رفیع صحرائی

بے بس مریض کس سے فریاد کریں؟ تحریر: رفیع صحرائی

کسی بھی مہذب ریاست کی سب سے بڑی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہاں بیمار انسان کو زندگی بچانے والی دوا آسانی سے میسر ہو۔ آسانی سے مراد ادویہ کی فراوانی نہیں بلکہ ان کی قیمت عام آدمی کی دسترس میں ہو۔ اگر ایک مزدور، ریڑھی بان، کسان، پنشنر یا سفید پوش ملازم ڈاکٹر کے نسخے کو ہاتھ میں لیے میڈیکل سٹور پر کھڑا ہو اور دوا کی قیمت سن کر خاموشی سے واپس لوٹ آئے تو یہ صرف اس کی ذاتی بے بسی نہیں بلکہ پورے حکومتی نظام کی ناکامی کا اعلان ہے۔ بدقسمتی سے ہم وطنِ عزیز میں یہی منظر روزانہ ہزاروں مرتبہ دیکھتے ہیں جب مریض ہاتھ میں ادویہ کی پرچی پکڑے بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں۔
ملک میں پہلے ہی بجلی، گیس، پٹرول اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ سنا ہے گندم کا بحران بھی آنے کو پر تول رہا ہے۔ ایسے میں ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ گویا زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ایک طرف حکومت عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے دباتی جا رہی ہے اور دوسری طرف مختلف مافیاز کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے کہ وہ عوام کی جیبوں پر آخری وار بھی کر ڈالیں۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ صحت جیسے مقدس شعبے میں بھی منافع کو انسانی جانوں پر ترجیح دی جا رہی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں یہ انکشاف کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران متعدد ادویات کی قیمتوں میں سو فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن حقیقت یہ ہے کہ ادویات کی قیمتوں کے تعین کا اختیار خود ادویہ بنانے والی کمپنیوں کے پاس ہے۔ دنیا بھر میں ریاستیں عوام کو ریلیف دینے کے لیے ضروری اشیاء اور ادویات کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھتی ہیں، لیکن پاکستان میں بظاہر الٹی گنگا بہہ رہی ہے جہاں نگران دور میں شروع ہونے والی پالیسی کو بعد ازاں بھی برقرار رکھا گیا اور عوام کو مہنگی دواؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
یہ سوال ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ اگر وفاقی وزارتِ صحت کہتی ہے کہ قیمتوں کے تعین میں اس کا کوئی کردار نہیں اور ڈریپ بھی محدود اختیارات کا رونا روتا ہے تو پھر اس ریاست میں عوام کے جان و مال کا محافظ کون ہے؟ آخر وہ کون سا ادارہ ہے جو ادویات کی قیمتوں کا احتساب کرے گا؟ اگر کسی مریض کی جان صرف اس لیے چلی جائے کہ وہ دوا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو اس کی اخلاقی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت ملکی معیشت کا ایک اہم شعبہ ہے۔ اس کی ترقی، برآمدات اور سرمایہ کاری قابلِ تحسین ہیں، مگر کسی بھی کاروبار کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ بیمار انسان کی مجبوری کو منافع کمانے کا ذریعہ بنا لے۔ علاج کوئی عیاشی نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے، جس کی ضمانت ریاست نے دینی ہوتی ہے۔
آج دیہات سے لے کر بڑے شہروں تک لاکھوں مریض شوگر، دل، دمہ، بلڈ پریشر، گردوں اور کینسر جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ان میں سے بے شمار ایسے ہیں جو ڈاکٹر کی تجویز کردہ پوری دوا خریدنے کے بجائے آدھی دوا لیتے ہیں، خوراک کم کر دیتے ہیں یا علاج ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ بیماری کی شدت، مزید پیچیدگیوں اور اموات کی صورت میں نکلتا ہے۔ گویا مہنگی ادویات خاموشی سے ایک ایسا بحران پیدا کر رہی ہیں جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ صرف بیانات اور اجلاسوں تک محدود نہ رہے بلکہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق قانون پر فوری نظرثانی کرے۔ قیمتوں کے تعین کا اختیار دوبارہ ایک مضبوط اور خودمختار ریگولیٹری نظام کے تحت لایا جائے۔ ڈریپ کو مکمل اختیارات، وسائل اور جوابدہی کے ساتھ فعال بنایا جائے۔ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے پیداواری اخراجات، منافع کی شرح اور قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کا سالانہ آڈٹ کیا جائے اور اس کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ سرکاری ہسپتالوں میں ضروری ادویات کی سو فیصد دستیابی بھی یقینی بنائی جائے، یہ بھی ضروری ہے کہ معیاری جنیرک ادویات کے استعمال کو فروغ دیا جائے، ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا جائے، اور ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی منظوری صرف پارلیمانی نگرانی کے بعد دی جائے نیز ہر ضلع میں قیمتوں کی نگرانی کے لیے خصوصی سیل قائم ہوں جہاں شہری فوری شکایت درج کرا سکیں۔
ایک اسلامی اور فلاحی ریاست کا تصور اس بات کا متقاضی ہے کہ کمزور، بیمار اور بے سہارا انسان کو سب سے پہلے سہارا دیا جائے، اسے بازار کی بے رحم قوتوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دیا جائے۔ اگر حکومت ادویات کی قیمتوں کو قابو میں نہ لائی، قانون میں ضروری ترامیم نہ کیں اور ادویہ ساز کمپنیوں کو بے لگام چھوڑے رکھا تو ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مریض دوا نہ ملنے یا مہنگی ہونے کے باعث بے موت مرتے رہیں گے۔ اس قومی المیے کی ذمہ داری پھر صرف مافیا پر نہیں بلکہ ان تمام اداروں پر بھی عائد ہوگی جن کے پاس اختیار تو ہے مگر عوام کو ریلیف دینے کا عزم دکھائی نہیں دیتا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست جاگے، قانون حرکت میں آئے اور مریضوں کو منافع کی منڈی نہیں بلکہ زندگی کا حق دیا جائے۔