افراح بتول

جامعات اور خوابوں کی تعبیر تحریر: افراح بتول

تاریخ میں ایسے دور بھی آتے ہیں جب عمارتیں صرف اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں رہتیں بلکہ امید، فکر اور مستقبل کی علامت بن جاتی ہیں۔ جامعات بھی ایسی ہی زندہ علامتیں ہوتی ہیں۔ اگر ان کے درودیوار سے صرف نصابی آوازیں سنائی دیں تو وہ محض درس گاہیں رہ جاتی ہیں، لیکن اگر انہی راہداریوں سے تحقیق جنم لے، اختراع پروان چڑھے، قیادت تیار ہو اور دنیا سے مکالمہ شروع ہو جائے تو وہ قوموں کی تقدیر بدلنے والے مراکز میں ڈھل جاتی ہیں۔ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی انہی اداروں میں شمار ہونے لگی ہے جہاں تعلیم کو صرف کتاب کے صفحوں تک محدود نہیں رکھا جا رہا بلکہ اسے زندگی، معیشت، معاشرے اور عالمی افق سے جوڑا جا رہا ہے۔ عصرِ حاضر میں علم کی سرحدیں ختم ہو چکی ہیں۔ آج کامیابی اسی کی ہے جو اپنے خیالات کو دنیا تک پہنچانے کا ہنر رکھتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ خدیجۃ الکبریٰ بزنس انکیوبیشن سینٹر میں دولتِ مشترکہ کے وفد کی آمد ایک رسمی ملاقات نہیں بلکہ اس سوچ کا اظہار ہے کہ پاکستانی طالبات کی صلاحیتیں عالمی منڈیوں، بین الاقوامی اداروں اور دنیا کے بہترین کاروباری مراکز تک رسائی کی اہل ہیں۔ جب نوجوان ذہنوں کو رہنمائی، اعتماد اور عالمی روابط میسر آتے ہیں تو خواب صرف خواب نہیں رہتے بلکہ حقیقت کا روپ دھارنے لگتے ہیں۔ یہی وہ سرمایہ ہے جس سے قوموں کی معاشی تقدیر بدلتی ہے۔ کسی جامعہ کی اصل پہچان اس کے فارغ التحصیل طلبہ ہی نہیں بلکہ اس کے اساتذہ بھی ہوتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر فاخرہ عزیز کا فل برائٹ اسکالر اِن ریزیڈنس پروگرام کے لیے انتخاب اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ علم کی روشنی سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ جب ایک پاکستانی خاتون استاد امریکہ کے ایک ممتاز تعلیمی ادارے میں تدریس، تحقیق اور نصاب سازی میں اپنا کردار ادا کرتی ہے تو وہ صرف اپنی ذات کی نمائندگی نہیں کرتی بلکہ پاکستان کے علمی وقار کو بھی نئی بلندی عطا کرتی ہے۔ ایسی کامیابیاں نوجوان طالبات کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ منزل ان لوگوں کے قدم چومتی ہے جو مسلسل سیکھتے، محنت کرتے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھ رہی ہیں جو نئی مہارتوں کو تعلیم کا حصہ بنا رہی ہیں۔ شعبۂ کیمیا میں پروگرامنگ کی عملی تربیت اسی حقیقت کا ادراک ہے کہ آنے والا زمانہ صرف معلومات کا نہیں بلکہ مہارت کا زمانہ ہے۔ تحقیق کی زبان بدل رہی ہے، تجربہ گاہیں بدل رہی ہیں اور مستقبل کی قیادت بھی بدل رہی ہے۔ جو ادارے وقت کی اس تبدیلی کو سمجھ لیں گے، وہی آنے والے کل کے معمار ہوں گے۔ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی نے ایک اور اہم مرحلہ طے کیا ہے اور اپنے اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں نئے تعلیمی پروگراموں، نصاب میں بہتری اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کی ہے جو اس امر کی غماز ہے کہ ایک زندہ جامعہ کبھی جمود کا شکار نہیں ہوتی۔ علم ایک بہتا ہوا دریا ہے، اور جو ادارے اس دریا کے ساتھ سفر کرتے ہیں وہی معاشروں کو نئی سمت دیتے ہیں۔ اسی طرح طالبات کی نمائندہ کونسل کے لیے انتخابی عمل اور انٹرویوز اس بات کا ثبوت ہیں کہ قیادت پیدا کرنے کے لیے صرف کتاب کافی نہیں، کردار، ذمہ داری اور عملی تجربہ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ آج جب دنیا علم کو معیشت، تحقیق کو صنعت اور تعلیم کو ترقی سے جوڑ چکی ہے، پاکستان کی جامعات پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو صرف ملازمت کی تلاش میں نہ ہو بلکہ روزگار پیدا کرنے والی، تحقیق میں نئی راہیں کھولنے والی، معاشرے کے مسائل کا حل تلاش کرنے والی اور دنیا میں پاکستان کا مثبت تعارف کرانے والی ہو۔ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی حالیہ سرگرمیاں اسی سمت میں ایک امید افزا پیش رفت ہیں۔ یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ جب ایک طالبہ کے ہاتھ میں قلم کے ساتھ اعتماد بھی آ جائے، جب اس کی سوچ کو تحقیق کی وسعت اور اختراع کی آزادی مل جائے، جب اس کے خوابوں کو عالمی افق تک پرواز کا موقع میسر آ جائے، تو صرف ایک فرد نہیں بدلتا بلکہ ایک خاندان، ایک معاشرہ اور بالآخر پوری قوم بدلنے لگتی ہے۔ یہی وہ چراغ ہیں جن کی روشنی آنے والے کل کے پاکستان کو منور کرے گی، اور یہی وہ راستہ ہے جو علم کو عزت، خواتین کو خودمختاری اور قوم کو ترقی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔