غزہ کی سرزمین ایک بار پھر عالمی سیاست، انسانی حقوق اور بین الاقوامی ضمیر کا سب سے بڑا امتحان بن چکی ہے۔ ہزاروں معصوم جانوں کے ضیاع، تباہ شدہ بستیاں، بے گھر خاندان اور ملبے تلے دبی امیدیں آج پوری دنیا سے یہ سوال کر رہی ہیں کہ کیا انسانی جان کی حرمت واقعی عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہے؟ ایسے ہی نازک ماحول میں عالمی حقوقِ انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ نے ایک نئی اور نہایت اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جب غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں اپنے عروج پر تھیں اور شہری آبادی مسلسل بمباری کی زد میں تھی، اسی دوران بھارت کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کیے جاتے رہے۔ اگرچہ یہ معاملہ قانونی، سیاسی اور سفارتی پیچیدگیوں سے بھرپور ہے، لیکن اس نے دنیا بھر میں شدید ردِعمل پیدا کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مؤقف ہے کہ ایسی صورتحال میں ہتھیاروں کی فراہمی صرف ایک تجارتی سرگرمی نہیں رہتی بلکہ اس کے اخلاقی، قانونی اور انسانی نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جب کسی تنازع میں شہری آبادی کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کے واضح خدشات موجود ہوں تو اسلحہ فراہم کرنے والے ممالک کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ بھارت پر جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جن سے ممکنہ طور پر جنگی جرائم یا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں اضافہ ہو سکتا ہو۔ اسی بنیاد پر ایمنسٹی نے بھارتی پالیسی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل ان تمام الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں اپنے دفاع کے حق کے تحت کی جا رہی ہیں اور وہ جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنانے یا نسل کشی جیسے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتی ہے۔ بھارت نے بھی اپنے مؤقف میں واضح کیا ہے کہ اس کی دفاعی تجارت مکمل طور پر ملکی قوانین، برآمدی ضوابط اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق انجام دی جاتی ہے۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ دفاعی تعاون کسی بھی خودمختار ریاست کا قانونی حق ہے اور اس کی تمام برآمدات مقررہ قواعد کے تحت ہوتی ہیں۔
تاہم سوال صرف قانونی حیثیت کا نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری کا بھی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں کئی فیصلے قانونی ہونے کے باوجود اخلاقی تنقید کا سامنا کرتے ہیں، خصوصاً جب ان کا تعلق جنگ، انسانی جانوں اور عالمی امن سے ہو۔ بھارت ایک ایسی ریاست رہی ہے جس نے کئی دہائیوں تک خود کو غیرجانبدار خارجہ پالیسی کا علمبردار قرار دیا۔ تحریکِ عدمِ وابستگی میں اس کا کردار نمایاں رہا اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت بھی اس کی سفارتی شناخت کا حصہ سمجھی جاتی تھی۔ مگر گزشتہ برسوں میں بھارت اور اسرائیل کے تعلقات میں غیرمعمولی گرمجوشی دیکھی گئی ہے۔ دفاع، انٹیلی جنس، زراعت، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید عسکری ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں دونوں ممالک کا تعاون مسلسل بڑھا ہے۔
بھارت آج اسرائیل کے اہم دفاعی شراکت داروں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ اسرائیل بھی بھارت کو جدید دفاعی نظام فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ تعلقات خطے کی تزویراتی سیاست میں بھی اہم حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اسی بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون نے بھارت کی روایتی سفارتی شناخت کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق نئی دہلی اب انسانی حقوق کے بجائے اسٹریٹجک مفادات اور معاشی فوائد کو زیادہ اہمیت دیتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برعکس بھارتی حکومت اور اس کے حامی تجزیہ کار اس مؤقف کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ہر ملک کو اپنی قومی سلامتی، دفاعی ضروریات اور بین الاقوامی شراکت داریوں کے مطابق فیصلے کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، اور کسی ایک رپورٹ کی بنیاد پر بھارت کی خارجہ پالیسی پر حتمی فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر اخلاقیات اور قومی مفادات ایک دوسرے کے مدمقابل آ جاتے ہیں۔ بڑی طاقتیں ہوں یا علاقائی قوتیں، بیشتر فیصلے صرف اصولوں پر نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور دفاعی مفادات کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ غزہ کی جنگ نے ایک مرتبہ پھر عالمی اسلحہ تجارت کو بھی تنقید کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک سے اسلحے کی مسلسل فراہمی نے یہ سوال مزید اہم بنا دیا ہے کہ کیا جنگوں کو طول دینے میں اسلحہ تجارت بھی بالواسطہ کردار ادا کرتی ہے؟ انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی ہیں کہ اسلحہ برآمد کرنے والے ممالک صرف منافع نہیں بلکہ ممکنہ انسانی نتائج کو بھی اپنی پالیسی کا حصہ بنائیں۔ اگر کسی جنگ میں شہریوں کی ہلاکتوں کا خطرہ بڑھ رہا ہو تو احتیاط کا تقاضا بھی بڑھ جاتا ہے۔
اسی تناظر میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو صرف بھارت کے خلاف تنقید نہیں بلکہ عالمی اسلحہ برآمدی نظام پر ایک وسیع سوالیہ نشان بھی سمجھا جا رہا ہے۔ یہ بحث صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ تمام بڑی اسلحہ برآمد کرنے والی ریاستوں تک پھیلتی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین پر یکساں عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ اگر مختلف ممالک کے لیے مختلف پیمانے اختیار کیے جائیں تو عالمی انصاف کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔ دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں معاشی مفادات، جغرافیائی سیاست اور عسکری اتحاد اکثر انسانی اقدار پر غالب آتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی اداروں کی ساکھ بھی مسلسل تنقید کی زد میں رہتی ہے۔
غزہ کے عوام کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت جنگ بندی، محفوظ انسانی راہداریوں، خوراک، ادویات اور پائیدار امن کی ہے۔ سیاسی بیانات اور سفارتی وضاحتیں اس انسانی المیے کا مکمل علاج نہیں بن سکتیں۔ اگر عالمی برادری واقعی انسانی حقوق کو اپنی خارجہ پالیسیوں کا بنیادی ستون سمجھتی ہے تو اسے ہر تنازع میں یکساں معیار اپنانا ہوگا۔ انصاف اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب وہ طاقتور اور کمزور دونوں پر یکساں لاگو ہو۔ بھارت ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے۔ اس حیثیت کے ساتھ اس پر یہ اخلاقی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ اس کی پالیسیاں نہ صرف قانونی تقاضوں بلکہ عالمی انسانی اقدار سے بھی ہم آہنگ ہوں تاکہ اس کی بین الاقوامی ساکھ مزید مستحکم ہو۔
یہ معاملہ صرف بھارت یا اسرائیل تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے۔ جب تک عالمی برادری انسانی جان، انصاف اور بین الاقوامی قانون کو تجارتی اور سیاسی مفادات پر ترجیح نہیں دے گی، اس وقت تک ایسے تنازعات دنیا کے ضمیر کو مسلسل جھنجھوڑتے رہیں گے۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب آنے والی نسلیں بھی عالمی طاقتوں سے طلب کریں گی۔