لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی لاہور میں ویمن ایجوکیشن کا معتبر ادارہ ہے۔ یہاں پچاس سے زائد مضامین میں انڈر گریجوایٹ اور پوسٹ گریجوایٹ ایجوکیشن کی سہولت دستیاب یے۔۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کی قیادت میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ یے۔ اکیڈمیا انڈسٹری لنکجز پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کے تعلیمی اداروں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ وہ جامعات جو محض نصابی تعلیم تک محدود نہ رہیں بلکہ تحقیق، اختراع، صنعت سے روابط، عالمی اشتراک، ذہنی و جسمانی صحت، کردار سازی اور طلبہ کی عملی تربیت پر یکساں توجہ دیں، وہی مستقبل کے باصلاحیت اور ذمہ دار شہری تیار کرتی ہیں۔ پاکستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے میدان میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ایک ایسا ہی معتبر اور باوقار ادارہ ہے جو کئی دہائیوں سے علمی، تحقیقی اور سماجی خدمات کے ذریعے اپنی منفرد شناخت قائم کیے ہوئے ہے۔ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی آج خواتین کی اعلیٰ تعلیم کا ایک مضبوط مرکز بن چکی ہے جہاں پچاس سے زائد مضامین میں انڈر گریجویٹ، گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح پر معیاری تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ ہزاروں طالبات یہاں جدید علوم، تحقیق، ٹیکنالوجی، کاروباری مہارتوں اور قائدانہ صلاحیتوں سے آراستہ ہو کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ جامعہ کی شناخت صرف بہترین تدریس نہیں بلکہ ایک ایسا تعلیمی ماحول بھی ہے جہاں طالبات کی ذہنی، اخلاقی، سماجی اور پیشہ ورانہ تربیت کو یکساں اہمیت دی جاتی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کی متحرک اور دوراندیش قیادت میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی نے حالیہ برسوں میں ترقی کے نئے سنگ میل عبور کیے ہیں۔ ان کی قیادت میں جامعہ نے تحقیق، بین الاقوامی روابط، مصنوعی ذہانت، صنعت سے اشتراک، طلبہ کی فلاح، اساتذہ کی استعداد کار اور عالمی معیار کی تعلیم کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ یہی وژن جامعہ کو بدلتے ہوئے عالمی تعلیمی منظرنامے کے ساتھ ہم آہنگ کر رہا ہے۔اسی سلسلے کی ایک اہم مثال پاکستان اور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کی تقریب میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی بھرپور نمائندگی ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے منعقدہ اس باوقار تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے سرکاری جامعات کی نمائندگی کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان مستقبل کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جامعات کے درمیان تحقیقی تعاون، علمی تبادلے اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، قابلِ تجدید توانائی، زراعت، صحت اور نوجوانوں کی کاروباری صلاحیتوں جیسے شعبوں میں مشترکہ تحقیق کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند، شہد سے زیادہ میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے۔ تقریب میں پنجاب کے وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن، صوبائی وزیر صنعت چوہدری شافع حسین، ایف پی سی سی آئی کی قیادت، مختلف سرکاری اداروں کے نمائندوں اور متعدد ممتاز شخصیات نے شرکت کی جبکہ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹر حفصہ بتول اور ڈاکٹر منیبہ افتخار بھی شریک ہوئیں۔ بین الاقوامی روابط کے ساتھ ساتھ جامعہ نے اکیڈیمیا اور صنعت کے درمیان مضبوط تعلقات قائم کرنے کی جانب بھی اہم پیش رفت کی ہے۔ اسی مقصد کے تحت لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی اور جے ایس بینک کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی اور جے ایس بینک کے کنٹری ہیڈ ٹرانزیکشن بینکنگ عمران بھمانی نے دستخط کیے۔ تقریب میں رجسٹرار محمود علی، خزانچی پروفیسر ڈاکٹر ابوذر، ڈائریکٹر اورک پروفیسر ڈاکٹر صائمہ شریف سمیت جے ایس بینک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس اشتراک کے تحت طالبات کو انٹرن شپ، عملی تربیت، پیشہ ورانہ مہارتوں کے فروغ اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں گے، جس سے تعلیم اور عملی زندگی کے درمیان موجود خلا کم ہوگا۔ موجودہ دور میں طلبہ کی ذہنی صحت بھی جامعات کی اہم ذمہ داری بن چکی ہے۔ اسی تناظر میں لاہور کی جامعات کے وائس چانسلرز کی مشترکہ کاوش سے اساتذہ اور انتظامی عملے کو طلبہ کی ذہنی و نفسیاتی رہنمائی کے لیے تربیت دینے کا ایک جامع ماسٹر ٹریننگ پروگرام شروع کیا گیا۔ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی نمائندگی ڈاکٹر مامونہ ریاض نے کی، جنہوں نے انسٹیٹیوٹ فار آرٹ اینڈ کلچر اور پنجاب یونیورسٹی کے سینٹر فار کلینیکل سائیکالوجی میں منعقدہ چار روزہ تربیتی پروگرام میں شرکت کی۔ تربیت کے دوران رہنمائی، نفسیاتی مشاورت، طلبہ کی ذہنی معاونت اور عملی مشاورتی مہارتوں پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ جامعات میں محفوظ، ہمدرد اور طالب علم دوست ماحول کو فروغ دیا جا سکے۔ جامعہ میں اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ فیکلٹی ڈویلپمنٹ سینٹر نے سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹوز کے تعاون سے جزوی طور پر ہائیڈروجنیٹڈ تیلوں کے صحت پر مضر اثرات اور ان کے استعمال کو محدود کرنے سے متعلق پالیسی اقدامات پر ایک اہم ورکشاپ منعقد کی۔ اس کا مقصد اساتذہ میں صحت عامہ سے متعلق شعور بیدار کرنا اور غیر متعدی بیماریوں کی روک تھام کے لیے سائنسی بنیادوں پر پالیسی سازی کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ مصنوعی ذہانت آج صحافت سمیت ہر شعبے کو تبدیل کر رہی ہے۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے شعبۂ ابلاغِ عامہ نے میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کے تعاون سے اے آئی جرنلزم لیب کا انعقاد کیا۔ ادارے کے سربراہ اسد بیگ اور ٹیکنالوجی ماہر سید جریع اللہ شاہ نے طالبات اور اساتذہ کو مصنوعی ذہانت کے صحافت میں استعمال، خبر کی تصدیق، اخلاقی اصولوں، مواد کی تیاری اور مستقبل کے ڈیجیٹل نیوز رومز سے متعلق جدید رجحانات سے آگاہ کیا۔ یہ تربیت اس بات کا ثبوت ہے کہ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی اپنی طالبات کو مستقبل کی صحافت کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنا رہی ہے۔ اسی طرح ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے دو روزہ تربیتی ورکشاپ “پیشہ ورانہ استعداد اور ادارہ جاتی ہم آہنگی” کا انعقاد بھی جامعہ کی جدید سوچ کا عکاس ہے۔ اس ورکشاپ میں سینئر اساتذہ اور انتظامی افسران کو مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال، انتظامی امور، تدریسی حکمت عملی، تحقیقی منصوبہ بندی، مذاکراتی مہارت، اسٹریٹجک سوچ اور مؤثر قیادت سے متعلق جدید تربیت فراہم کی گئی۔ اختتامی تقریب میں وائس چانسلر نے شرکا میں اسناد تقسیم کرتے ہوئے اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کو جامعہ کی کامیابی کا اہم ستون قرار دیا۔ مزید برآں شعبۂ کیمیا کی جابر بن حیان کیمیکل سوسائٹی کے زیر اہتمام “منشیات سے پاک زندگی کے لیے احتیاطی تدابیر” کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منعقد کیا گیا۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کی ماہر ڈاکٹر ماریہ علی نے طالبات کو منشیات کی مختلف اقسام، ان کے نقصانات، نوجوان نسل پر ان کے تباہ کن اثرات اور ان سے بچاؤ کی عملی تدابیر سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آگاہی، معیاری تعلیم، مضبوط خاندانی نظام اور ذمہ دارانہ فیصلے ہی نوجوان نسل کو اس خطرے سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ افیئرز ڈاکٹر سمیرا سجاد نے بھی جامعہ میں منشیات سے پاک ماحول اور طالبات کی شخصیت سازی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ سوال و جواب کی نشست نے طالبات کو اپنی تشویشات کے اظہار اور ماہرین سے رہنمائی حاصل کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا۔