جوتوں کی بارش اور خوف کی وہ رات شیخوپورہ میں سٹیج شو کے دوران ایک تماشائی سٹیج پر چڑھ دوڑا اور رقص میں معروف اداکارہ شمع ناز چودھری پر جوتے برسا دئیے۔ جوتا گردہ کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ اداکارہ کی جانب سے پولیس کو مقدمے کے اندراج کیلئے درخواست دے دی گئی ہے جس میں شمع ناز نے اور بھی بہت کچھ کہہ دیا۔ اداکارہ نے لکھا ہے کہ مدعا علیہ نے جب سٹیج پر مجھے جوتے مارے تو میں نے چینجنگ روم میں پناہ کی مگر وہ اپنے ساتھیوں سمیت اس کمرے میں بھی پہنچ گئے، میرے کپڑے پھاڑ دییےور مجھے بے آبرو کرنے کو کوشش کی۔۔میرے شور شرابے پر میری بہن، میرا ڈرائیور اور سٹیج کی انتظامیہ کے لوگ بھی پہنچ گئے اور مجھے حملہ آور سے بچایا۔ حملہ آور میرے پرس سے نقدی اور زیورات بھی لے گئے، مجھ پر تشدد کیا جس کے نتیجے میں میرا جسم نیلا ہو چکا۔ ویڈیو دیکھنے والے جانتے ہیں کہ روشنیوں سے جگمگاتا اسٹیج، تالیوں کا شور، موسیقی کی گونج اور سینکڑوں تماشائیوں کی نظریں ایک فنکارہ پر جمی تھیں۔ کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا کہ چند لمحوں بعد یہی اسٹیج خوف، افراتفری اور تشدد کی علامت بن جائے گا۔ چند لمحوں میں خوشی کا ماحول چیخ و پکار میں بدل گیا۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو لوگوں نے حیرت، غصے اور افسوس کا اظہار کیا، مگر اس مختصر ویڈیو کے پیچھے چھپی کہانی اس سے کہیں زیادہ ہولناک بتائی جا رہی ہے۔ یہ سب قانون، تہذیب اور معاشرتی اقدار پر بھی سنگین سوال ہے۔ اختلاف، تنقید یا ناپسندیدگی کا اظہار ہر شخص کا حق ہو سکتا ہے، لیکن کسی کو تشدد، تذلیل یا ہراساں کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ عوامی تقریبات میں فنکاروں، خاص طور پر خواتین، کی حفاظت کو یقینی بنانا انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر حفاظتی انتظامات مؤثر ہوں تو ایسے واقعات کو روکا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، تمام شواہد کا جائزہ لیا جائے اور اگر کسی نے قانون شکنی کی ہے تو اسے قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔ فنکار بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ان کی عزت، جان اور تحفظ اتنا ہی اہم ہے جتنا کسی بھی دوسرے شہری کا۔ اختلاف رائے کی جگہ تشدد لے لے تو اس کا نقصان صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو پہنچتا ہے۔