ترقی یافتہ معاشروں کی پہچان صرف کشادہ سڑکیں، جدید گاڑیاں اور بلند و بالا عمارتیں نہیں ہوتیں بلکہ قانون کی بالادستی، شہری شعور اور انسانی جان کی قدر بھی ان کی شناخت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ایک معمول بن چکی ہے۔ سرخ بتی عبور کرنا، ون وے کی خلاف ورزی، تیز رفتاری اور بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانا ایسی عادتیں بن گئی ہیں جنہیں لوگ جرم نہیں بلکہ معمول سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ان ہی معمولات کی قیمت ہر سال ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کی جانوں کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔
پاکستان میں موٹر سائیکل متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ لاکھوں افراد روزانہ اسی سواری پر روزگار، تعلیم اور کاروبار کے لیے نکلتے ہیں، مگر افسوس کہ ان میں سے بڑی تعداد اپنی جان کے تحفظ کے لیے ہیلمٹ پہننا ضروری نہیں سمجھتی۔ یہ رویہ نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ اپنے اہل خانہ کے مستقبل سے بھی بے پروائی ہے۔
طبی تحقیقات واضح کرتی ہیں کہ موٹر سائیکل حادثات میں ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ سر پر شدید چوٹ ہے۔ حادثے کے دوران انسانی جسم کی حرکت کے اصول کے مطابق جسم کا اوپری حصہ آگے کی طرف جھکتا ہے اور سب سے پہلے سر زمین یا کسی سخت چیز سے ٹکراتا ہے۔ اگر یہی سر معیاری ہیلمٹ سے محفوظ ہو تو موت کے امکانات نمایاں حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں ہیلمٹ پہننا محض ایک مشورہ نہیں بلکہ سخت قانونی تقاضا ہے۔
پاکستان میں بھی کئی مرتبہ ہیلمٹ لازمی قرار دینے کی مہمات چلائی گئیں۔ چند دن تک سخت چیکنگ ہوئی، جرمانے ہوئے، عوام نے ہیلمٹ پہننا شروع کیا، لیکن جیسے ہی مہم ختم ہوئی، حالات دوبارہ پہلے جیسے ہو گئے۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ قانون کی کامیابی وقتی کارروائیوں سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی سے ہوتی ہے۔
اکثر لوگ کہتے ہیں کہ معیاری ہیلمٹ مہنگا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ جو شخص ڈیڑھ یا دو لاکھ روپے کی موٹر سائیکل خرید سکتا ہے، وہ اپنی جان بچانے کے لیے چند ہزار روپے کیوں خرچ نہیں کر سکتا؟ حادثے کے بعد اسپتال، آپریشن، ادویات، ایم آر آئی، آئی سی یو اور مہینوں کے علاج پر لاکھوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ اگر خدا نہ کرے جان چلی جائے تو کفن، تدفین اور لواحقین کا دکھ کسی قیمت سے پورا نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہی ہے کہ ہیلمٹ مہنگا نہیں، ہماری ترجیحات غلط ہیں۔
لیکن اب اس بحث کا ایک نیا، اہم اور انتہائی حساس پہلو سامنے آ چکا ہے، جسے نظر انداز کرنا قومی سلامتی اور امن عامہ دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ہیلمٹ بنیادی طور پر زندگی بچانے کے لیے ایجاد کیا گیا تھا، مگر افسوس کہ ہمارے ہاں یہی ہیلمٹ جرائم پیشہ عناصر کے لیے سب سے محفوظ نقاب بنتا جا رہا ہے۔ لاہور، کراچی، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میں ہونے والی متعدد ڈکیتیوں، اسٹریٹ کرائم، ٹارگٹ کلنگ اور قتل کی وارداتوں میں ملزمان مکمل چہرہ چھپانے والے رنگ برنگے ہیلمٹ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سیف سٹی کے جدید ترین کیمرے بھی ان کے چہرے ریکارڈ نہیں کر پاتے۔
اگر موٹر سائیکل بھی چوری شدہ ہو، جعلی نمبر پلیٹ لگی ہو یا نمبر ہی چھپا دیا گیا ہو تو تفتیش مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ یوں اربوں روپے کی لاگت سے نصب کیے گئے نگرانی کے نظام کی افادیت بھی محدود ہو جاتی ہے، جبکہ مجرم چند منٹ میں واردات کر کے باآسانی فرار ہو جاتے ہیں۔
لاہور میں اوکاڑا کی معروف سیاسی شخصیت چوہدری عبداللہ طاہر کے قتل کے افسوسناک واقعے نے بھی اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ حملہ آوروں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے ہیلمٹ کا سہارا لیا۔ اس سے پہلے بھی کئی ایسی وارداتیں منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں شوٹرز اور ڈاکو ہیلمٹ پہن کر آئے، جرم کیا اور شناخت چھپاتے ہوئے فرار ہو گئے۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ ہیلمٹ کے قانون کو صرف ٹریفک کے تناظر میں نہیں بلکہ امن و امان کے تناظر میں بھی دیکھا جائے۔
یہاں ایک متوازن حل موجود ہے، جس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ حکومت کو ایسے ہیلمٹ لازمی قرار دینے چاہییں جن کے سامنے شفاف (Transparent) وائزر ہو اور جن سے موٹر سائیکل سوار کا چہرہ مناسب حد تک واضح دکھائی دیتا رہے۔ اس کا مقصد ہیلمٹ ختم کرنا نہیں بلکہ اس کے حفاظتی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے مجرموں کے لیے اس کے غلط استعمال کا راستہ بند کرنا ہے۔ اس سلسلے میں ماہرین ٹریفک، انجینئرز، پولیس، سیف سٹی اتھارٹیز اور ہیلمٹ بنانے والی صنعت سے مشاورت کے بعد ایک ایسا قومی معیار مقرر کیا جا سکتا ہے جس میں حفاظت اور شناخت، دونوں تقاضے پورے ہوں۔
اسی کے ساتھ حکومت کو چاہیے کہ پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے ذریعے ہیلمٹ کی تیاری کے لیے لازمی حفاظتی معیار مقرر کرے۔ آج بازاروں میں سیکڑوں روپے سے لے کر ہزاروں روپے تک کے ہیلمٹ فروخت ہو رہے ہیں، جن میں سے بہت سے صرف پلاسٹک کا خول ہیں اور حادثے کے وقت کسی کام نہیں آتے۔ ایسے جعلی اور ناقص ہیلمٹ دراصل عوام کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہیں۔
ایک اور اہم مسئلہ قیمتوں کا ہے۔ اگر حکومت نئے معیار کے مطابق ہیلمٹ لازمی قرار دیتی ہے تو بعض صنعت کار اور دکاندار ناجائز منافع خوری شروع کر سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت معیاری ہیلمٹ کی زیادہ سے زیادہ قیمت بھی مقرر کرے، قیمتوں کی مسلسل نگرانی کرے اور مقررہ نرخ سے زیادہ وصول کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔ انسانی جان کے تحفظ کو کاروباری استحصال کا ذریعہ نہیں بننے دینا چاہیے۔
اس کے ساتھ کم آمدنی والے طبقے کے لیے خصوصی رعایتی اسکیم بھی متعارف کرائی جا سکتی ہے۔ بڑی نجی کمپنیاں اپنے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) پروگرام کے تحت حکومت کے تعاون سے لاکھوں معیاری ہیلمٹ مفت یا رعایتی قیمت پر فراہم کر سکتی ہیں۔ ہر ہیلمٹ کو ایک منفرد نمبر دیا جائے، اسے شناختی کارڈ کے ساتھ رجسٹر کیا جائے اور اس کا ریکارڈ ڈیجیٹل نظام میں محفوظ رکھا جائے۔ اس سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی مدد ملے گی۔
اس کے علاوہ سیف سٹی منصوبوں کو مصنوعی ذہانت (AI) سے مربوط کیا جانا چاہیے تاکہ کیمرے صرف نمبر پلیٹ ہی نہیں بلکہ لباس، قد، جسمانی ساخت اور دیگر ظاہری خصوصیات کی بنیاد پر بھی مشتبہ افراد کی نشاندہی کر سکیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں جدید نگرانی کے نظام اسی انداز میں کام کر رہے ہیں، لہٰذا پاکستان بھی اس سمت میں پیش رفت کر سکتا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ قانون سازی ہمیشہ توازن کا تقاضا کرتی ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ مجرموں کی وجہ سے قانون پر عمل کرنے والے شہری مشکلات کا شکار ہوں۔ مقصد ہیلمٹ کی مخالفت نہیں بلکہ اس کے غلط استعمال کی روک تھام ہے۔ اگر شفاف اور معیاری ہیلمٹ عوام کی جان بھی بچائیں اور جرائم کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہوں تو یہ ایک ایسا قدم ہوگا جس سے معاشرے کے ہر طبقے کو فائدہ پہنچے گا۔
ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں قانون صرف سزا کے خوف سے نہیں بلکہ شعور کی بنیاد پر اپنایا جائے۔ اگر ہم نے ہیلمٹ کو صرف جرمانے سے بچنے کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے زندگی کے تحفظ کی علامت بنا لیا اور ساتھ ہی اس کے مجرمانہ استعمال کی روک تھام کے لیے بروقت قانون سازی کر لی، تو یقیناً ہزاروں قیمتی جانیں بھی بچائی جا سکیں گی اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے ایک بڑا راستہ بھی بند ہو جائے گا۔