لاہور کے تھانہ غازی آباد

لاہور کے ایک تھانیدار نے سارا تھانہ معطل کرا دیا یعنی تھانیدار کی وردی کے پیچھے چھپا مجرم

لاہور کے تھانہ غازی آباد ایک ایسے افسوسناک اور لرزہ خیز واقعے کی وجہ سے خبروں میں ہے۔ الزام لگا کہ اسی تھانے میں تعینات ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) نے ایک ذہنی معذور لڑکی کو اپنی وردی اور اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مبینہ طور پر تھانے لے جا کر بے آبرو کیا۔ ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ لڑکی اپنے گھر کے باہر بیٹھی تھی کہ تھانہ غازی آباد کے انویسٹی گیشن ونگ میں تعینات اے ایس آئی عمران انور اسے موٹر سائیکل پر بٹھا کر لے گیا۔ محلے کے دکانداروں نے پولیس اہلکار کو آگاہ کیا کہ لڑکی ذہنی طور پر معذور ہے اور اسے اپنے ساتھ نہ لے جائیں، مگر الزام ہے کہ اے ایس آئی نے جواب دیا کہ وہ پولیس افسر ہے اور لڑکی ایک ملزمہ ہے، جس کے بعد وہ اسے اپنے ساتھ لے گیا۔ ادھر لڑکی کے گھر والوں نے جب اسے غائب پایا تو تلاش شروع کر دی۔ اہلِ محلہ نے بتایا کہ ایک پولیس اہلکار لڑکی کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر لے گیا ہے۔ پریشان حال اہلِ خانہ تھانے کی جانب روانہ ہوئے، لیکن اسی دوران اطلاع ملی کہ لڑکی گھر واپس آ گئی ہے۔ گھر پہنچنے پر اہلِ خانہ نے دیکھا کہ وہ شدید خوفزدہ ہے اور مسلسل رو رہی ہے۔ جب اس سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے الزام لگایا کہ تھانے کے ایک کمرے میں اس کے ساتھ کچھ ٹھیک نہیں ہوا ۔ متاثرہ خاندان کے بیان کے بعد پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کر لیا۔ ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملزم اے ایس آئی عمران انور کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے، جس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا۔ واقعے کی مزید تحقیقات ہوئیں تو ڈی آئی جی آپریشنز نے پورا تھانہ معطل کر دیا۔ غیر معمولی کارروائی کی اندرونی کہانی جانتے ہیں۔۔اطلاعات کے مطابق واقعے میں ملوث ایک پولیس اہلکار کے خلاف فوری کارروائی کے بجائے معاملے کو اعلیٰ افسران سے پوشیدہ رکھنے اور قانونی کارروائی میں تاخیر کی شکایات سامنے آئیں۔ جیسے ہی یہ معاملہ اعلیٰ پولیس حکام تک پہنچا، محکمانہ سطح پر سخت ایکشن لیا گیا۔ پہلے ڈی آئی جی آپریشنز نے غازی آباد کے ایس ایچ او شہریار کو معطل کر دیا جبکہ ان کی جگہ علی زیب دستگیر کو نئے ایس ایچ او کے طور پر تعینات کر دیا گیا۔ تاہم کارروائی صرف ایس ایچ او تک محدود نہیں رہی۔ تحقیقات میں یہ تاثر سامنے آیا کہ واقعے کے بعد متعلقہ افسران کو بروقت آگاہ نہیں کیا گیا اور قانونی تقاضوں کی انجام دہی میں غفلت برتی گئی، جس پر پورے تھانے کے عملے کے خلاف غیر معمولی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
محکمانہ احکامات کے مطابق تھانہ غازی آباد کے تمام 78 اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا، جن میں سب انسپکٹرز، آٹھ اے ایس آئی، پانچ ہیڈ کانسٹیبل، فرنٹ ڈیسک کا عملہ، محرر، ڈرائیورز اور دیگر اہلکار شامل ہیں۔ تمام اہلکاروں کی معطلی کی باقاعدہ رپورٹ بھی تھانے کے ریکارڈ میں درج کر دی گئی، جو پنجاب پولیس کی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور سخت محکمانہ اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔