاری اور مجوزہ واٹر سپلائی پراجیکٹس پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہدایت کی کہ مختلف علاقوں کی آبادی کے مطابق پانی کی حقیقی ضرورت کا مستند ڈیٹا مرتب کرنے کے ساتھ اس کی مکمل تصدیق بھی یقینی بنائی جائے تاکہ پانی کی فراہمی کے منصوبے حقیقی ضروریات کے مطابق ترتیب دیے جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے راجن پور میں فوری طور پر 21 واٹر باؤزرز فراہم کرنے کی ہدایت کی، جبکہ مری میں پینے کے پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے واٹر ٹینکس مہیا کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے مری میں نئے واٹر سورس پر بھی کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں چکوال کے پانی کی قلت کا شکار 8 دیہات میں ترجیحی بنیادوں پر واٹر سپلائی فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ چکوال میں 32 واٹر فلٹریشن پلانٹس موجود ہیں جبکہ 237 مزید زیر تعمیر ہیں، اس کے علاوہ 15 مثالی گاؤں اور 13 ماڈل ویلجز بھی شامل ہیں۔ راولپنڈی میں اس وقت 246 واٹر فلٹریشن پلانٹس موجود ہیں جبکہ مزید 252 پلانٹس لگانے کا منصوبہ ہے۔ اٹک میں 77 واٹر فلٹریشن پلانٹس موجود ہیں، 399 زیر تکمیل ہیں اور 9 مثالی گاؤں بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ راجن پور میں 146 واٹر فلٹریشن پلانٹس پہلے سے موجود ہیں جبکہ 191 زیر تکمیل ہیں۔ ضلع میں 12 مثالی گاؤں اور ایک ماڈل ویلج بھی قائم کیا جائے گا۔ اجلاس میں راجن پور، جام پور، چک شگاری اور داجل میں واٹر سپلائی کے پائلٹ پراجیکٹس کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔