خیبر پختونخوا ایک بار پھر ایسے اہم سوالات کے مرکز میں کھڑا ہے جن پر نہ صرف اس صوبے کے عوام بلکہ پورے ملک میں بحث کی جا رہی ہے۔ امن، تحفظ، انصاف اور بنیادی شہری حقوق ہر پاکستانی کا آئینی حق ہیں، لیکن جب مختلف مواقع پر ان حقوق کے نفاذ میں فرق محسوس ہونے لگے تو عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ یہی احساسِ محرومی وقت کے ساتھ ایک بڑے عوامی سوال کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ خیبر پختونخوا گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی، انتہا پسندی، نقل مکانی اور بدامنی کا سب سے زیادہ شکار رہا ہے۔ اس سرزمین نے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دیں، بے شمار خاندان اجڑ گئے، کاروبار تباہ ہوئے اور عام شہریوں نے خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو کر بھی ملک کی سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ اسی وجہ سے یہاں کے عوام اپنے تحفظ کو سب سے بڑی ترجیح سمجھتے ہیں۔جب عام شہری امن، استحکام اور اپنے بنیادی حقوق کے مطالبے کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ان کی خواہش صرف اتنی ہوتی ہے کہ ان کی آواز سنی جائے، ان کے خدشات دور کیے جائیں اور انہیں یقین دلایا جائے کہ ریاست ان کی بھی اتنی ہی محافظ ہے جتنی کسی طاقتور شخصیت کی۔ ایسے مواقع پر تحمل، مکالمہ اور اعتماد سازی ہمیشہ زیادہ مؤثر راستہ ثابت ہوتے ہیں۔
دوسری جانب جب اہم سیاسی شخصیات یا ان کے اہلِ خانہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہیں تو ریاستی ادارے ان کی حفاظت کے لیے بھرپور انتظامات کرتے ہیں، مکمل پروٹوکول فراہم کیا جاتا ہے اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جاتے ہیں۔ ہر شہری کی جان کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، اس لیے ایسی سیکیورٹی فراہم کرنا اپنی جگہ ایک جائز اور ضروری عمل ہے۔تاہم عوام کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاست کسی مخصوص شخصیت یا وفد کی حفاظت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا سکتی ہے تو انہی وسائل کا احساس عام شہریوں کو روزمرہ زندگی میں کیوں نہیں ملتا؟ آخر عام خاندان بھی تو اسی ملک کے شہری ہیں، ان کے بچوں، بزرگوں اور نوجوانوں کی جان بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی بااثر شخصیت کی۔اسی احساسِ تفاوت کی وجہ سے عوامی حلقوں میں دوہرے معیار کی بحث جنم لیتی ہے۔ لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ قانون، تحفظ اور ریاستی رویے کا معیار ہر شہری کے لیے یکساں کیوں نظر نہیں آتا۔ ایک مضبوط ریاست کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہاں انصاف صرف کیا نہ جائے بلکہ اس کا عملی اظہار بھی سب کے سامنے واضح ہو۔کئی مواقع پر امن کے مطالبات کرنے والے افراد کے خلاف گرفتاریوں، چھاپوں یا دیگر کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آتی ہیں، جس سے مختلف حلقوں میں تشویش پیدا ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اگر احتجاج پرامن ہو تو کیا اس کے شرکاء کو اپنی بات مؤثر انداز میں پیش کرنے کا مکمل آئینی موقع مل رہا ہے یا نہیں۔
دوسری طرف بعض سیاسی سرگرمیوں، جلسوں یا عوامی دوروں کے دوران وسیع انتظامات، آزادانہ نقل و حرکت اور بھرپور سرکاری سیکیورٹی دیکھ کر مختلف طبقات اس فرق کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہی موازنہ عوامی سطح پر بحث کو مزید تقویت دیتا ہے اور وضاحت کے مطالبات کو بڑھاتا ہے۔خیبر پختونخوا کے عوام کا کہنا ہے کہ انہیں کسی خصوصی رعایت کی ضرورت نہیں بلکہ صرف آئین کے مطابق مساوی حقوق درکار ہیں۔ اگر ریاست ہر شہری کو بلاامتیاز ایک ہی نظر سے دیکھے تو اعتماد بھی بڑھے گا، احساسِ محرومی بھی کم ہوگا اور قومی یکجہتی بھی مزید مضبوط ہوگی۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں شہری، پولیس اہلکار، فوجی جوان اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اس جدوجہد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ یہی قربانیاں اس صوبے کے عوام کو یہ حق دیتی ہیں کہ ان کے تحفظ اور امن کے مطالبات کو پوری سنجیدگی سے سنا جائے۔
امن صرف طاقت کے استعمال سے قائم نہیں ہوتا بلکہ انصاف، اعتماد، مکالمے اور مساوی رویے سے مضبوط ہوتا ہے۔ جب شہری محسوس کریں کہ ریاست ہر حال میں ان کے ساتھ کھڑی ہے تو ان کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا اور معاشرے میں استحکام بھی پیدا ہوگا۔اختلافِ رائے کسی بھی جمہوری معاشرے کا لازمی حصہ ہے۔ اگر یہ اختلاف قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اور پرامن انداز میں کیا جائے تو اس کا جواب بھی تحمل، دلیل اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے دینا جمہوری روایات کے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے۔قانون کی حکمرانی اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب اس کا اطلاق ہر شہری پر بلاامتیاز ہو۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ مختلف افراد یا گروہوں کے لیے الگ الگ پیمانے موجود ہیں تو ریاستی اداروں پر اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔تحفظ، انصاف اور عزت کسی ایک جماعت، خاندان یا بااثر طبقے کا حق نہیں بلکہ ہر پاکستانی شہری کا بنیادی آئینی حق ہے۔ ریاست کی اصل طاقت اسی وقت نمایاں ہوتی ہے جب وہ کمزور اور عام شہری کو بھی اتنا ہی محفوظ محسوس کرائے جتنا کسی بااثر شخصیت کو۔
جب عوام اپنے علاقوں میں امن، ترقی، تعلیم، روزگار اور محفوظ مستقبل کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان کے مطالبات کو صرف سیاسی زاویے سے نہیں بلکہ انسانی اور قومی مفاد کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ یہی سوچ دیرپا امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔سیاسی اختلافات ہمیشہ موجود رہیں گے، لیکن انسانی جان کی حرمت ہر اختلاف سے بالاتر ہے۔ کوئی بھی ماں اپنے بیٹے کو خوف میں جیتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتی اور کوئی بھی خاندان عدم تحفظ کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنا نہیں چاہتا۔ریاست اور عوام کے درمیان مضبوط اعتماد اسی وقت قائم ہوتا ہے جب فیصلے شفاف ہوں، قانون سب پر یکساں نافذ ہو، شکایات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ یہی رویہ جمہوری معاشروں کو مضبوط بناتا ہے۔آج خیبر پختونخوا سمیت پورے پاکستان کو ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں ہر شہری بلاخوف اپنی زندگی گزار سکے، اپنی رائے کا اظہار کر سکے اور اسے یقین ہو کہ اس کی جان، مال اور عزت کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔پاکستان کا آئین ہر شہری کو مساوی حقوق، انصاف، تحفظ اور وقار کی ضمانت دیتا ہے۔ ان آئینی اصولوں پر حقیقی معنوں میں عمل ہی وہ راستہ ہے جو عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کو مضبوط، جمہوریت کو مستحکم اور قومی یکجہتی کو مزید طاقتور بنا سکتا ہے۔
عوام کا بنیادی سوال یہی ہے کہ خیبر پختونخوا کے شہریوں کی جان و مال، امن، عزت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری کس کی ہے؟ اس سوال کا پائیدار جواب صرف بیانات سے نہیں بلکہ ایسے عملی اقدامات سے مل سکتا ہے جو ہر پاکستانی کو بلاامتیاز قانون کی یکساں حفاظت، انصاف اور احترام فراہم کریں، کیونکہ مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں ہر شہری خود کو برابر، محفوظ اور باوقار محسوس کرے۔