بجلی کا ترسیلی نظام وبالِ جان بن گیا؟ میاں اشفاق انجم ، ویلیو ٹاک

ملک کے طول عرض میں اگر کسی پاکستانی سے سوال کیا جائے آپ کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے مجھے یقین ہے جہاں وہ مہنگائی،بیروزگاری کا رونا روئے گا وہاں بجلی کے بلوں کی کہانی ضرور سنائے گا۔ مون سون اور جولائی کے حبس والے دِنوں میں سکون کے لئے بجلی یقینا راحت کا سامان فراہم کرتی تھی، مگر افسوس ہمارے ہاں اُلٹی گنگا بہہ رہی ہے جب سے حکمرانوں کو یقین ہوا ہے ہمیں ووٹ کے لئے عوام کی ضرورت نہیں ہے اس کے بعد اُن کے زیادہ فیصلے مفادات کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں،حکمرانوں کو اس لئے عوام کے پاس جانے سے بھی خوف محسوس ہوتا ہے یہی وجہ ہے موجودہ حکومت جس کے تین سال مکمل ہونے والے ہیں اس نے عوام کے لئے اب تک جتنے منصوبے بنائے اس میں عوام کی جیبوں سے پیسے نکالنے ، بنکوں میں موجود رقوم پر ڈاکہ ڈالنے،عوام کی پراپرٹی کو کنٹرول کرنے اور براہِ راست وصول کئے جانے والے ٹیکسز کو ٹارگٹ بنایا ہے اس کی مثال پٹرول کی پہلے نمبر اور بجلی کی دوسرے نمبر پر دی جا سکتی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں کے فیصلے ایک ماہ بعد ہوتے تھے پھر اسے پندرہ دن پر لایا گیا اِس وقت آٹھ دن بعد بابرکت جمعتہ المبارک کے دن رات کو مہنگائی کا بم گرایا جاتا ہے۔خبریں آ رہی ہیں ایران امریکہ جنگ جو خلیج تک پھیل چکی ہے عالمی جنگ کے نقارے بج رہے ہیں اب پٹرول کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر ہو گا۔ بات پٹرول کے ذریعے عوام پر نازل کئے جانے والے عذاب کی طرف چلی گئی۔ میں بات کر رہا تھا ”بجلی کی“ جو عوام کا کچومر نکالنے کے لئے کافی ہے۔عوام نے تنگ آ کر سولر کا سہارا لیا وزیراعظم سمیت وزیر بجلی نے عوام کو سولر کا راستہ دکھایا، ٹیکس فری کرنے کا اعلان کیا، عوام نے واپڈا کے قہر سے چھٹکارا پانے کے لئے سولر لگوانے کی طرف توجہ دینا شروع کر دی۔ گرین میٹر متعارف کرا دیا گیا عوام مزید ایک قدم آگے بڑھے اور نیٹ میٹرنگ کی طرف آ گئے جب پوری طرح عوام یکسو ہو گئی کہ واپڈا کے عذاب سے نجات کا بہترین ذریعہ سولر کا نظام ہے عوام کو سولر نیٹ میٹرنگ کی ترغیب دینے والے حکمرانوں کو اندازہ ہوا ہم تو غلط فیصلہ کر بیٹھے ہیں اربوں روپے بند فیڈر کے باوجود آئی پیز کو دینے والوں کو معیشت خطرے میں لگنے لگی۔انہوں نے فوری طور پر تھنک ٹینک بٹھایا،عوام جو سولر اور میٹرنگ کے ذریعے سکون پانے لگیں ہیں اس کا نوٹس لیا جائے۔ آئی ایم ایف کو جواز بنا کر سولر لگانے والوں کی نیٹ میٹرنگ ختم کرنے، ٹیکس بڑھانے سمیت عوام کو تنگ کرنے کے مزید منصوبے متعارف کرا دیئے گئے۔اندر کی کہانی وہی تھی بجلی عوام خود پیدا کر رہے تھے حکمرانوں کے بجلی بلوں کے ذریعے عوام کو لوٹنے کے پروگرام تہس نہس ہوتے نظر آئے کیونکہ عوام آگاہ تھے۔ قیام پاکستان سے اب تک بجلی کے بلوں کے ذریعے دس طرح کے مختلف مدعات میں ٹیکس ریکوری کا ذریعہ صرف بجلی کے بل تھے۔گذشتہ پندرہ سال سے نیلم جہلم ڈیم ہو یا پی ٹی وی کا ٹیکس،ایف ای ڈی ہو یا دیگر ٹیکس اس تفصیل میں جانا نہیں چاہتا، عوام کی آنکھیں کھلی تو سولر نظام نیٹ میٹرنگ کے خاتمے کے فیصلے پر عوام نے شدید ترین ردعمل دیا، ظالمانہ فیصلہ واپس ہوا۔ وقتی طور پر تو آئی ایم ایف کو بنیاد بنا کر مسلط کیے گئے فیصلے ٹل گئے ہیں عوام خوش فہمی میں نہیں ہیں انہیں اندازہ ہے پینترا بدل کر دوبارہ آئیں گے اس لئے انہوں نے اپنے آپ کو مشکل میں ڈال کر سولر کے نظام کو مزید جدید بناتے ہوئے بیٹریوں سے جوڑنا شروع کر دیا ہے اور حکمرانوں کو پتہ چل گیا ہے عوام نے سولر نیٹ میٹرنگ کے بعد بیٹریوں کے نظام کی طرف رُخ کر لیا انہیں واپڈا کی محتاجی نہیں رہے گی اس لئے انہوں نے طریقہ کار بدلتے ہوئے دوسرے منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے۔ رونا کس کس بات کا رویا جائے 200یونٹ اور201یونٹ کے فرق کی کہانی سوشل میڈیا نے جس انداز میں بے نقاب کی ہے عوامی ردعمل سامنے آیا ہے اس پر بھی حکومتی حلقوں نے واپڈا کے وزیر کو حل نکالنے کی ہدایت کی ہے۔ عوامی دباﺅ اور سوشل میڈیا کے کمالات کی وجہ سے واپڈا کے گریڈ18سے20 کے ملازمین کو فری یونٹ دینے کا فیصلہ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔ بظاہر بہت بڑا اقدام ہے لیکن زمینی حقائق کے مطابق دیکھا جائے تو 18سے20گریڈ کے واپڈا کے ملازمین کی تعداد دس فیصد بھی نہیں بنتی،95فیصد ملازمین گریڈ ایک سے سترہ تک کے مفت یونٹ کے مزے نہیں لے رہے بلکہ اپنے خاندانوں کو بھی دے رہے ہیں۔عوام کو ان سب کے مفت یونٹ کے خلاف بھی تحریک جاری رکھنی چاہئے۔ آج کے کالم میں جو واپڈا کے لیسکو فیسکو یا دیگر منسلک کمپنیوں کی کہانی بیان کرنا چاہتا تھا ابھی تک اس کی طرف نہیں آ سکا ہوں۔ وہ ہے واپڈا کے بجلی کا ترسیلی نظام جو صرف اگر میں لیسکو کے نظام کو دیکھوںتو اندازہ ہوتا ہے لیسکو کا سپلائی سسٹم سو فیصد فیل ہو چکا ہے بجلی کا گھنٹوں بند رہنا اور ایک فیز کا آنا، دو کا بند رہنا، دو کا آنا، ایک کا خراب ہو جانا،بجلی کی ٹرپنگ معمول ہے اسی وجہ سے بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ عذاب بن گئی ہے۔ ہمارا پورا اقبال ٹاﺅن شدید کرب میں ہے۔اس کی وجہ بجلی پر شکایات درج کرانے، فوری ازالے کا نظام انتہائی ناقص ہے، شکایات درج کرانے کے گھنٹوں بعد تک بجلی نہیں آتی۔بات دوسری طرف نکل گئی لیسکو کا ترسیلی نظام اتنا نازک اور بےہودہ ہے اگر100ٹرانسفارمر ہیں تو95 ٹرانسفارمر جلنے اور سڑنے کے لئے آندھی اور بارش کے منتظر رہتے ہیں۔لیسکو کے ریکوری نظام پر بات نہیں کروں گا، لاکھوں کے بلز پر بھی بات نہیں کروں گا۔ وزیراعظم سے وزیر بجلی سے درخواست کروں گا لیسکو کے سپلائی نظام کو ازسر نو مرتب کیا جائے،مانیٹرنگ شکایات کے ازالے کا نظام بنایا جائے ، پورے پورے علاقے کو لائن مین کے رحم کرم پر نہ چھوڑا جائے،دس دس گھنٹے بجلی بند رکھنا جرم ہے، غیر اخلاقی ہے، ٹرپنگ سے ہونے والے نقصانات کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے، تازہ ترین انکشاف ہوا ہے عوامی دباﺅ میں بجلی کے نظام کو اَپ گریڈ کرنے پر200 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے وہ جولائی کے بلوں سے صارفین سے وصول کیا جائے گا۔ عوام واپڈا لیسکو کے گور کھ دھندے سے کب نکلیں گے؟