مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا
مروت حسن عالم گیر ہے مردان غازی کا
کہاں سے تو نے اے اقبالؔ سیکھی ہے یہ درویشی
کہ چرچا پادشاہوں میں ہے تیری بے نیازی کا
صوبہ پنجاب کی سیاسی و سماجی تاریخ میں بعض شخصیات اپنی خدمت، شائستگی اور عوامی وابستگی کے باعث نمایاں مقام حاصل کر لیتی ہیں۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے منصب کو عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا اور ہمیشہ جمہوری اقدار، عوامی مسائل اور قومی یکجہتی کو ترجیح دی۔ بطور گورنر پنجاب انہوں نے صوبے میں سیاسی استحکام، تعلیمی بہتری اور عوامی رابطوں کے فروغ کے لیے قابلِ قدر کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں گورنر ہاؤس کو عوام دوست ادارہ بنانے کی کوشش کی گئی، جہاں نوجوانوں، طلبہ، سماجی کارکنوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی رائے پیش کرنے کا موقع ملا۔
سردار سلیم حیدر خان کی شخصیت شائستگی، تحمل اور سیاسی بصیرت کا حسین امتزاج ہے۔ وہ ہمیشہ جمہوریت، آئین اور عوامی حقوق کے علمبردار رہے ہیں۔ سیاسی میدان میں ان کی جدوجہد اور عوامی وابستگی نئی نسل کے لیے ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے نہ صرف سیاسی استحکام کے لیے کوششیں کیں بلکہ قومی یکجہتی اور بین الصوبائی ہم آہنگی کے فروغ میں بھی مثبت کردار ادا کیا۔آج جب معاشرہ قیادت کے معیار کو پرکھ رہا ہے، ایسے وقت میں سردار سلیم حیدر خان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ ان کی سیاسی بصیرت، عوام دوستی اور خدمتِ خلق کا جذبہ انہیں دیگر رہنماؤں سے ممتاز بناتا ہے۔ قوم ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور امید رکھتی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت جاری رکھیں گے۔
بلاشبہ، گورنر پنجاب کوخراجِ تحسین پیش کرنا دراصل ان تمام مثبت اقدار کو سلام پیش کرنا ہے جو جمہوریت، خدمت اور عوامی فلاح کے اصولوں پر قائم ہیں۔تاریخ کے پہلے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نےخود کو احتساب کے لیے پیش کیا ۔ قانون کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ ہر شخص، خواہ وہ کسی بھی عہدے پر فائز ہو، قانون کے سامنے جوابدہ ہو۔ اگر احتساب شفاف، غیر جانبدار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق ہو تو اس سے عوام کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے اور اداروں کی ساکھ بہتر بنتی ہے۔ لیکن اگر احتساب سیاسی انتقام یا مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال ہو تو یہ جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
گورنر ھاوس لاھور میں اپنے 2 سال مکمل ھونے پر سیاسی قائدین اور سینئر صحافیوں کے سامنے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ھوئے انہوں کہا کہ میں نے محدود وسائل کے باوجود عوامی کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ھے دور دراز علاقوں جہاں پر تعلیم اور صحت کی سہولتیں میسر نہ تھی وہاں پر سہولیات فراھم کیں ،بچیوں کی شادیاں، ٹرانسپورٹ کی فراھمی،تھلیسیمیا کے بچوں کا ھسپتال،گردوں کے مریضوں کے لیے ڈایلسیز سنٹر کا قیام،سیلاب زدگان کیلئے مکانات کی تعمیر،یونیورسٹیوں کی بہتری کے لیے اقدامات،اپیلوں کی سماعت کے ذریعے انصاف کی تیز ترین فراھمی، اور دیگر اقدامات کے ذریعے عوام کو ریلیف پہنچانے کی ھر ممکن کوشش کی،فلاحی اقدامات میں مجھے مخیر حضرات اور دوستوں کی مدد حاصل رھی،میں ان پیسوں کا حساب دینے کے لیے ھر وقت تیار ھوں،میں نے پنجاب حکومت کو جتنے مشورے دئیے ھیں ان میں بیشتر پر عملدرآمد ھوا مثال کے طور پر ٹریفک کے جرمانوں میں کمی کا قانون ھے گورنر پنجاب نے کہا کہ پنجاب حکومت کو مشورے میڈیا کو اس لیے جاری نہی کرتا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ پوائنٹ سکورنگ اور میڈیا میں ھیڈ لائن لگوانے کے لیے ھے-
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے واضح کیا ہے کہ وہ ہر قسم کے احتساب کے لیے تیار ہیں اور قانون کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ عوامی عہدوں پر فائز شخصیات کو شفافیت اور جوابدہی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد ریاستی اداروں پر قائم رہے۔گورنر پنجاب کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی معاملے میں سوالات اٹھتے ہیں تو ان کا جواب قانون اور آئین کے دائرے میں دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ احتساب صرف سیاسی مخالفین کے لیے نہیں بلکہ ہر فرد کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق غیر جانبدار اور شفاف احتساب ہی جمہوریت کو مضبوط بناتا ہے۔سیاسی حلقوں میں اس بیان کو اہم قرار دیا گیا کیونکہ پاکستان کی سیاست میں اکثر احتسابی معاملات تنازعات کا شکار رہتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سیاسی قیادت خود کو احتساب کے لیے پیش کرے تو اس سے جمہوری روایات کو فروغ ملتا ہے اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
گورنر پنجاب نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے سیاسی کردار اور عوامی خدمت کے سفر میں ہمیشہ آئین اور قانون کی پاسداری کرتے رہے ہیں، اور آئندہ بھی ہر قانونی عمل میں مکمل تعاون کریں گے۔ ان کے مطابق سچائی اور شفافیت ہی سیاسی قیادت کا اصل سرمایہ ہوتی ہے۔صوبوں کے قیام کے متعلق گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کا بڑا واضح موقف ھے کہ صوبے عوام کی مرضی اور خواہش کے بغیر نہیں بنائے جا سکتے۔تاریخ گواہ ہے کہ زبردستی مسلط کیے گئے فیصلے کبھی دیرپا استحکام کا باعث نہیں بنتے۔ملک کی وحدت، مضبوطی اور خوشحالی کا حقیقی راستہ عوام کی مرضی، آئین کی بالادستی اور جمہوری اصولوں سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔عوام کی آواز کا احترام ہی مضبوط وفاق اور مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔