اے آئی (AI)

اے آئی (AI) کے ذریعے ہونے والے فراڈ سے امریکیوں کو ایک سال میں 2 کھرب 48 ارب روپے کا بھاری نقصان

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی تیز رفتار ترقی جہاں دنیا کو بدل رہی ہے، وہاں سائبر جرائم بھی ایک انتہائی خطرناک موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں۔ ایف بی آئی (FBI) کی رپورٹ کے مطابق، اب سائبر مجرموں نے معصوم شہریوں اور سرمایہ کاروں کو لوٹنے کے لیے ڈیپ فیک (Deepfake) ٹیکنالوجی کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔
ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ صرف انویسٹمنٹ اور سرمایہ کاری کے شعبے میں اے آئی فراڈز کے ذریعے اب تک ایک کھرب 75 ارب ڈالر کا خطیر نقصان ہو چکا ہے۔ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کے چہروں، آوازوں اور ویڈیوز کی ہو بہو نقل تیار کی جا رہی ہے۔ اب یہ ٹیکنالوجی اتنی جدید ہو چکی ہے کہ محض چند سیکنڈز کی آڈیو سے کسی بھی شخص کی آواز کی 85 فیصد تک درست نقل (Clone) بنانا ممکن ہو چکا ہے۔ ایف بی آئی کے مطابق، اب ہیکرز اور مجرم اوپن اے آئی، وائپتھر اور دیگر بڑے سسٹمز تک رسائی حاصل کرنے کی مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس جدید ترین سائبر کرائم کے نتیجے میں صرف ایک سال کے دوران امریکی شہریوں کو مجموعی طور پر 2 کھرب 48 ارب روپے کا ہولناک نقصان پہنچ چکا ہے، جو کہ دنیا بھر کے سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔