Canada

کینیڈا میں تارکینِ وطن میں بھی شرحِ پیدائش تیزی سے کم مہنگائی اور ہاؤسنگ بحران نے خاندان چھوٹے کر دیے

کینیڈا میں تارکینِ وطن اور ان کی نئی نسل بھی اب کم بچے پیدا کرنے لگی ہے، جس سے ملک کی مستقبل کی آبادی اور افرادی قوت کے بارے میں نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ ویسٹرن یونیورسٹی کی 2001 سے 2021 کے مردم شماری کے اعداد و شمار پر مبنی تحقیق کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں تارکینِ وطن اور کینیڈا میں پیدا ہونے والے افراد کے درمیان شرحِ پیدائش کا فرق نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی، گھروں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں، بچوں کی تعلیم و تربیت کے اخراجات اور بدلتے سماجی رجحانات کی وجہ سے زیادہ تر خاندان کم بچوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ کم عمری میں کینیڈا آنے والے تارکینِ وطن (1.5 جنریشن) میں شرحِ پیدائش پہلی نسل اور مقامی کینیڈین شہریوں دونوں سے بھی کم دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو امیگریشن کے باوجود کینیڈا کو مستقبل میں عمر رسیدہ آبادی اور افرادی قوت کی کمی جیسے مسائل کا سامنا رہے گا، کیونکہ صرف نئے تارکینِ وطن کی آمد آبادی کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کو امیگریشن کے ساتھ ساتھ رہائش، بچوں کی نگہداشت اور زندگی گزارنے کے بڑھتے اخراجات جیسے بنیادی مسائل پر بھی توجہ دینا ہوگی۔