امریکہ کی ریاست جارجیا کے شہر وِنڈر میں واقع اپالاچی ہائی اسکول میں 4 ستمبر 2024 کو ہونے والی ہولناک فائرنگ کے مقدمے میں عدالت نے حملہ آور طالب علم کولٹ گرے کے والد کولن گرے کو 15 سال قید کی سزا سنا دی۔ مقدمے میں ثابت ہوا کہ والد نے اپنے 14 سالہ بیٹے کو کرسمس کے تحفے کے طور پر وہ نیم خودکار رائفل، گولیاں اور دیگر شوٹنگ کا سامان فراہم کیا تھا جسے بعد ازاں اسکول حملے میں استعمال کیا گیا۔
عدالت نے کولن گرے کو دو طلبہ اور دو اساتذہ کی ہلاکت پر بچوں کے ساتھ ظلم، غیر ارادی قتل، لاپرواہی اور دیگر الزامات میں قصوروار قرار دیا۔ حملے میں ایک استاد اور آٹھ طلبہ سمیت متعدد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔چند روز قبل عدالت نے 16 سالہ کولٹ گرے کو قتل اور دیگر سنگین جرائم کا اعتراف کرنے پر پیرول کے بغیر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ سزا سناتے ہوئے جج نکولس پرِم نے والد سے کہا، “یہ واضح ہے کہ آپ ایک والد کی حیثیت سے ناکام رہے۔” تاہم انہوں نے کہا کہ عدالت کو قانون کے مطابق جذبات سے بالاتر ہو کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
استغاثہ کا مؤقف تھا کہ کولن گرے اپنے بیٹے کے تشدد پسند رجحانات، ذہنی مسائل اور اس کے خطرناک رویّے سے آگاہ تھا، اس کے باوجود اس نے اسلحہ اس کی دسترس میں رکھا۔ مقتولین کے اہلِ خانہ نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ روکا جا سکتا تھا اگر والد اپنی ذمہ داری ادا کرتا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکہ میں ایسے والدین کے خلاف ایک اہم عدالتی نظیر بن گیا ہے جو اپنی غفلت کے باعث کم عمر بچوں کو اسلحہ تک رسائی دیتے ہیں۔