یونیورسٹی یا ہنر

یونیورسٹی یا ہنر؟ مستقبل کا بڑا سوال تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی

پاکستانی معاشرے میں یونیورسٹی کی ڈگری کو کامیابی کی بنیادی علامت سمجھا جاتا ہے۔ والدین اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کرکے بچوں کو یونیورسٹی بھیجتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ڈگری ہی روزگار، عزت اور بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف ڈگری حاصل کرنا اب روزگار کی ضمانت نہیں رہا۔ ہر سال ہزاروں نوجوان مختلف جامعات سے ڈگریاں لے کر عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں، مگر ان میں سے بہت سے نوجوانوں کو اپنی تعلیم سے متعلق مناسب ملازمت نہیں مل پاتی۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یونیورسٹی کی تعلیم روزگار کے لیے اتنی ضروری ہے تو پھر بہت سے ڈگری یافتہ نوجوان بے روزگار کیوں ہیں؟ دوسری طرف بعض ایسے افراد بھی کامیاب ہو رہے ہیں جنہوں نے روایتی چار سالہ یونیورسٹی تعلیم کے بجائے کسی مخصوص ہنر یا پیشہ ورانہ تربیت کو ترجیح دی۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم پر ہونے والے اخراجات بھی معمولی نہیں۔ ٹیوشن فیس، کتابیں، سفری اخراجات، رہائش اور دیگر ضروریات کو شامل کیا جائے تو ایک خاندان کو چار سال کے دوران لاکھوں روپے خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اس کے باوجود گریجویشن کے بعد ملازمت کی کوئی یقینی ضمانت نہیں ہوتی۔

اصل مسئلہ صرف یونیورسٹی کی فیس نہیں بلکہ وقت بھی ہے۔ ایک نوجوان اپنی زندگی کے اہم چار یا پانچ سال کسی ایسے شعبے میں گزار دیتا ہے جس میں ملازمتوں کے مواقع محدود ہوں، جبکہ اسی عرصے میں وہ کوئی عملی اور مارکیٹ میں مطلوب ہنر سیکھ کر آمدنی شروع کرسکتا تھا۔ یہ بھی قابلِ غور بات ہے کہ بہت سے تعلیمی ادارے طلبہ کو داخلہ دیتے وقت یہ واضح نہیں کرتے کہ ان کے فارغ التحصیل طلبہ میں سے کتنے افراد کو ملازمت ملی، کتنی مدت میں ملازمت ملی اور ان کی ابتدائی تنخواہ کتنی تھی۔ ایسے اعداد و شمار والدین اور طلبہ کو تعلیمی فیصلے کرنے میں انتہائی مدد دے سکتے ہیں۔ والدین کو بھی صرف یونیورسٹی کا نام، خوبصورت عمارت اور چمک دمک دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں یہ ضرور پوچھنا چاہیے کہ اس ادارے کے فارغ التحصیل طلبہ کہاں کام کر رہے ہیں، ان کی اوسط ابتدائی آمدنی کیا ہے اور متعلقہ شعبے میں مستقبل میں روزگار کے کتنے مواقع موجود ہیں۔ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے تیزی سے پھیلاؤ نے روزگار کی نوعیت کو بھی بدلنا شروع کردیا ہے۔ ایسے بہت سے کام جو پہلے انسان گھنٹوں میں انجام دیتے تھے، اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے چند منٹوں میں مکمل ہوسکتے ہیں۔

اس تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل میں انسانوں کے لیے کام ختم ہوجائے گا، بلکہ کام کی نوعیت تبدیل ہوگی۔ معمولی، بار بار دہرائے جانے والے اور کم مہارت والے کام زیادہ خطرے میں ہیں، جبکہ ایسے افراد کی طلب بڑھ سکتی ہے جو ٹیکنالوجی کو سمجھتے ہوں، مسائل حل کرسکتے ہوں اور مخصوص شعبے میں گہری مہارت رکھتے ہوں۔ اسی لیے صرف ڈگری حاصل کرنے کے بجائے یہ سوچنا ضروری ہے کہ اس ڈگری کے ساتھ کون سا عملی ہنر حاصل کیا جا رہا ہے۔ مستقبل میں ایک ایسی ڈگری جس کے ساتھ کوئی قابلِ استعمال مہارت نہ ہو، ممکن ہے کہ ایک مختصر مگر اعلیٰ معیار کی پیشہ ورانہ تربیت کے مقابلے میں کم فائدہ دے۔دنیا کے کئی شعبوں میں ووکیشنل اور ٹیکنیکل تربیت حاصل کرنے والے افراد کی مانگ مسلسل موجود ہے۔ الیکٹریشن، پلمبر، ٹیکنیشن، ویلڈر، مکینک اور دیگر ہنرمند افراد عملی معیشت کا اہم حصہ ہیں اور ان کی خدمات کے بغیر روزمرہ زندگی کا نظام چلانا مشکل ہے۔اسی طرح نرسنگ، پیرا میڈیکل اور ہیلتھ کیئر کے شعبے بھی ایسے میدان ہیں جہاں عملی مہارت، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ قابلیت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ مناسب تربیت اور مطلوبہ سرٹیفیکیشن کے ساتھ ان شعبوں میں ملک کے اندر اور بیرون ملک بھی مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔

ڈیجیٹل دنیا نے نوجوانوں کے لیے مزید راستے بھی کھول دیے ہیں۔ سافٹ ویئر، سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ ٹیکنالوجی، ڈیٹا اینالیٹکس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر مخصوص شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد عالمی مارکیٹ میں اپنی خدمات پیش کرسکتے ہیں۔Revenue Cycle Management یعنی صحت کے شعبے سے متعلق مالی اور انتظامی کام بھی ایک ایسا شعبہ ہے جس میں مخصوص تربیت حاصل کرکے نسبتاً کم مدت میں پیشہ ورانہ سفر شروع کیا جاسکتا ہے۔ تاہم کسی بھی شعبے کو ملازمت کی ’’گارنٹی‘‘ سمجھنے کے بجائے اس کی موجودہ طلب، تربیت کے معیار اور ملازمت کے حقیقی اعداد و شمار ضرور دیکھنے چاہییں۔اصل کامیابی اس بات میں نہیں کہ آپ کے پاس کتنے کاغذی سرٹیفکیٹ موجود ہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ آپ حقیقت میں کیا کرسکتے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو کسی مسئلے کو حل کرنا جانتا ہو، کاروبار کے لیے قدر پیدا کرسکتا ہو یا کسی مشکل کام کو دوسروں سے بہتر انداز میں انجام دے سکتا ہو، اس کی مارکیٹ ویلیو زیادہ ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں ’’بی اے، بی ایس سی، بی کام یا کسی بھی ڈگری‘‘ کے حصول کو اکثر منزل سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ ڈگری صرف سفر کا ایک مرحلہ ہونی چاہیے۔ اصل منزل قابلِ روزگار مہارت، تجربہ، آمدنی اور پیشہ ورانہ ترقی ہونی چاہیے۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یونیورسٹی کی تعلیم بے فائدہ ہوچکی ہے۔ میڈیسن، انجینئرنگ، قانون، تحقیق اور کئی دوسرے شعبوں میں باقاعدہ اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ ڈگری لازمی یا انتہائی اہم ہے۔ مسئلہ یونیورسٹی جانے میں نہیں بلکہ بغیر تحقیق کے کسی بھی ڈگری کو مستقبل کی ضمانت سمجھنے میں ہے۔آج کے والدین اور نوجوانوں کو ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ کے بجائے ’’مارکیٹ کیا مانگ رہی ہے‘‘ پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر کسی شعبے میں ہزاروں گریجویٹس موجود ہوں لیکن ملازمتیں محدود ہوں تو صرف معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اسی راستے پر چلتے رہنا دانشمندی نہیں۔یونیورسٹی میں داخلے سے پہلے ایک نوجوان کو اپنے آپ سے چند بنیادی سوالات کرنے چاہییں: کیا اس شعبے میں پانچ یا دس سال بعد بھی روزگار کے مواقع ہوں گے؟ کیا اس تعلیم کی لاگت مناسب ہے؟ کیا اس کے ساتھ عملی تجربہ حاصل ہوگا؟ اور کیا اس شعبے میں میری دلچسپی اور صلاحیت واقعی موجود ہے؟ اسی طرح والدین کو بھی چاہیے کہ بچوں کی صلاحیتوں کو سمجھیں۔ ہر بچہ ڈاکٹر، انجینئر یا یونیورسٹی گریجویٹ بننے کے لیے پیدا نہیں ہوتا۔ کسی میں تکنیکی کام کی غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے، کسی میں کاروباری ذہن، کسی میں تخلیقی صلاحیت اور کسی میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سیکھنے کی غیر معمولی قابلیت۔

مستقبل ان لوگوں کا ہوسکتا ہے جو مسلسل سیکھنے کے لیے تیار رہیں۔ ایک ہنر سیکھ کر رک جانے کے بجائے نئی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور مارکیٹ کی تبدیلیوں کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو بھی اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہوگا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نوجوان اپنی تعلیم کو صرف ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ ایسی مہارت حاصل کریں جو حقیقی مسائل حل کرسکے۔ جس شخص کے پاس مارکیٹ میں مطلوبہ اور ثابت شدہ مہارت ہو، اس کے لیے ملازمت، فری لانسنگ، کاروبار یا عالمی مارکیٹ تک رسائی کے راستے زیادہ کھل سکتے ہیں۔لہٰذا یونیورسٹی جانے یا نہ جانے کا فیصلہ جذبات، معاشرتی دباؤ یا دوسروں کی دیکھا دیکھی نہیں بلکہ تحقیق، اخراجات، روزگار کے امکانات، ذاتی صلاحیت اور مستقبل کی مارکیٹ کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔ آج کے دور میں کامیابی کی اصل کنجی صرف ڈگری نہیں بلکہ ایسی مخصوص اور اعلیٰ معیار کی مہارت ہے جس کی دنیا کو واقعی ضرورت ہو۔