اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے جوائنٹ اپوزیشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حالیہ آئینی ترمیم اور اس کے اثرات پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اپوزیشن نے ترمیم کے موقع پر واک آؤٹ تو کیا، تاہم قانون کا مکمل مطالعہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اگر قانون کا پہلے تفصیلی جائزہ لیا جاتا تو اپوزیشن کو ترامیم پر اپنا مؤقف کھل کر پیش کرنے، نشاندہی کرنے اور بحث کرنے کا موقع ملتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے زبردستی ووٹنگ کا مرحلہ آتا تو اپوزیشن واک آؤٹ کرسکتی تھی، لیکن قانون میں موجود نکات کی نشاندہی اور ان پر بحث ضروری تھی۔ جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ملک کے سیاسی نظام میں فوج کے کردار کے حوالے سے ایک عرصے سے بحث جاری ہے، تاہم ان کے بقول حالیہ قانون کے ذریعے فوج کو سیاسی نظام میں مزید کردار دے دیا گیا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزیشن رہنماؤں بیرسٹر گوہر، علی ظفر اور کامران خان سمیت دیگر رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ ترمیم کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے کر اس بات پر غور کریں کہ قانون میں کہاں اور کس نوعیت کی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ بری فوج، فضائی فوج اور بحری فوج سے متعلق بعض اختیارات جو پہلے وفاقی حکومت کے پاس تھے، اب چیف آف ڈیفنس فورسز کو منتقل کردیئے گئے ہیں۔ ان اختیارات میں قیادت میں تبدیلی، ملازمت سے متعلق فیصلے اور ترقی سمیت دیگر معاملات شامل ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن نے سوال اٹھایا کہ اگر چیف آف ڈیفنس فورسز کو دفاعی مشیر بھی مقرر کیا گیا اور وہ کابینہ کا حصہ بن گئے تو اختیارات اور فیصلہ سازی کا نظام کس طرح کام کرے گا۔