ویلیو ٹاک: میاں اشفاق انجم

غم خوار بھائی ”امیر العظیم“ بھلا نہ پائیں گے ہم! ویلیو ٹاک: میاں اشفاق انجم

اس وقت ہم اپنے محترم قائدقاضی حسین احمد، سید منور حسن، حافظ سلمان بٹ، عبدالغفار عزیز، میاں مقصود احمد کی طرح اپنے پیارے عظمتوں کے امیر، تحمل و بردباری کی مثال جرا¿ت، بہادری کی داستان، محبتوں کا زمزمہ، شفیق دوست، سب سے زیادہ خیال رکھنے والے غم خوار بھائی میرے مربی محترم امیر العظیم کو منوں مٹی تلے دفن کرکے غم زدہ نڈھال، اپنے گھروں میں آ چکے ہیں اِس کے باوجود کسی کو یقین نہیں آ رہا۔جماعت اسلامی کا سرمایہ سید مودودیؒ کی دعوت کا خوگر بھائی امیر العظیم اب ہمارے درمیان کبھی نہیں آئے گا۔ اِس وقت جب ہم تحریکی ساتھی ایک دوسرے کے گلے لگ کر اپنے بھائی سے بچھڑنے کا غم شیئر کر رہے ہیں۔مجھے کامل یقین ہے عزم حوصلہ، ویژن ، خوش اخلاقی، محبت اور تنظیمی کمٹمنٹ کا دھنی،اخلاص کا پیکر، وقت کا پابند، پاکستان اور قرآن سے محبت کرنے والا لاکھوں دِلوں کی دھڑکن سید مودودیؒ کا بہادر سپاہی اپنے بہت ہی پیاروں سید مودودیؒ، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، سید منور حسین، حافظ سلمان بٹ، پروفیسر عبدالغفور، عبدالغفار عزیز، میاں مقصود احمد کے ساتھ جنت میں بھی بارگاہ الٰہی میں سربسجود ہو گا۔امیر العظیم کی زندگی کے 1980ءسے 2008ءکے اگر مختصر ترین انداز میں مختلف پہلوﺅں کا جائزہ لیا جائے تو کم از کم ایک 100صفحے کی کتاب ضرور بن جائے گی۔اس وقت جب منصورہ کی در و دیوار امیرالعظیم بھائی کی نماز جنازہ کی ادائیگی اور ان کا آخری دیدار کرنے کے لئے آنے والوں کی وجہ سے تنگ پڑنے کی گواہی دے رہی ہے۔ شدید ترین بارش میں بھی ملک کے طول و عرض سمیت بیرون ملک سے احباب صرف ان کے سفر آخرت میں کندھا دینے کے لئے آئے ہیں ان کے نام لکھنا شروع کروں تو کئی گھنٹے لگ جائیں گے۔ کارکن لاہور کا ہو یا کراچی کا اس کا تعلق پشاور سے ہو یا لنڈی کوتل سے وہ جماعت اسلامی میں ہو یا مسلم لیگ میں سیاسی کارکن ہو یا مذہبی جماعت کا لیڈر، ہر بندہ دعویٰ کرتا نظر آیا امیر العظیم میرا بھائی اور دوست تھا میری اس نے فلاں وقت مدد کی۔ میرا غم خوار تھا، بندہ ناچیز کی تو کوئی اوقات نہیں ہے مگر اس بات پر مجھے ہمیشہ فخر رہتا ہے منصورہ سے لےکر جماعت کے مرکز، صوبے سمیت سپیشل ٹی وی اور فیوچرویژن کے احباب کسی نہ کسی موقع پر ضرور کہتے نظر آئے اشفاق بھائی امیر العظےم بھائی تو آپ کے یار ہیں اللہ ان کو کروٹ کروٹ جنت دے مجھے یقین ہے جس طرح وہ محبتوں کا پیکر تھے ہر خاص و عام سے محبت کرنے والے تھے سر جھکائے چلتے پھرتے سنت رسول کا پیغام بن گئے تھے۔ انشاءاللہ رب کے حضور بھی ایسی محبتیں پائیں گے۔ بھلا کہاں ہوتا ہے ایسا درویش جو سابق صدر سٹوڈنٹ یونین پنجاب یونیورسٹی رہا ہو جس کی بہادری اور جرا¿ت سے جنرل ضیاءالحق جیسا سخت گیر آمر بھی دباﺅ میں آ گیا۔1984ءمیں ضیاءالحق جیسے جابر حکمران کا بیان روزنامہ ”جنگ“ جیسے اخبار کی شہ سرخی بنا جس میں کہا گیا ”کوئی امیر العظیم ہو یا امیر الاعظم میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا“…. پکڑنے چھوڑنے کی کہانی تو بڑی طویل ہے آج زیر بحث نہیں لاﺅں گا میرے تو ہرسال رمضان المبارک کی پہلی افطاری کے ہمیشہ مہمان خصوصی ہوتے تھے، آج اپنے بھائیوں سے بڑھ کر پیار کرنے والے بھائی امیر العظیم سے 1990ءسے 2026ءتک کے تعلق کو مثال بنانے ،فخر کرنے اور اللہ کی بارگاہ میں قبولیت تک کی دُعا تک محدود رکھوں گا، کیونکہ جماعت اسلامی کی توانا آواز امیر العظیم کو میں نے رب کریم کے حضورخشوع خضوع سے سجدہ ریز ہوتے اور کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھا ہے اپنے اور غیروں خو ان کے گن گانے دیکھا ہے۔ فیوچر ویژن کو پاکستان کی نمبرون ایڈورٹائزمنٹ ایجنسی بنانے سے لے کر سپیشل ٹی وی کو جماعت اسلامی کی دعوت کا ذریعہ بنانے کے عزم تک سینکڑوں کارکنان کی عملی مدد کرتے تک دیکھا ہے جن کو شاید مقامی جماعت بھول چکی ہو، مگر امیر العظیم نہیں بھول سکے میں وہ نالائق شخص ہوں جس میں امیر العظیم جیسی شخصیت کا آخری دیدار کرنے کا حوصلہ نہ ہو سکا۔ میں وہ گنہگار شخص ہوں جو امیرالعظیم سے اس حد تک لگاﺅ رکھتا تھا جس نے فروری 2026ءرمضان المبارک کے 21روزے اور حج 2026ءکے 17دن میں حرمین شرفین میں کوئی ایسی جگہ نہ ہوگی جہاں سے اپنے رب کریم کے آگے امیر العظیم کی صحت اور زندگی کی بھیک نہ مانگی ہو۔ اس کے باوجود میں جب بھی منصورہ گیا تو صرف اُن کی ایک جھلک دیکھنے ان کو سلام کرنے میں سکون پایا۔ جب بھی فیوچر ویژن گیا ان کو ملنے اور دِل کو سکون دینے کے لئے گیا۔امیر العظیم بھائی کا مقصود احمد صاحب کی طرح دستر خوان بڑا وسیع تھا ہمارے صحافتی دوست سوشل میڈیا میں ان کے سپیشل ٹی وی کے دفتر میں روزانہ لنچ اور ڈنر کے لنگر کا تذکرہ کیا ہے، بندہ ناچیز سینکڑوں دفعہ دوپہر کو لنگر سے استفادہ کر چکا ہے۔شاہ جی کے ہاتھوں کا کھانا محترم جاوید شیخ،چودھری سرور صاحب،اشرف صاحب، معاذ، عابد، ندیم، طیب ایم ڈی ایسی شخصیات ہیں ان سے زیادہ دیر دور نہیں رہا جا سکتا۔ مجھے یاد پڑتا ہے آج بھی جماعت اسلامی کا ترجمان، ترجمان القرآن اور ایشیاءجس پرنٹر کے نام سے شائع ہوتا ہے اس کا نام ہے مرزا الیاس صاحب۔40سال سے اس کا نام استعمال کرنے والوں کو بھی نہیں پتہ ہو گا الیاس مرزا کس حالت میں ہیں،مگر امیر العظیم بھائی کو پتہ بھی تھا رابطہ بھی رکھتے تھے انہیں یہ بھی پتہ تھا مرزا الیاس کا کوئی بیٹا نہیں ہے، چار بیٹیاں ہیں۔ دِل کا عارضہ ہے آپریشن ہو چکا ہے۔ وہ شخصیت تھے جن کو ایسے کئی مرزا الیاس یاد تھے جن کو ہم استعمال کر کے بھلا چکے ہیں۔ مجھے یاد ہے عبدالغفار عزیز بھائی انہیں بھی کینسر جیسے مرض کا سامنا رہا وہ بھی استقامت کا پہاڑ تھے۔ مجھے یاد ہے ان کے بچوں کو نہیں پتہ ہوتا تھا جب امیر العظیم خود انہیں ہسپتال لے جا کر ٹریٹمنٹ کراتے تھے درجنوں مثالیں میرے سامنے ہیں ان کی سب سے بڑی خوبی تھی۔ جماعت کی پالیسی،جماعت کے فیصلے جان سے زیادہ عزیز اور اطاعت اولین ترجیح رکھتے تھے۔میرا بھائیوں جیسا تعلق ہونے کے باوجود کبھی کبھی صحافی بن کر ان کا انٹرویو لینا بھی معمول رہا درجنوں دفعہ خود ان کا انٹرویو بنا کر شائع کیا اور انہیں بھیج دیا۔ ان سے ملاقات میں ان کی خوبصورت مسکراہٹ میری حوصلہ افزائی کے لئے کافی رہی میں خوش نصیب ہوں امیر العظیم بھائی جیسی شخصیت میرے ساتھ اپنے گھریلو معاملات بھی ڈسکس کر لیتے تھے۔
اپنے بھائیوں سے بڑی محبت کرتے تھے چھ سال پہلے جب انہوں نے جامع مسجد سید مودودی، انسٹیٹیوٹ کی ذمہ داری ہمیں دی تو میں نے انہیں اعتماد میں لےکر ہمسفر کا دفتر بنانے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے بڑی سرپرستی کی۔ میں نے جب انہیں کہا ہمسفر مرکز کا بناﺅں یا صوبے کا یا لاہور کا، فرمانے لگے کام کرو کام، سب کا ہمسفر خود ہی بن جائے گا۔مجھے امیر العظیم صاحب کے بیٹے شہیر العظیم کی شادی محترم مشتاق بٹ کے بیٹی سے طے کرانے کی سعادت ملی اس وقت بڑے بیٹے منیب کی شادی ہو چکی تھی اب اپنے دو بیٹوں اور بھتیجی کے حوالے سے فکر مند رہتے تھے، جن کی شادی نہیں ہوئی، چند ہفتے پہلے جماعت کے مرکز میں مرکزی تنظیم کے اجلاس میں جب انہوں نے بتایا کہ مجھے کینسر کے مرض کا بہت پہلے سے علم تھا سب ذمہ داران حیران پریشان رہ گئے۔ واحد شخصیت ہوںگے جو امیر جماعت سے متعدد بار ذمہ داری سے سبکدوشی کی درخواست کر چکے ہیں ہر کسی کا بھلا، ہر کسی کی خیر خواہی جماعت اسلامی کی منصوبہ بندی۔جماعت اسلامی منصورہ کے کارکنان کا خیال رکھنا ان کی اولین ترجیح تھا۔2024ءکا الیکشن جس انداز میں انہوں نے سخت تکلیف اور بیماری کے باوجود لڑا، مفلر باندھ کر گلہ چھپا کر اپنی بیماری ظاہر نہ ہونے دی اس کا اجر اللہ ضرور دے گا۔ جنت کا راہی امیر العظیم اپنی زندگی میں جہاں کاروبار اپنے بھائی اور بیٹوں کے سپرد کر کے مطمئن تھے وہیں امیر جماعت کو اپنی جنت کی طلب اور اپنے جانے کے بعد کی پلاننگ میں بھی اعتماد میں لے کر رخصت ہوئے ہیں اللہ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور اہل خانہ سمیت دنیا بھر کے کارکنان کو صبر جمیل عطاءفرمائے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون