ایک چینی کمپنی “iFlytek” نے ایسا اسمارٹ بورڈ تیار کیا ہے جو اساتذہ کی لکھی ہوئی بات کو فوری سمجھ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، جیسے ہی ٹیچر بورڈ پر کوئی مساوات (equation) جیسے: y = x² – 3 لکھتا ہے، اس کے مکمل ہونے سے پہلے ہی طلبہ کے سامنے اس کا تھری ڈی (3D) گراف یا خاکہ ابھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ اگر ٹیچر جلدی میں کوئی تکون (triangle) بنائے، تو بورڈ خود بخود اسے ایک تھری ڈی ماڈل میں بدل دیتا ہے، جسے طلبہ بڑا کر سکتے ہیں، گھما سکتے ہیں اور ہر زاویے سے دیکھ سکتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے لیے کسی قسم کے ایپ (Application)، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ یا اساتذہ کے لیے کسی پیچیدہ ٹریننگ کی ضرورت نہیں ہے۔بس ایک قلم اور ایک ایسا بورڈ چاہیے جو ریاضی اور خاکوں کو لمحوں میں سمجھ جائے۔ یہ ٹیکنالوجی محض کوئی تجربہ نہیں ہے؛ شائع شدہ معلومات کے مطابق، اسے چین کے 33 صوبوں کے 60 ہزار اسکولوں میں لگایا جا چکا ہے، اور تقریباً 16 کروڑ (160 ملین) طلبہ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
جہاں دنیا بھر کی تعلیمی ٹیک کمپنیاں ایسی ایپس بنا رہی ہیں جن کے لیے مہنگے آلات اور بہت سے مراحل درکار ہوتے ہیں، وہیں چین نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کو براہِ راست بلیک بورڈ کے اندر ہی فٹ کر دیا ہے۔ ہمارے سامنے ایک پوری نسل تیار ہو رہی ہے جو پہلے ہی دن سے ریاضی اور سائنس کو بالکل انٹرایکٹو (تفاعلی) انداز میں سیکھ رہی ہے اور یہی چیز آنے والے سالوں میں تعلیم کی دنیا میں ایک بہت بڑا اور انقلابی فرق پیدا کر سکتی ہے۔