مفتی ظہیر احمد فاروقی

تاج و تخت کی خاموشی، فیضِ داتا کی ابدی حکمرانی

لاہور میں دریائے راوی کے کنارے ایک ایسا مقبرہ قائم ہے جو برصغیر کی عظیم ترین سلطنت کے جاہ و جلال کی یاد دلاتا ہے۔ یہ مغل شہنشاہ جہانگیر کا مدفن ہے، وہ حکمران جس کے ایک حکم پر لاکھوں سپاہیوں کی صفیں حرکت میں آ جاتی تھیں، جس کے دربار کی ہیبت سے بڑے بڑے امراء لرزتے تھے، اور جس کی حکومت برصغیر کے وسیع خطے پر قائم تھی۔اسی احاطے میں ان کی زوجہ ملکہ نور جہاں کی قبر واقع ہے، جس پر یہ درد انگیز شعر لکھا ہوا ہے:
“بر مزارِ ما غریباں، نے چراغے نے گلے،
نے پرِ پروانہ سوزد،نے صدائے بلبلے”
“ہمارے غریبوں کے مزار پر نہ کوئی چراغ روشن ہوتا ہے، نہ کوئی پھول چڑھایا جاتا ہے، یہاں ایسی ویرانی اور خاموشی ہے کہ نہ کسی پروانے کے جلنے کی آہٹ سنائی دیتی ہے اور نہ کسی بلبل کے نغموں کی صدا”
گویا خود تاریخ اس شعر کی صورت میں دنیاوی اقتدار کی بے ثباتی کا نوحہ پڑھ رہی ہے۔ آج وہاں خاموشی ہے،سکوت ہے،سناٹا ہے، ویرانی ہے،نہ وہ شاہی دربار باقی ہے، نہ اقتدار کی گونج باقی، نہ وہ ہجوم جو کبھی بادشاہوں کے گرد رہتا تھا۔لیکن اسی لاہور میں دریائے راوی کے دوسرے کنارے پر ایک اور مزارِ پُرانوار ہے،جہاں صدیوں سے زندگی رواں ہے۔ یہ مردِ درویش حضرت سیدنا علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃٌ اللہ علیہ کا آستانۂ عالیہ ہے۔ یہاں دن ہو یا رات، سحر ہو یا نصف شب، عقیدت مندوں کا سلسلہ تھمتا دکھائی نہیں دیتا۔کوئی قرآنِ کریم کی تلاوت میں مشغول ہے، کوئی ذکر و دعا میں ہاتھ اٹھائے کھڑا ہے، کوئی علمِ دین حاصل کر رہا ہے، کوئی اپنے رب کے حضور آنسو بہا رہا ہے، اور کوئی اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے اس روحانی فضا میں سکون تلاش کر رہا ہے۔اور اس دربار کی پیشانی پر بھی شعر لکھا ہے اور یہ شعر صرف ایک کتبہ نہیں، بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے:”گنج بخش فیضِ عالم، مظہرِ نورِ خدا،ناقصاں را پیرِ کامل، کاملاں را رہنما”آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ خزانے لُٹانے والے ،عالَم کو فیض پہنچانے والے اور اللہ کے نور کے مظہر ہیں۔آپ ناقصوں کے لئے پیرِ کامل اور کاملوں کے رہنما ہیں”
یہ دو مناظر دراصل دو مختلف سلطنتوں کی داستان ہیں۔ایک طرف دنیاوی سلطنت کا زوال اور خاموشی ہے، اور دوسری طرف روحانی سلطنت کا ابدی فیض اور رونق ہے۔ ایک وہ سلطنت جس کی بنیاد طاقت، فوج اور اقتدار پر تھی، اس لیے وہ تاریخ کے صفحات میں سمٹ گئی؛ اور دوسری وہ سلطنت جس کی بنیاد اخلاص، علم، تقویٰ، محبتِ الٰہی اور خدمتِ خلق پر رکھی گئی، اس لیے وہ آج بھی دلوں پر قائم ہے حضور سیدی فیض عالم رحمۃ اللہ علیہ نے کوئی لشکر تیار نہیں کیا، کوئی تاج نہیں پہنا، کوئی محل تعمیر نہیں کیا، مگر آپ نے انسانوں کے دل آباد کیے۔ آپ نے برصغیر میں دین اسلام کی تبلیغ کی،لوگوں کو کفر و شرک کے اندھیرے سے نکالا،آپ نے علم بانٹا،محبت عام کی،اخلاق کی خوشبو پھیلائی،اور بندوں کو اپنے رب سے جوڑ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وصال مبارک کو تقریباً 983 برس گزر چکے ہیں مگراللہ تعالی نے آپ کو ایسی قبولیت و محبوبیت عطا فرمائی ہے کہ صدیاں گزرنے کے باوجود آپ کی محبت کی چاشنی میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے اور آپ سے عقیدت رکھنے والوں کی تعداد کمی کے بجائے ہر دور میں بڑھتی جا رہی ہے اور آج بھی آپ کا عرسِ مبارک عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے یہ اس حقیقت کا زندہ اعلان ہے کہ دنیاوی حکومتیں وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہیں،لیکن اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کی روحانی حکومت زمانوں تک باقی رہتی ہے۔ تاج و تخت مٹ جاتے ہیں، محلات ویران ہو جاتے ہیں، مگر وہ دل کبھی ویران نہیں ہوتے جنہیں اللہ والے آباد کر جاتے ہیں۔آج بھی اگر کوئی شخص لاہور کی ان دو یادگاروں کو دیکھے تو اسے محسوس ہوگا کہ ایک طرف تاریخ کی خاموشی ہے اور دوسری طرف روحانیت کی دھڑکن۔ ایک طرف فانی اقتدار کی داستان ختم ہو چکی ہے، جبکہ دوسری طرف فیضِ داتا کا دریا آج بھی اسی آب و تاب سے بہہ رہا ہے، اور ان شاء اللہ قیامت تک بہتا رہے گا۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺکی رضا، علم، تقویٰ اور خدمتِ انسانیت کے لیے وقف کر دیتے ہیں، ان کا ذکر زمین پر بھی زندہ رہتا ہے اور ان کا فیض نسلوں تک جاری رہتا ہے۔