میڈرڈ: اسپین کے حکام نے غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لاتے ہوئے اب تک 48 ہزار 300 مراکشی شہریوں کو واپس ان کے ملک بھیجنے کی تصدیق کر دی ہے۔ حکام کے مطابق جس تیزی سے یہ افراد اسپین پہنچے تھے، اسی رفتار سے انہیں واپس مراکش منتقل کیا جا رہا ہے۔
اسپینی حکام کا کہنا ہے کہ باقی ماندہ مراکشی شہریوں کی شناخت اور قانونی کارروائی کا عمل بھی جاری ہے، جبکہ جلد ہی انہیں بھی مرحلہ وار واپس بھیج دیا جائے گا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور سرحدی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ عرصے میں اسپین کی سرحدوں پر غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوششوں میں اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد حکومت نے سیکیورٹی اور امیگریشن حکمتِ عملی مزید سخت کر دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ جن افراد کے پاس قانونی سفری دستاویزات یا قیام کی اجازت موجود نہیں، ان کے خلاف ملکی قوانین کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔
اسپینی حکومت کا مؤقف ہے کہ سرحدی سلامتی، غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور امیگریشن قوانین پر عمل درآمد حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے باقی ماندہ افراد کی واپسی کے عمل کو بھی جلد مکمل کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔