جنوبی کوریا کے بڑے کاروباری ایس کے گروپ کے چیئرمین چے تے وون کو اپنی سابقہ اہلیہ روہ سو ہیونگ کو 944 ارب وون (تقریباً 179 ارب پاکستانی روپے) ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو مقامی ذرائع ابلاغ نے “صدی کی سب سے مہنگی طلاق” قرار دیا ہے۔ چے تے وون اور روہ سو ہیونگ کی شادی تقریباً 35 برس تک قائم رہی، مگر یہ رشتہ اس وقت ٹوٹ گیا جب یہ انکشاف ہوا کہ چے تے وون ایک دوسری خاتون سے بچے کے والد بن چکے ہیں۔ روہ سو ہیونگ جنوبی کوریا کے سابق صدر روہ تے وو کی بیٹی ہیں، اور طلاق کے بعد دونوں کے درمیان کئی برسوں سے اربوں وون مالیت کے اثاثوں کی تقسیم پر قانونی جنگ جاری تھی۔
2024 میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ چے تے وون کے سابق سسر نے 1991 میں اپنے خفیہ فنڈ سے انہیں 30 ارب وون فراہم کیے تھے، جس سے ایس کے گروپ کی ترقی میں مدد ملی، اس لیے روہ سو ہیونگ کمپنی کی دولت میں حصہ دار ہیں۔ تاہم بعد میں جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ نے اس استدلال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ رقم غیر قانونی خفیہ فنڈ سے آئی تھی، اس لیے اسے مشترکہ ازدواجی اثاثہ نہیں مانا جا سکتا۔ اسی بنیاد پر تازہ فیصلے میں قابلِ ادائیگی رقم کم کر دی گئی۔
ایس کے گروپ جنوبی کوریا کے طاقتور خاندانی کاروباری اداروں، جنہیں چیبول کہا جاتا ہے، میں شامل ہے۔ یہ گروپ ایس کے ہائنکس کا مالک ہے، جو مصنوعی ذہانت کے لیے جدید کمپیوٹر چپس تیار کرنے والی دنیا کی نمایاں کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو چپس فراہم کرتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ایس کے ہائنکس کی قدر میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے چے تے وون کی کاروباری حیثیت بھی مزید مستحکم ہوئی۔